*🎍﷽ 🎍*
*💐 گلدستہ مغفرت 💐*
*⚄ پارٹ↝01 ⚄*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _شرک و کفر اور بغض و حسد سے بچئے, آپ کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں پھر ہر اس مومن کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو مگر وہ شخص کہ اس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان بغض، دشمنی اور کینہ ہو۔*
*❉_ حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے ارشاد فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں (یعنی ان کی مغفرت کو صلح پر موقوف رکھو )_,*
*📗 (رواه مسلم)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝02 ⚄*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ شعبان کی پندرہویں رات میں شرک کرنے والے اور بغض وعداوت رکھنے والے کے سوا سب کے گناہ معاف :-*
*❉_حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_حق تعالٰی شانہ شعبان کی پندرہویں رات کو اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتے ہیں، اور اپنی تمام مخلوق کی مغفرت فرما دیتے ہیں سوائے مشرک کے اور بغض و عداوت رکھنے والے کے _,*
*📗( کنز العمال ۷۴۶۴، ۴۶۷/٣, رواه الطبرانی و ابن حبان في صحيحه، كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه -۱۱۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝03 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞_ جو شرک، جادو اور کینہ سے بچا اس کے گناہ معاف _,*
*❉ _حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, تین خصلتیں ایسی ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی کسی میں نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ان کے علاوہ کی مغفرت فرما دیتے ہیں جس کے لیے چاہیں :-*
*❉ _ (1) جو اس حال میں مرے کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو،*
*"_(۲) جادو گر نہ ہو کہ جادو گروں کے پیچھے پھرتا رہے,*
*"_(۳) اور اپنے بھائی سے کینہ نہ رکھتا ہو۔"*
*📗(اخرجه الطبراني كذا في الترغيب جلد ۳ صفحه ٤٦١، کنز العمال ۸۴۰/۱۵ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝04 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ عالم با عمل بنیے، گناہ معاف _,*
*❉_ قیامت کے دن اللہ تعالی فرمائیں گے "اے علماء کی جماعت ! میں نے تمہارے سینوں میں صرف اس لیے علم رکھا تھا کہ تمہارے ذریعہ سے اپنی پہچان کراؤں، اُٹھو! بے شک میں تم کو معاف کر چکا ہوں۔"*
*📗 (اخرجه الطيبي في الترغيب عن جابر، كنز العمال -١٠/١٧٣)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝05 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞_ جو علم دین کی طلب میں لگ گیا اس کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت سخيرة رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جو علم کی طلب میں لگ گیا اس کے گذشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی_,*
*📗 (اخرجه الترمذي في فضل العلم ٩/٢)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝06 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _جو طلب علم کے لیے نکلا اس کے گناہ معاف _,*
*_❉ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس بندے نے جوتا پہنا یا چرمی موزہ پہنا یا کوئی لباس پہنا علم کی طلب میں تو اللہ تعالٰی اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں حتیٰ کہ وہ اپنی گھر کی دہلیز پر پہنچے ۔"*
*📗 (اخرجه الطبراني كذا في الترغيب, جلد 1، صفحه -۱۰۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝07 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ طالب علم کے احترام میں فرشتے پرواز روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور عالم دین کے لیے تمام مخلوق مغفرت کی دعا کرتی ہے:-*
*❉_ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا-*
*"_ جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستہ پر چلے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرمادیں گے اور اس کے اس عمل سے خوش ہو کر فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پروں کو رکھ دیتے ہیں (یعنی پرواز روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں ) اور عالم کے لیے آسمانوں کی تمام مخلوق اور زمین کی تمام مخلوق دعائے مغفرت کرتی ہے حتیٰ کہ مچھلیاں پانی میں،*
*❉_ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چاند کی فضیلت باقی ستاروں پر ، اور تحقیق علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیا علیہم السلام دینار اور درہم کا کسی کو وارث نہیں بناتے وہ تو علم کا اورث بناتے ہیں لہٰذا جس نے علم حاصل کیا اس نے بہت بڑی خیر حاصل کر لی،*
*📗 ( الترندی باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة من كتاب العلم ٩٣/٢)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝08 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ دن کے شروع اور آخری حصہ میں نیک کام کیجیے درمیان کے گناہ معاف :-*
*❉_ جس شخص نے دن کا آغاز بھلے کام سے کیا اور دن کی انتہا بھلے کام سے کی اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں:-*
*"_ اس کے درمیانی حصہ کے گناہوں کو مت لکھو۔*
*📗 (کنز العمال ۴۳۰۸۱:۷۸۱/۱۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝09 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _جس نے آئندہ اچھے کام کئے اس کے پچھلے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم میں کا ارشاد ہے -*
*"_ جس نے باقی آئندہ زندگی میں اچھے عمل کیے تو ماضی کے گناہوں کی بخشش کر دی جائے گی، اور جس نے باقی آئندہ زندگی کو برے اعمال اور غفلت میں گزار دیا تو گذشتہ ایام اور باقی ایام دونوں کا مواخذہ ہوگا۔*
*📗 (اخرجه الطبراني باسناد حسن كنز العمال ۲۴۴/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝10 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞_ نیک کام کرو اور بڑے گناہوں سے بچو چھوٹے گناہ معاف _,*
*❉ __حضرت ابو ہریرہ اور ابی سعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ نہیں ہے کوئی بندہ جو پانچوں نمازیں پڑھتا ہو، رمضان المبارک کے روزے رکھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو۔ ساتھ کبائر سے بچتا ہو مگر اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے قیامت کے دن کھول دیئے جائیں گے ۔*
*❉ _ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی- (إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ)[ النساء: 31] کہ جن کاموں سے تم کو منع کیا جا رہا ہے اگر تم ان میں سے جو بڑے بڑے گناہ ہیں بچتے رہو گے تو ہم تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ تم سے زائل کر دیں گے۔"*
*📗 (اخرجه ابن ماجه و ابن خزیمه و ابن حبان والحاكم وصححه كنز العمال ۸۶۲/۱۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝11 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر قرآن پڑھنا سکھایا اس کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جس نے اپنے بیٹے کو ناظرہ قرآن پڑھایا اس کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی۔*
*📗 ( الطبراني في الأوسط ۵۵۷/٣ : مجمع الزوائد ۷ / ۱٦٨)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝12 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اچھی طرح وضو کیجیے اور نماز پڑھیے، گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا -*
*"_ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں۔ جو شخص ان نمازوں کے لیے اچھی طرح وضو کرتا ہے اور انہیں مستحب وقت میں ادا کرتا ہے، رکوع (سجدہ) اطمینان کے ساتھ کرتا ہے اور پورے خشوع سے پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کی ضرور مغفرت فرمائے گا،*
*❉_ اور جو شخص ان نمازوں کو وقت پر ادا نہیں کرتا اور نہ ہی خشوع سے پڑھتا ہے تو اس سے مغفرت کا کوئی وعدہ نہیں۔ چاہے مغفرت فرمائے چاہے عذاب دے_,*
*📗 (رواه ابوداؤد باب المحافظة على الصلوات، رقم -٤٢٥)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝13 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞_ نماز کے لیے وضو کیجیے گناہوں کو دھو ڈالیں:-*
*❉_ حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_جب مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اور اس دوران کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔ جب وہ ناک صاف کرتا ہے تو ناک کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔ جب چہرہ دھوتا ہے تو چہرے کے گناہ دھل جاتے ہیں یہاں تک کہ پلکوں کی جڑوں سے نکل جاتے ہیں۔*
*❉_ جب ہاتھوں کو دھوتا ہے تو ہاتھوں کے گناہ دھل جاتے ہیں یہاں تک کہ ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتے ہیں۔ جب سر کا مسح کرتا ہے تو سر کے گناہ دھل جاتے ہیں یہاں تک کہ کانوں سے نکل جاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ دھل جاتے ہیں یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتے ہیں۔*
*❉_ پھر اس کا مسجد کی طرف چل کر جانا اور نماز پڑھنا اس کے لیے مزید ( فضیلت کا ذریعہ ) ہوتا ہے۔*
*📗(رواه النسائي باب مسح الأذنين، ۲۹/۱۱۰۳)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝14 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _نماز پڑھیے گناہوں سے پاک صاف ہو جائیں _,*
*❉_ حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر وضو کے بعد کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے جس میں اللہ تعالٰی کی ایسی حمد و ثنا اور بزرگی بیان کرتا ہے جو اس کی شان کے لائق ہے اور اپنے دل کو تمام فکروں سے خالی کر کے اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے تو یہ شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنے گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنا ہو،*
*📗 (رواه مسلم باب اسلام عمرو بن عبسة رقم ۱۹۳۰ ج ۱ ص ۲۷۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝15 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اگر کسی سے گناہ سرزد ہو جائے تو اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے، اور معافی مانگے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا-*
*"_ جس شخص سے کوئی گناہ ہو جائے پھر وہ اچھی طرح وضو کرے اور اٹھ کر دو رکعت نماز پڑھے پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے تو اللہ تعالی اسے معاف فرما دیتے ہیں۔*
*"❉_ اس کے بعد آپ صلی علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ﴾ (ال عمران ۱۳۵)*
*"_وہ بندے جن کا حال یہ ہے کہ جب ان سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے یا کوئی برا کام کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو جلد ہی انہیں اللہ تعالٰی یاد آجاتے ہیں پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کے طالب ہوتے ہیں اور بات بھی یہ ہے کہ سوائے اللہ تعالی کے کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا ہے اور برے کام پر وہ اڑتے نہیں اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ تو بہ سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں،*
*📗 ( رواه ابوداؤد باب الاستغفار رقم : ا / ۲۱۳)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝16 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ وضو کر کے فوراً درج ذیل دعا پڑھئے، دو وضووں کے درمیان جو گناہ کئے وہ معاف :-*
*❉_حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:-*
*"_ جس آدمی نے وضو کا ارادہ کیا پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈالا اور تین بار اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ کو کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں کو دھویا پھر بات کیے بغیر "اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" پڑھے تو اس وضو سے لے کر آئندہ وضو تک گناہوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔*
*📗(اخرجه ابو يعلى و الدار قطني كذا في الترغيب جلد 1 ، صفحه ۷۲، مسند ابی یعلی- ۱۵۷/۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝17 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ رات کو با وضو سویا کرو گناہ معاف:-*
*"❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ اپنے جسموں کو پاک رکھا کرو اللہ تعالیٰ تمہیں پاک رکھے گا کیوںکہ جو بندہ بھی با وضو رات گزارے گا تو اس کے ساتھ اس کے اندرونی کپڑے (یعنی بنیان وغیرہ ) میں ایک فرشتہ رات گزارتا ہے۔*
*"❉_ رات کی جس گھڑی میں بھی بندہ جب کروٹ لیتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے : اے اللہ ! اپنے اس بندے کی مغفرت فرما دے کیوںکہ اس نے با وضو رات گزاری ہے ۔*
*📗(رواه الطبراني في الأوسط باسناد جيد كذا في الترغيب جلد ۱ صفحه ۴۰۹ کنز العمال ۲۲۰۰۳:۲۷۷/۹)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝18 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی، اس کے پچھلے سارے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ جب تم میں سے کوئی ( سورہ فاتحہ کے آخر میں ) آمین کہتا ہے تو اسی وقت فرشتے آسمان پر آمین کہتے ہیں۔ اگر اس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل جاتی ہے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں _,*
*📗 ( بخاری ۱/ ۱۰۸ مسلم -١/١٧٦)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝19 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کے دن غسل کیجئے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جمعہ کے دن غسل کرنا گناہوں کو بالوں کی جڑوں سے سونت کر نکال دیتا ہے۔*
*📗_ (کنز العمال ۷۵۴/۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝20 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس کی تحمید فرشتوں کی تحمید سے مل گئی، اس کے پچھلے سارے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جب امام (رکوع سے اٹھتے ہوئے) "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے تو تم "اللهُمَّ رَبَّنَا لک الحمد" کہو۔*
*"❉_ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ مل جاتا ہے اس کے پچھلے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔"*
*📗_ (مسلم-١/١٧٦)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝21 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ چاشت کی دو رکعت پڑھنے کا اہتمام کیجیے گناہ معاف:-*
*❉_حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ جو چاشت کی دو رکعت پڑھنے کا اہتمام کرتا ہے اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں _,*
*📗 (ابن ماجہ ، صفحہ ۹۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝22 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اللہ کو راضی کرنے کے لیے نماز پڑھئے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سردی کے موسم میں باہر تشریف لائے اور پتے درختوں سے گر رہے تھے۔ آپ نے ایک درخت کی دو ٹہنیاں ہاتھ میں لیں ان کے پتے اور بھی گرنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا-*
*❉_ابوذر ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ! آپ نے ارشاد فرمایا- "مسلمان بندہ جب اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے نماز پڑھتا ہے تو اس سے اس کے گناہ ایسے ہی گرتے ہیں جیسے یہ پتے اس درخت سے گر رہے ہیں۔"*
*📗. (رواه احمد -۱۷۹/۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝23 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ تہجد کا اہتمام کیجیے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ تہجد ضرور پڑھا کرو۔ وہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے، اس سے تمہیں اپنے رب کا قرب حاصل ہوگا، گناہ معاف ہوں گے اور گناہوں سے بچے رہو گے ۔*
*📚_ (مستدرک حاکم- ۳۰۸/۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝24 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اشراق کی نماز پڑھئے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_جو شخص فجر کی نماز سے فارغ ہو کر اسی جگہ بیٹھا رہتا ہے، خیر کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتا پھر دو رکعت اشراق کی نماز پڑھتا ہے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں چاہے وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی ہوں _,*
*📚_ (ابوداؤد -ا /۱۸۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝25 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کے دن درج ذیل کام کیجئے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:-*
*" _جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جو اچھے کپڑے اسے میسر تھے وہ پہنے اور خوشبو لگائی اگر اس کے پاس ہو پھر وہ نماز جمعہ کے لیے حاضر ہوا اور اس کی احتیاط کی کہ پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کی گردنوں کے اوپر سے پھلانگتا ہوا نہیں گیا پھر (سنتوں اور نفلوں) کی اللہ نے توفیق دی وہ پڑھی،*
*"❉_ پھر جب امام خطبہ دینے کے لیے آیا تو ادب اور خاموشی سے اس کی طرف متوجہ ہو کر خطبہ سنا یہاں تک کہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو اس بندے کی یہ نماز اس جمعہ اور اس سے پہلے والے جمعہ کے درمیان گناہوں اور خطاؤں کے لیے کفارہ ہو جائے گی،*
*📗 (مسند احمد ۴۲۰/۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝26 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ رمضان میں تراویح کا اہتمام کیجئے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جو رمضان کی رات میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے اور اس کے اجر و انعام کے شوق میں نماز پڑھتا ہے اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں _,*
*📚_ (بخاری ۱۰/۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝27 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ پیدل چل کر آئیے اور جماعت سے نماز پڑھئے گناہ معاف _,*
*❉_حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :-*
*"_جو شخص کامل وضو کرتا ہے پھر فرض نماز کے لیے چل کر جاتا ہے اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کرتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں _,*
*📚_ (مسلم-١/١٢٢)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝28 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ گناہوں کو مٹانے والے چند اعمال :-*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ کیا میں تمہیں ایسے عمل نہ بتلاؤں جن کی وجہ سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتے ہیں اور درجے بلند فرماتے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتلائیے۔*
*"❉_ ارشاد فرمایا- "ناگواری و مشتقات کے باوجود کامل وضو کرنا۔ مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں رہنا، یہی حقیقی رباط ( دشمنان دین کی نگرانی کرنا) ہے۔"*
*📚_ (مسلم-١/١٢٧)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝29 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ بلند آواز سے اذان دیجیے، گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اگلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں، فرشتے ان کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، اور مؤذن کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے جو جاندار و بے جان اس کی اذان کو سنتے ہیں اس کی تصدیق کرتے ہیں اور مؤذن کو ان تمام نمازیوں کے برابر اجر ملتا ہے جنہوں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی _,*
*📚 (نسائی ، ١/١٠٦)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝30 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ پانچوں نمازوں کا اہتمام کیجئے، گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ پانچوں نمازیں، جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں جب کہ ان اعمال کو کرنے والا کبیرہ گناہوں سے بچے_,*
*📚 (مسلم-١/١٢٢)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝31 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جنابت کے بعد غسل کیجئے گناہ معاف,*
*"❉_ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک اور امانت کا ادا کرنا یہ اپنے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں،*
*"❉_ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! امانت کا ادا کرنا کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا- "_جنابت کے بعد غسل کرنا، کیوںکہ ہر بال کے نیچے جنابت یعنی نجاست ہوتی ہے۔*
*📚 (ابن ماجہ صفحہ ۴۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝32 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جمعہ کے دن درج ذیل اعمال کیجئے گناہ معاف :-*
*"❉ __ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرے اور جہاں تک ہو سکے صفائی، پاکیزگی کا اہتمام کرے اور جو تیل خوشبو اس کے گھر میں ہو وہ لگائے پھر وہ گھر سے نماز کے لیے جائے اور مسجد میں پہنچ کر اس کی احتیاط کرے کہ جو دو آدمی پہلے سے ساتھ بیٹھے ہوں ان کے بیچ میں نہ بیٹھے پھر جو نماز یعنی سنن, نوافل کی جتنی رکعتیں اس کے لیے مقدور ہوں وہ پڑھے،*
*"❉ __ پھر جب امام خطبہ دے تو توجہ اور خاموشی کے ساتھ اس کو سنے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کی اس کی ساری خطائیں ضرور معاف کر دی جائیں گی۔*
*❉ __ اور نسائی کی ایک روایت میں الفاظ حدیث یوں ہیں:-*
*"_جو بھی آدمی جمعہ کے دن غسل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے پھر وہ اپنے گھر سے نکلے حتی کے نماز جمعہ کے لیے وہ حاضر ہو جائے، پھر توجہ اور خاموشی کے ساتھ خطبہ کو سنے حتیٰ کہ وہ اپنی نماز پوری کر لے تو اس کی یہ نماز گذشتہ جمعہ کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی ۔"*
*❉ __اور طبرانی کی روایت کے آخر میں یوں ہے کہ اس بندہ کی نماز اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کی ساری خطاؤں کا کفارہ بن جائے گی جب تک کہ کبائر سے بچا رہے اور یہ برکت اس کو ہمیشہ ہمیشہ حاصل ہوتی رہے گی،*
*📗 رواه البخارى و النسائ و لترغيب جلد ۱ صفحه -۴۸۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝33 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ صف میں خالی جگہ ہو تو پُر کیجیے آپ کے گناہ معاف:-*
*❉ _حضرت ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا-*
*"_جس شخص نے صف میں خالی جگہ کو پُر کیا اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔"*
*📚 ( بزار مجمع الزوائد- ٢/٢٥١ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝34 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ ★_ جنگل میں رہنے والا جب اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جب کوئی بکریاں چرانے والا کسی پہاڑ کی جڑ میں ( یا جنگل میں ) اذان کہتا ہے اور نماز پڑھنے لگتا ہے تو حق تعالٰی شانہ اس سے بے حد خوش ہوتا ہے اور تعجب و تفاخر سے فرشتوں سے فرماتا ہے دیکھو جی میرا بندہ اذان کہہ کر نماز پڑھنے لگا یہ سب میرے ڈر کی وجہ سے کر رہا ہے۔ میں نے اس کی مغفرت کر دی اور جنت کا داخلہ طے کر دیا _,*
*📚_ (کذا فی کنز العمال ۲۹۴/۷ واللفظ لابي داؤد باب الاذان في السفر ۱۷۰/۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝35 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ نماز کے لیے پیدل آئیے اور جائیے، ہر قدم پر ایک گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو آدمی اس مسجد کی طرف چلے جہاں باجماعت نماز ہوتی ہو تو ہر ایک قدم اس کی ایک خطا کو مٹادے گا اور دوسرے قدم پر ایک نیکی لکھی جائے گی آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی ۔"*
*📚 الطبرانی - ١/٢٠٧,*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝36 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اذان سن کر درج ذیل دعا پڑھئے، آپ کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جو شخص مؤذن کی اذان سننے کے وقت (یعنی جب وہ اذان پڑھ کر فارغ ہو جائے ) یہ دعا پڑھے- "أَشْهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ باللهِ رَبًّا وَ بِالإسْلامِ دِينًا وَ بِمُحَمَّدٍ رَسُولًا" تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔"*
*📚 رواه مسلم والترمذي والنسائي و غيرهم كذا في الترغيب جلد ۱ صفحه -۱۸۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝37 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے سجدہ میں تین مرتبہ رَبِّ اغْفِرْ لِي کہا اس کے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس آدمی نے سجدہ کی حالت میں تین مرتبہ رَبِّ اغْفِرْ لِي کہا، سجدے سے وہ سر اٹھا نہیں پائے گا کہ اس کی مغفرت کر دی جائے گی ۔*
*📚 (کنز العمال ۱۹۸۰۸:۴۶۵/۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝38 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھی اس کے دن کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ جس نے ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھ لیں تو اللہ تعالٰی اس کے اس دن کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے ۔*
*📚 (کنز العمال -٧/٣٧٥)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝39 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کے دن خوب دھیان سے خطبہ سنئے، دس دن کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں,*
*❉_ اور جس شخص نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا یعنی دوران خطبہ ان سے کھیلتا رہا (یا چٹائی، کپڑے وغیرہ سے کھیلتا رہا) تو اس نے فضول کام کیا۔*
*📚_ (مسلم ۲۸۳/۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝40 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھی اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ میری امت مسلسل عصر سے پہلے چار رکعت پڑھتی رہے گی حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلے گی کہ یقیناً اس کی مغفرت کی جا چکی ہوگی _,*
*📚_ كنز العمال (۱۹۴۱۱:۳۸۴/۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝41 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھیں اس کے گناہ معاف:-*
*❉_ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے حبیب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے، اور حضور انور ﷺ نے فرمایا:-*
*"_ جو بندہ مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھے گا اس کے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں،*
*📚 (رواه الطبراني والثلاثة كذا في الترغيب جلد 1.صفحه ۴۰۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝42 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ میاں بیوی ایک دوسرے کو بیدار کریں اور تہجد پڑھیں دونوں کے گناہ معاف_,*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ و ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :-*
*"_ جب خاوند رات کو اپنی بیوی کو اٹھائے پھر دونوں تہجد پڑھیں تو ان دونوں کو بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھ دیا جاتا ہے _,*
*📚 ( رواہ ابوداؤد )*
*❉"_ جو آدمی رات کو بیدار ہو کر اپنی بیوی کو جگائے جس پر نیند کا غلبہ ہو رہا ہو ( اور غلبہ نیند کی وجہ سے اگر وہ نہ اٹھ سکی ) تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا دے دیا، پھر دونوں اپنے گھر میں عبادت کے لیے کھڑے ہوئے اور رات کی ایک گھڑی اللہ عز وجل کا ذکر کرنے لگے تو اللہ تعالٰی دونوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں ۔*
*📚 (کنز العمال ۷۹۳/۷: )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝43 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ صلاۃ التسبیح پڑھیے سارے گناہ معاف :-*
*❉_ حضور اقدس ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:- اے میرے چچا کیا میں تمہیں ایک عطیہ کروں؟ ایک بخشش کروں؟ ایک چیز بتاؤں؟ تمہیں دس چیزوں کا مالک بناؤں ؟ جب تم اس کام کو کرو گے تو حق تعالٰی شانہ تمہارے سب گناہ پہلے پچھلے پرانے اور نئے غلطی سے کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے چھوٹے اور بڑے، چھپ کر کیے ہوئے اور کھلم کھلا کیے ہوئے سب ہی معاف فرما دے گا،*
*❉_ وہ کام یہ ہے کہ چار رکعت نفل ( صلوۃ الشیخ کی نیت باندھ کر ) پڑھو اور ہر رکعت میں جب الحمد اور سورت پڑھ چکو تو رکوع سے پہلے کھڑے ہوئے "سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إله إلا الله واللهُ أَكْبَر" پندرہ مرتبہ پڑھو، پھر جب رکوع کرو تو دس مرتبہ اس میں پڑھوں؟ پھر جب رکوع سے کھڑے ہو تو دس مرتبہ پڑھو۔ پھر جب سجدہ کرو تو دس مرتبہ اس میں پڑھو، پھر سجدہ سے اٹھ کر بیٹھو تو دس مرتبہ پڑھو پھر جب دوسرے سجدہ میں جاؤ تو دس مرتبہ اس میں پڑھو، پھر جب دوسرے سجدہ سے اٹھو تو (دوسری رکعت میں ) کھڑے ہونے سے پہلے بیٹھ کر دس مرتبہ پڑھو۔ ان سب کی میزان ۷۵ ہوئی ۔ اسی طرح ہر رکعت میں ۷۵ دفعہ ہوگا۔*
*❉_ اگر ممکن ہو سکے تو روزانہ ایک مرتبہ اس نماز کو پڑھ لیا کرو یہ نہ ہو سکے تو ہر جمعہ کو ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو ہر مہینہ میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو یہ بھی نہ ہو سکے تو ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو یہ بھی نہ ہو سکے تو عمر بھر میں ایک مرتبہ تو پڑھ ہی لو۔*
*❉_ اور حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ سے اس نماز کا یہ طریقہ نقل کیا گیا ہے کہ سُبْحَانَكَ اللهم پڑھنے کے بعد الحمد شریف پڑھنے سے پہلے پندرہ دفعہ ان کلموں کو پڑھے پھر اعوذ اور بسم اللہ پڑھ کر الحمد شریف اور پھر کوئی سورت پڑھے۔ سورت کے بعد رکوع سے پہلے دس مرتبہ پڑھے، پھر رکوع میں دس مرتبہ، پھر رکوع سے اٹھ کر، پھر دونوں سجدوں میں اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دس مرتبہ پڑھے یہ ۷۵ ہو گئی، (لہذا دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ کر پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی ),*
*📚( اخرجه النسائي و ابوداؤد ۱۸۳/۱ و ابن ماجه و البيهقي في الدعوات والدارقطنی و ابن حبان و الطبراني و الحاكم و ابن خذيمه في صحيحه ),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝44 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھئے سارے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جب حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہو گئے تو اللہ تعالٰی سے یہ تین دعائیں مانگیں :-*
*(١) ایسا فیصلہ عطا فرما جو حکم الٰہی کے موافق ہو۔*
*(۲) اے اللہ مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے سوا کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔*
*(۳) جو بھی بندہ اس مسجد میں صرف نماز پڑھنے کی غرض سے حاضر ہو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے جس طرح ماں سے پیدائش کے دن تھا (یعنی کچھ بھی گناہ باقی نہ رہیں ),*
*❉_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " بہر حال پہلی دو دعائیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی قبول کر لی گئیں اور مجھے اللہ کی ذات عالی سے امید ہے کہ ان کی تیسری دعاء بھی قبول فرمائی گئی _,*
*📚 (النسائي في كتاب المساجد ۱۱۳/۱ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝46 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھئے، دن بھر کے گناہ معاف :-*
*❉_حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_مغرب اور عشاء کے درمیان نماز کو لازم پکڑو کیوںکہ یہ دن بھر کے گناہوں اور بیہودگیوں کو صاف کر دے گی ۔"*
*📚 کنز العمال ۳۸۷/۷ : ۱۹۴۲۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝47 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کے دن فجر کی نماز با جماعت پڑھئے، گناہ معاف :-*
*❉_حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جمعہ کے دن فجر کی نماز باجماعت پڑھنے سے کوئی نماز افضل نہیں ہے، اور میرا گمان یہ ہے کہ جو آدمی فجر کی نماز باجماعت پڑھے گا اس کی ضرور بضرور مغفرت کر دی جائے گی _,*
*📚 ( رواه البزار والطبراني )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝48 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے رضائے الٰہی کے لیے مسجد بنائی یا کنواں کھودا اس کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس نے خالص اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے اگر اسی دن مر گیا تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی،*
*"❉_ اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے کنواں کھودا تو اس کے لیے اللہ جنت میں گھر بنا ئیں گے اگر وہ اسی دن مر گیا تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی ۔*
*📚 (رواه الطبراني في الأوسط كنز العمال- ٧/٦٥٥)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝49 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ دس مرتبہ اللہ اکبر دس مرتبہ سبحان اللہ اور دس مرتبہ اللهُمَّ اغْفِرْلِ کہئے,آپ کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت سلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول الله ! مجھے چند کلمات بتا دیجیے مگر زیادہ نہ ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: -*
*"_ دس مرتبہ اللہ اکبر کہو، اللہ تعالی فرماتے ہیں: یہ میرے لیے ہے۔ دس مرتبہ سبحان اللہ کہو، اللہ تعالی فرماتے ہیں : یہ میرے لیے ہے اور کہو اللهُمَّ اغْفِرْ لِی اے اللہ ! میری مغفرت فرمادے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، میں نے مغفرت کر دی، تم اس کو دس مرتبہ کہو اللہ تعالٰی ہر مرتبہ فرماتا ہے میں نے مغفرت کردی۔*
*📚 (طبرانی و مجمع الزوائد -۱۰۹/۱۰)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝50 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ تیسرے کلمہ کا ورد کیجیے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ "سُبْحَانَ الله وَالحَمدُ لِلهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا الله وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ الا باللہ" کہا کرو، یہ باقیات صالحات ( باقی رہنے والی نیکیاں ) ہیں، اور یہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جس طرح درخت سے ( سردی کے موسم میں ) پتے جھڑتے ہیں اور یہ کلمات جنت کے خزانوں میں سے ہیں ۔*
*📚 (طبرانی و مجمع الزوائد- ۱۰۴/۱۰)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝51 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ مندرجہ ذیل دعا کیجئے گناہ معاف :-*
*❉_حضرت زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:-*
*"_ جو شخص " اسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ اتُوبُ إِلَيْهِ" کہے اس کی مغفرت کر دی جائے گی ....۔"*
*❉_ ایک روایت میں ان کلمات کو تین مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے۔* *(ترجمہ): میں اللہ تعالی سے مغفرت چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے اور اسی کے سامنے تو بہ کرتا ہوں _,*
*📚 (ابوداؤد ، مستدرک حاکم- ٢/١١٨)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝52 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ آپ کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تو مندرجہ ذیل کلمات کہیے سارے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ زمین پر جو شخص بھی "لا إله إلا الله واللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللہ" پڑھتا ہے تو اس کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں خواہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔*
*📚 (ترمذی -۱۸۴/۲)*
*"❉_ ایک روایت میں یہ فضیلت "سُبْحَانَ الله وَالحَمدُ لِلہ" کے اضافہ کے ساتھ ذکر کی گئی ہے۔*
*📚 (مستدرک حاکم -۵۰۳)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝53 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ سو مرتبہ سبحان اللہ کہتے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور ایک ہزار گناہ معاف _,*
*❉"_حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے ارشاد فرمایا-*
*"_ کیا تم میں سے کوئی شخص ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہے؟ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی آدمی ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟*
*❉"_ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا- جو شخص سو مرتبہ سبحان اللہ کہے گا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔“*
*📚 (مسلم ۲/ ۳۴۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝54 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ سو مرتبہ کہا کرو, آپ کے ایک لاکھ اور والدین کے چوبیس ہزار گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جس شخص نے جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر "سبحانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ " سو (۱۰۰) مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک لاکھ گناہ معاف فرما دیں گے اور اس کے والدین کے چوبیس ہزار گناہ معاف فرمادیں گے _,*
*📚 رواه ابن السني في عمل اليوم والليلة صفحه ١٦٤_,*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝55 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ بازار میں مندرجہ ذیل کلمات پڑھ کر قدم رکھیے دس لاکھ گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے بازار میں قدم رکھتے ہوئے یہ کلمات پڑھے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٍّ لَا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " الله تعالی اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتے ہیں، اور اس کی دس لاکھ خطائیں مٹا دیتے ہیں، اور دس لاکھ درجے اس کے بلند کر دیتے ہیں۔“*
*📚 (رواه الترمذى و قال هذا حديث غريب باب ما يقول اذا دخل السوق : رقم (۳۴۲۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝56 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہیے آپ کے گناہ معاف :-*
*"❉ _ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو بھی بندہ کسی وقت بھی دن میں یا رات میں لا إله إلا اللہ کہتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور ان کی جگہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔"*
*📚 (رواه ابو يعلى ، مسند ابو یعلی ۴۴۵/۳، مجمع الزوائد)*
*"❉ _ جب مسلمان بنده "لا إله إلا الله" کہتا ہے تو یہ کلمہ آسمانوں کو چیرتا ہوا اللہ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے تو حق تعالی شانہ ارشاد فرماتے ہیں ٹھہر جا۔ وہ عرض کرتا ہے کہ کیسے ٹھہر جاؤں حالانکہ میرے پڑھنے والے کی مغفرت نہیں ہوئی, حق تعالی شانہ ارشاد فرماتے ہیں میں نے اس کی مغفرت کرنے کے لیے ہی تجھ کو اس کی زبان پر جاری کیا تھا۔*
*📚 (کنز العمال ۱/ ۱۳۵:۴۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝57 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ *_ سونے والا جب کروٹ بدلے درج ذیل کلمات کہے گناہ معاف :-*
*❉ _ جب بندہ اپنے بستر پر یا زمین پر سونے کے لیے لیٹتا ہے پھر رات کو دائیں جانب یا بائیں جانب کروٹ لیتا ہے پھر وہ "اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَیی لَا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " پڑھتا ہے تو حق تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں میرے بندے کو دیکھو اس وقت بھی میرا بندہ مجھے بھولا نہیں میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس پر رحمت نازل کی اور اس کی مغفرت کر دی ۔*
*📚کنز العمال ۱۵/ ۴۱۳۱۵:۳۴۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝58 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ فجر کی نماز کے بعد سو مرتبہ سبحان اللہ اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھئے، سارے گناہ معاف :-*
. *❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس نے صبح کی نماز کے بعد سو (۱۰۰) مرتبہ سبحان اللہ اور سو (۱۰۰) مرتبہ لا إلهَ إِلَّا اللہ پڑھا تو اس کے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“*
*📚 ( رواه النسائي، كذا في كنز العمال ١/ ٤٦٤ : ۲۰۱۶)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝59 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _نماز کے بعد درج ذیل تسبیح پڑھئے گناہ معاف:-*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جو شخص نماز کے بعد کہے "سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" وہ شخص اس حال میں کھڑا ہوگا کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہوگی _,*
*📚(رواه البزار، كذا في الترغيب جلد ٢، صفحه ۴۵۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝60 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ صبح و شام سو مرتبہ سبحان اللہ و بحمدہ پڑھئے سارے گناہ معاف :-*
*"❉ _ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-*
*"_ جو شخص صبح کو سو (۱۰۰) مرتبہ اور شام کو سو (۱۰۰) مرتبہ "سبحان اللهِ وَ بِحَمْدِهِ" پڑھے اس کے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں _,*
*📚 (کنز العمال- ١//٤٧٢)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝61 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞_ جمعہ کے دن فجر کی نماز سے پہلے یہ دعا پڑھیں سارے گناہ معاف :-*
*⚄_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جو شخص جمعہ کے دن فجر کی نماز سے پہلے تین مرتبہ "_ اسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لا اله إلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ , پڑھے تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دیں گے چاہے اس کے گناہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں _,*
*📚 رواه ابن السني کذا في عمل اليوم والليلة صفحه -٨٣,* ١٦٤_,*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝62 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ صبح و شام سو مرتبہ "سبحان اللہ و بحمدہ" بڑھ لیا کریں، دو ہزار نیکیاں ملیں گی ،*
*"❉_ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ تم میں سے کوئی شخص اس بات کو نہ چھوڑے کہ وہ دو ہزار نیکیاں کر لیا کرے۔ صبح کے وقت اور شام کے وقت "سُبْحَانَ الله وَ بِحَمْدِهِ" سو (۱۰۰) مرتبہ کہہ لیا کرے تو اس کے لیے دو ہزار نیکیاں ہو جا ئیں گی اتنے گناہ ان شاء اللہ روزانہ کے ہوں گے بھی نہیں، اور اس تسبیح کے علاوہ جتنے نیک کام کیے ہوں گے ان کا ثواب علیحدہ نفع میں ہے۔"*
*📚 (کنز العمال- ٢/٢٣٦)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝63 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _صبح و شام درج ذیل کلمات دس مرتبہ کہا کرو, دس گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس شخص نے صبح کے وقت "لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَ هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير" دس مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالی اس کے لیے دس نیکیاں لکھیں گے اور اس کی دس خطاؤں کو معاف فرما دیں گے، اور یہ کلمات اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس کو شیطان سے پناہ میں رکھے گا _,*
*❉_ اور جس شخص نے کلمات مذکورہ کو رات کے وقت پڑھا تو بھی مذکورہ فضیلت حاصل ہوگی _,*
*📚 (كذا في الترغيب جلد ۱ صفحه ۴۵۵، رواه احمد و النسائی و ابن حبان)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝64 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _اللہ کے پسندیدہ چار کلمے :-*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ اور ابی سعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صل وسلم نے فرمایا " اللہ رب العزت نے چار کلمے چن لیے ہیں " سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ "*
*"_ جس نے کہا سُبْحَانَ اللہ اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور بیس خطائیں معاف کی جائیں گی اور جس نے "اللہ اکبر" کہا اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا اور جس شخص نے "لا اله الا اللہ" کہا اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہے,*
*"❉_ اور جس شخص نے اخلاص سے "الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ" کہا اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی تیس خطائیں معاف ہوں گی۔"*
*📚 (كنز العمال-١/٤٦١ : ۱۹۹۹)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝65 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ مصافحہ کے وقت دونوں "يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَ لَكُمْ" اور مزاج پرسی کے وقت "الْحَمْدُ لِلہ" کہیں، دونوں کے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ جب دو مسلمان ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ( یعنی مصافحہ کے وقت "يَغْفِرُ الله لنا ولكم" اور مزاج پرسی کے وقت "الحمد للہ" کہتے ہیں ) تو ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے_,*
*📚 ( ابوداؤد ۲/ ۷۰۸ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝66 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ کھانے کے بعد اور کپڑا پہنتے وقت مندرجہ ذیل دعا پڑھئے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس نے کھانا کھا کر یہ دعا پڑھی "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَ رَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِي وَلَا قُوَّةٍ _" تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری کوشش اور طاقت کے بغیر مجھے یہ نصیب فرمایا, تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں،*
*"❉_ اور جس نے کپڑا پہن کر یہ دعا پڑھی "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِي وَلَا قُوَّةٍ : تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری کوشش اور طاقت کے بغیر مجھے یہ نصیب فرمایا, تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔"*
*📚 (ابوداؤ - ۲/ ۵۵۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝67 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اختتام مجلس پر درج ذیل دعا پڑھئے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس نے اختتام مجلس پر کہا : "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ _", تو اگر یہ ذکر کی مجلس تھی تو اس مجلس پر مہر لگا دی جائے گی اور اگر یہ بیہودہ اور لایعنی مجلس تھی تو یہ کلمات ان مجلس کا کفارہ بن جائیں گے۔*
*📚 (اخرجه النسائي و الطبراني والحاكم وصححه كنز العمال ٩/١٤٢ : ۲۵۴۱۹)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝68 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کے دن فجر کی نماز سے پہلے درج ذیل دعا کیجئے سارے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جو شخص جمعہ کے دن فجر کی نماز سے پہلے تین مرتبہ "استغفرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ" پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت فرمادیں گے خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں _,*
*📚 (رواه ابن السنى كذا في عمل اليوم والليلة حديث ۸۳ صفحه ۳۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝69 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ فجر اور عصر کی نماز کے بعد درج ذیل دعا پڑھئے سارے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ :-*
*"_ جو شخص فجر کی نماز کے بعد تین مرتبہ اور عصر کے بعد تین مرتبہ اسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأتُوبُ إِلَيْهِ پڑھے تو اس کے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں _,*
*📚 (کنز العمال -۳۵۳۶: ،۱۵۰/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ مندرجہ ذیل دعا کیجئے گناہ معاف :-*
*❉_حضرت زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:-*
*"_ جو شخص " اسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ اتُوبُ إِلَيْهِ" کہے اس کی مغفرت کر دی جائے گی ....۔"*
*❉_ ایک روایت میں ان کلمات کو تین مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے۔* *(ترجمہ): میں اللہ تعالی سے مغفرت چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے اور اسی کے سامنے تو بہ کرتا ہوں _,*
*📚 (ابوداؤد ، مستدرک حاکم- ٢/١١٨)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝52 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ آپ کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تو مندرجہ ذیل کلمات کہیے سارے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ زمین پر جو شخص بھی "لا إله إلا الله واللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللہ" پڑھتا ہے تو اس کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں خواہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔*
*📚 (ترمذی -۱۸۴/۲)*
*"❉_ ایک روایت میں یہ فضیلت "سُبْحَانَ الله وَالحَمدُ لِلہ" کے اضافہ کے ساتھ ذکر کی گئی ہے۔*
*📚 (مستدرک حاکم -۵۰۳)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝53 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ سو مرتبہ سبحان اللہ کہتے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور ایک ہزار گناہ معاف _,*
*❉"_حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے ارشاد فرمایا-*
*"_ کیا تم میں سے کوئی شخص ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہے؟ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی آدمی ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟*
*❉"_ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا- جو شخص سو مرتبہ سبحان اللہ کہے گا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔“*
*📚 (مسلم ۲/ ۳۴۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝54 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ سو مرتبہ کہا کرو, آپ کے ایک لاکھ اور والدین کے چوبیس ہزار گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جس شخص نے جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر "سبحانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ " سو (۱۰۰) مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک لاکھ گناہ معاف فرما دیں گے اور اس کے والدین کے چوبیس ہزار گناہ معاف فرمادیں گے _,*
*📚 رواه ابن السني في عمل اليوم والليلة صفحه ١٦٤_,*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝55 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ بازار میں مندرجہ ذیل کلمات پڑھ کر قدم رکھیے دس لاکھ گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے بازار میں قدم رکھتے ہوئے یہ کلمات پڑھے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٍّ لَا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " الله تعالی اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتے ہیں، اور اس کی دس لاکھ خطائیں مٹا دیتے ہیں، اور دس لاکھ درجے اس کے بلند کر دیتے ہیں۔“*
*📚 (رواه الترمذى و قال هذا حديث غريب باب ما يقول اذا دخل السوق : رقم (۳۴۲۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝56 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہیے آپ کے گناہ معاف :-*
*"❉ _ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو بھی بندہ کسی وقت بھی دن میں یا رات میں لا إله إلا اللہ کہتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور ان کی جگہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔"*
*📚 (رواه ابو يعلى ، مسند ابو یعلی ۴۴۵/۳، مجمع الزوائد)*
*"❉ _ جب مسلمان بنده "لا إله إلا الله" کہتا ہے تو یہ کلمہ آسمانوں کو چیرتا ہوا اللہ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے تو حق تعالی شانہ ارشاد فرماتے ہیں ٹھہر جا۔ وہ عرض کرتا ہے کہ کیسے ٹھہر جاؤں حالانکہ میرے پڑھنے والے کی مغفرت نہیں ہوئی, حق تعالی شانہ ارشاد فرماتے ہیں میں نے اس کی مغفرت کرنے کے لیے ہی تجھ کو اس کی زبان پر جاری کیا تھا۔*
*📚 (کنز العمال ۱/ ۱۳۵:۴۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝57 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ *_ سونے والا جب کروٹ بدلے درج ذیل کلمات کہے گناہ معاف :-*
*❉ _ جب بندہ اپنے بستر پر یا زمین پر سونے کے لیے لیٹتا ہے پھر رات کو دائیں جانب یا بائیں جانب کروٹ لیتا ہے پھر وہ "اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَیی لَا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " پڑھتا ہے تو حق تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں میرے بندے کو دیکھو اس وقت بھی میرا بندہ مجھے بھولا نہیں میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس پر رحمت نازل کی اور اس کی مغفرت کر دی ۔*
*📚کنز العمال ۱۵/ ۴۱۳۱۵:۳۴۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝58 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ فجر کی نماز کے بعد سو مرتبہ سبحان اللہ اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھئے، سارے گناہ معاف :-*
. *❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس نے صبح کی نماز کے بعد سو (۱۰۰) مرتبہ سبحان اللہ اور سو (۱۰۰) مرتبہ لا إلهَ إِلَّا اللہ پڑھا تو اس کے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“*
*📚 ( رواه النسائي، كذا في كنز العمال ١/ ٤٦٤ : ۲۰۱۶)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝59 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _نماز کے بعد درج ذیل تسبیح پڑھئے گناہ معاف:-*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جو شخص نماز کے بعد کہے "سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" وہ شخص اس حال میں کھڑا ہوگا کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہوگی _,*
*📚(رواه البزار، كذا في الترغيب جلد ٢، صفحه ۴۵۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝60 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ صبح و شام سو مرتبہ سبحان اللہ و بحمدہ پڑھئے سارے گناہ معاف :-*
*"❉ _ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-*
*"_ جو شخص صبح کو سو (۱۰۰) مرتبہ اور شام کو سو (۱۰۰) مرتبہ "سبحان اللهِ وَ بِحَمْدِهِ" پڑھے اس کے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں _,*
*📚 (کنز العمال- ١//٤٧٢)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝61 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞_ جمعہ کے دن فجر کی نماز سے پہلے یہ دعا پڑھیں سارے گناہ معاف :-*
*⚄_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جو شخص جمعہ کے دن فجر کی نماز سے پہلے تین مرتبہ "_ اسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لا اله إلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ , پڑھے تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دیں گے چاہے اس کے گناہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں _,*
*📚 رواه ابن السني کذا في عمل اليوم والليلة صفحه -٨٣,* ١٦٤_,*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝62 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ صبح و شام سو مرتبہ "سبحان اللہ و بحمدہ" بڑھ لیا کریں، دو ہزار نیکیاں ملیں گی ،*
*"❉_ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ تم میں سے کوئی شخص اس بات کو نہ چھوڑے کہ وہ دو ہزار نیکیاں کر لیا کرے۔ صبح کے وقت اور شام کے وقت "سُبْحَانَ الله وَ بِحَمْدِهِ" سو (۱۰۰) مرتبہ کہہ لیا کرے تو اس کے لیے دو ہزار نیکیاں ہو جا ئیں گی اتنے گناہ ان شاء اللہ روزانہ کے ہوں گے بھی نہیں، اور اس تسبیح کے علاوہ جتنے نیک کام کیے ہوں گے ان کا ثواب علیحدہ نفع میں ہے۔"*
*📚 (کنز العمال- ٢/٢٣٦)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝63 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _صبح و شام درج ذیل کلمات دس مرتبہ کہا کرو, دس گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس شخص نے صبح کے وقت "لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَ هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير" دس مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالی اس کے لیے دس نیکیاں لکھیں گے اور اس کی دس خطاؤں کو معاف فرما دیں گے، اور یہ کلمات اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس کو شیطان سے پناہ میں رکھے گا _,*
*❉_ اور جس شخص نے کلمات مذکورہ کو رات کے وقت پڑھا تو بھی مذکورہ فضیلت حاصل ہوگی _,*
*📚 (كذا في الترغيب جلد ۱ صفحه ۴۵۵، رواه احمد و النسائی و ابن حبان)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝64 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _اللہ کے پسندیدہ چار کلمے :-*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ اور ابی سعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صل وسلم نے فرمایا " اللہ رب العزت نے چار کلمے چن لیے ہیں " سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ "*
*"_ جس نے کہا سُبْحَانَ اللہ اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور بیس خطائیں معاف کی جائیں گی اور جس نے "اللہ اکبر" کہا اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا اور جس شخص نے "لا اله الا اللہ" کہا اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہے,*
*"❉_ اور جس شخص نے اخلاص سے "الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ" کہا اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی تیس خطائیں معاف ہوں گی۔"*
*📚 (كنز العمال-١/٤٦١ : ۱۹۹۹)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝65 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ مصافحہ کے وقت دونوں "يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَ لَكُمْ" اور مزاج پرسی کے وقت "الْحَمْدُ لِلہ" کہیں، دونوں کے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ جب دو مسلمان ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ( یعنی مصافحہ کے وقت "يَغْفِرُ الله لنا ولكم" اور مزاج پرسی کے وقت "الحمد للہ" کہتے ہیں ) تو ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے_,*
*📚 ( ابوداؤد ۲/ ۷۰۸ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝66 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ کھانے کے بعد اور کپڑا پہنتے وقت مندرجہ ذیل دعا پڑھئے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس نے کھانا کھا کر یہ دعا پڑھی "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَ رَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِي وَلَا قُوَّةٍ _" تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری کوشش اور طاقت کے بغیر مجھے یہ نصیب فرمایا, تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں،*
*"❉_ اور جس نے کپڑا پہن کر یہ دعا پڑھی "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِي وَلَا قُوَّةٍ : تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری کوشش اور طاقت کے بغیر مجھے یہ نصیب فرمایا, تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔"*
*📚 (ابوداؤ - ۲/ ۵۵۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝67 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اختتام مجلس پر درج ذیل دعا پڑھئے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس نے اختتام مجلس پر کہا : "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ _", تو اگر یہ ذکر کی مجلس تھی تو اس مجلس پر مہر لگا دی جائے گی اور اگر یہ بیہودہ اور لایعنی مجلس تھی تو یہ کلمات ان مجلس کا کفارہ بن جائیں گے۔*
*📚 (اخرجه النسائي و الطبراني والحاكم وصححه كنز العمال ٩/١٤٢ : ۲۵۴۱۹)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝68 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کے دن فجر کی نماز سے پہلے درج ذیل دعا کیجئے سارے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ جو شخص جمعہ کے دن فجر کی نماز سے پہلے تین مرتبہ "استغفرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ" پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت فرمادیں گے خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں _,*
*📚 (رواه ابن السنى كذا في عمل اليوم والليلة حديث ۸۳ صفحه ۳۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝69 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ فجر اور عصر کی نماز کے بعد درج ذیل دعا پڑھئے سارے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ :-*
*"_ جو شخص فجر کی نماز کے بعد تین مرتبہ اور عصر کے بعد تین مرتبہ اسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأتُوبُ إِلَيْهِ پڑھے تو اس کے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں _,*
*📚 (کنز العمال -۳۵۳۶: ،۱۵۰/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝70 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ لیٹتے وقت درج ذیل دعا تین مرتبہ پڑھے، سارے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_جو شخص اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے تین مرتبہ "استغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَاتُوبُ إِلَيْهِ" پڑھے تو اس کے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں، خواہ درخت کے پتوں کے شمار کے موافق ہوں خواہ تہہ بہ تہہ ریت کے ذروں کے برابر ہوں خواہ دنیا کے دنوں کے عدد کے موافق ہوں _,*
*📚 رواه الترمذى كذا في الترغيب جلد ا صفحه ۴۱٦, ترمذی ۱۷۵/۲، كنز العمال ۳۳۴/۱۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝71 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ بیدار ہوتے ہی درج ذیل دعا پڑھئے گناہ معاف,*
*"❉_ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے بیدار ہوتے ہی یہ دعا پڑی "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شریک لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ ولهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ سبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا الله والله اكبر ولا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" اور پھر اس نے یوں کہا "اللهُمَّ اغْفِرْ لِی" یا اور کوئی دعاء مانگی تو اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے، اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول ہوگی _,*
*📚 (رواه البخاري و ابوداؤد وغيرهما كذا في عمل اليوم والليله صفحه ۲۷۳، و في الترغيب جلد 1، صفحه -۴۲۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝72 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اللہ کی رضا کے لیے سورہ یٰس پڑھے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے سورہ یٰس کسی رات میں اللہ تعالی کی رضا کے لیے پڑھی تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے _,*
*📚 (ابن حبان طبع ١٤٠٧، صفحه ۱۲۱، جلد ۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝73 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ سورہ ملک پڑھ لیجیے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ قرآن کریم میں ایک سورت تیس (۳۰) آیت کی ایسی ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، وہ سورہ تبارك الذي ہے۔*
*📚 (ترندی ۱۱۳/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝74 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ *"_فجر کی نماز کے بعد سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھئے ایک سال کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا-*
*"_ جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی پھر بولنے سے پہلے سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھی (قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ) تو اللہ پاک اس کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت فرمادیں گے۔"*.
*📚 (کنز العمال -۱۵۲/٢)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝75 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کی نماز کے بعد سورہ فاتحہ سورہ اخلاص اور معوذتین سات سات مرتبہ پڑھئے سارے گناہ معاف _,*
*"❉ _ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو شخص جمعہ کی نماز کے بعد "قُلْ هُوَ الله أحد، قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ, قُلْ اعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ سات سات مرتبہ پڑھے تو اللہ رب العزت آئندہ جمعہ تک برائی سے پناہ میں رکھیں گے, (معاصی کے ارتکاب سے بڑھ کر آدمی کے لیے کون سی برائی ہو سکتی ہے۔)*
*📚 (أخرجه ابن السني في عمل اليوم والليلة جلد ۱، صفحه- ۱۴۵)*
*❉ _ اور قشیری کی روایت میں الفاظ حدیث یوں ہیں:-*
*"_ جو شخص جمعہ کے دن امام کے سلام پھیرنے کے بعد اسی بیئت پر بیٹھے ہوئے "سورة الفاتحہ اور قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ, قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، سات سات مرتبہ پڑھے تو اس کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی اور جتنے لوگ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ان کے عدد کے بقدر اس کو اجر عطا کیا جائے گا _,*
*📚 ( عسقلانی صفحه ۹۸)*
*☞ _ بیدار ہوتے ہی درج ذیل دعا پڑھئے گناہ معاف,*
*"❉_ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے بیدار ہوتے ہی یہ دعا پڑی "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شریک لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ ولهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ سبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا الله والله اكبر ولا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" اور پھر اس نے یوں کہا "اللهُمَّ اغْفِرْ لِی" یا اور کوئی دعاء مانگی تو اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے، اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول ہوگی _,*
*📚 (رواه البخاري و ابوداؤد وغيرهما كذا في عمل اليوم والليله صفحه ۲۷۳، و في الترغيب جلد 1، صفحه -۴۲۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝72 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اللہ کی رضا کے لیے سورہ یٰس پڑھے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے سورہ یٰس کسی رات میں اللہ تعالی کی رضا کے لیے پڑھی تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے _,*
*📚 (ابن حبان طبع ١٤٠٧، صفحه ۱۲۱، جلد ۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝73 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ سورہ ملک پڑھ لیجیے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ قرآن کریم میں ایک سورت تیس (۳۰) آیت کی ایسی ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، وہ سورہ تبارك الذي ہے۔*
*📚 (ترندی ۱۱۳/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝74 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ *"_فجر کی نماز کے بعد سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھئے ایک سال کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا-*
*"_ جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی پھر بولنے سے پہلے سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھی (قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ) تو اللہ پاک اس کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت فرمادیں گے۔"*.
*📚 (کنز العمال -۱۵۲/٢)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝75 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کی نماز کے بعد سورہ فاتحہ سورہ اخلاص اور معوذتین سات سات مرتبہ پڑھئے سارے گناہ معاف _,*
*"❉ _ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو شخص جمعہ کی نماز کے بعد "قُلْ هُوَ الله أحد، قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ, قُلْ اعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ سات سات مرتبہ پڑھے تو اللہ رب العزت آئندہ جمعہ تک برائی سے پناہ میں رکھیں گے, (معاصی کے ارتکاب سے بڑھ کر آدمی کے لیے کون سی برائی ہو سکتی ہے۔)*
*📚 (أخرجه ابن السني في عمل اليوم والليلة جلد ۱، صفحه- ۱۴۵)*
*❉ _ اور قشیری کی روایت میں الفاظ حدیث یوں ہیں:-*
*"_ جو شخص جمعہ کے دن امام کے سلام پھیرنے کے بعد اسی بیئت پر بیٹھے ہوئے "سورة الفاتحہ اور قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ, قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، سات سات مرتبہ پڑھے تو اس کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی اور جتنے لوگ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ان کے عدد کے بقدر اس کو اجر عطا کیا جائے گا _,*
*📚 ( عسقلانی صفحه ۹۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝76 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ سورہ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھئے، سارے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس نے سورہ حشر کی آخری تین (۳) آیات پڑھیں تو اس کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی_,*
*📚(ابو اسحق الثعلبي في تفسيره ھكذا في الخصال المكفرة لا بن حجر عسقلانی صفحه ۱۰۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝77 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ ہر روز دو سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھئے، پچاس سال کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ جس شخص نے ہر روز دوسو (٢٠٠) مرتبہ قُلْ هُوَ الله احد پڑھی تو اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے مگر یہ کہ اس پر قرض ہو _,*
*📚 (رواه الترمذى كذا في الترغيب جلد ٢صفحه ۴۴۸، ترمذی فضائل القرآن -۱۱۳/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝78 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ گناہ پر شرمندگی کا اظہار کیجیے، گناہ معاف :-*
*❥_ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے کوئی غلطی کی یا کوئی گناہ کیا پھر اس پر شرمندہ ہوا تو یہ شرمندگی اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔*
*📚 (رواه البيهقي في شعب الایمان -۳۸۷/۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝79 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اے اللہ ! تیری مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور میں اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کا امیدوار ہوں“ تین مرتبہ کہنے سے گناہ معاف:-*
*❉_ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، "ہائے میرے گناہ !! ہائے میرے گناہ !! اس نے یہ دو یا تین مرتبہ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا-*
*"_کہو: اللهم مَغْفِرَتك أوْسَعُ مِنْ ذُنُوبِي وَرَحْمَتك أرجى عندى من عملی"*
*"_ ( ترجمہ ) اے اللہ ! تیری مغفرت میرے گنا ہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور میں اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کا امیدوار ہوں،*
*"❉_ اس شخص نے یہ کلمات کہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا- پھر کہو، اس نے پھر کہے، آپ نے ارشاد فرمایا:- پھر کہو, اس نے تیسری مرتبہ بھی یہ کلمات کہے, اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا- "اُٹھ جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت فرمادی,*
*📚_ (مستدرک حاکم-١/٥٤٣)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝80 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ ندامت کے ساتھ اپنے گناہ کا اقرار کیجیے اور معافی مانگئے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:-*
*"_ کوئی بندہ جب گناہ کر لیتا ہے پھر ( نادم ہو کر ) کہتا ہے : میرے رب! میں تو گناہ کر بیٹھا اب تو مجھے معاف فرمادے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فرماتا ہے: کیا میرا یہ بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور ان پر پکڑ بھی کر سکتا ہے؟ ( سن لو ) میں نے اپنے بندے کی مغفرت کردی _,*
*❉_ پھر وہ بندہ جب تک اللہ چاہے گناہ سے رکا رہتا ہے۔ پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو ( نادم ہو کر ) کہتا ہے : میرے رب ! میں تو ایک اور گناہ کر بیٹھا تو اس کو بھی معاف کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کر سکتا ہے؟ ( سن لو ) میں نے اپنے بندے کی مغفرت کردی. پھر وہ بندہ جب تک اللہ چاہے گناہ سے رکا رہتا ہے۔*
*❉_ اس کے بعد پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو ( نادم ہو کر ) کہتا ہے : میرے رب ! میں تو ایک اور گناہ کر بیٹھا تو اس کو بھی معاف فرما دے, تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں: کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے، اور اس پر پکڑ بھی کر سکتا ہے؟ ( سن لو) میں نے اپنے بندے کی تیسری مرتبہ بھی مغفرت کر دی، بندہ جو چاہے کرے،*
*📚 (بخاری ۲ / ۱۱۱۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝81 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ آپ کے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جئیں تو معافی مانگئے، گناہ معاف :-*
*"❉_حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا-*
*"_ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آدم کے بیٹے ! بیشک تو جب تک مجھ سے دعا مانگتا رہے گا اور (مغفرت کی) امید رکھے گا میں تجھ کو معاف کرتا رہوں گا چاہے کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوں اور مجھ کو اس کی پرواہ نہ ہو گی یعنی تو چاہے کتنا ہی بڑا گنہگار ہو تجھے معاف کرنا میرے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے۔*
*❉_ آدم کے بیٹے ! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے بخشش چاہے تو میں تجھ کو بخش دوں گا اور مجھ کو اس کی پرواہ نہیں ہوگی _,*
*📚 (ترندی ۱۹۳/۲),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝82 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کی رات میں حم الدخان پڑھیں، گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے حم الدخان کو شب جمعہ میں پڑھا تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی _,*
*📚 کنز العمال- 1/581,*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝83 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _جو مغفرت خداوندی پر کامل یقین رکھتا ہے اس کے گناہ معاف:-*
*"❉_اللہ جل جلالہ نے ارشاد فرمایا-*
*"جس آدمی نے یہ یقین کر لیا کہ میں گناہوں کی مغفرت پر قادر ہوں تو میں اس کی مغفرت کردوں گا۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں، جب تک وہ میرے ساتھ شرک نہ کرے _,*
*📚 ( جامع ترمذی عن ابی ذر -۷۲/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝84 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ کثرت سے استغفار کرتے رہو ہر تنگی سے نجات اور قیامت کے دن مسرت ہوگی :-*
*"❉_ جو شخص استغفار میں لگا رہے گا یعنی جو شخص کثرت سے استغفار پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمادے گا۔*
*📚( ابو داؤد، نسائی، ابن ماجه، ابن حبان عن ابن عباس، ۲۱۳/۱)*
*"❉_ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ (قیامت کے دن ) اس کا نامہ اعمال اس کو خوش کرے تو کثرت سے استغفار کرے _,*
*📚 ( طبراني في الاوسط ۴۶۵/۱ : ۸۴۳ عن الزبير)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝85 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اللہ تعالی نے قسم کھائی ہے کہ بندے جب تک استغفار کرتے رہیں گے اللہ معاف فرماتے رہیں گے :-*
*"❉_ ابلیس نے اپنے رب سے کہا- " تیری عزت اور جلال کی قسم ! جب تک بنی آدم میں روح رہے گی میں ان کو گمراہ کرتا رہوں گا_,"*
*"_ حق تعالی نے اس سے فرمایا- میری عزت اور جلال کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے میں بھی ان کو مسلسل معاف کرتا رہوں گا _,*
*📚 (کنز العمال ۲۱۰۰:۴۸۱/۱)*
*☞ _ سورہ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھئے، سارے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس نے سورہ حشر کی آخری تین (۳) آیات پڑھیں تو اس کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی_,*
*📚(ابو اسحق الثعلبي في تفسيره ھكذا في الخصال المكفرة لا بن حجر عسقلانی صفحه ۱۰۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝77 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ ہر روز دو سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھئے، پچاس سال کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-*
*"_ جس شخص نے ہر روز دوسو (٢٠٠) مرتبہ قُلْ هُوَ الله احد پڑھی تو اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے مگر یہ کہ اس پر قرض ہو _,*
*📚 (رواه الترمذى كذا في الترغيب جلد ٢صفحه ۴۴۸، ترمذی فضائل القرآن -۱۱۳/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝78 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ گناہ پر شرمندگی کا اظہار کیجیے، گناہ معاف :-*
*❥_ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے کوئی غلطی کی یا کوئی گناہ کیا پھر اس پر شرمندہ ہوا تو یہ شرمندگی اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔*
*📚 (رواه البيهقي في شعب الایمان -۳۸۷/۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝79 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اے اللہ ! تیری مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور میں اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کا امیدوار ہوں“ تین مرتبہ کہنے سے گناہ معاف:-*
*❉_ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، "ہائے میرے گناہ !! ہائے میرے گناہ !! اس نے یہ دو یا تین مرتبہ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا-*
*"_کہو: اللهم مَغْفِرَتك أوْسَعُ مِنْ ذُنُوبِي وَرَحْمَتك أرجى عندى من عملی"*
*"_ ( ترجمہ ) اے اللہ ! تیری مغفرت میرے گنا ہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور میں اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کا امیدوار ہوں،*
*"❉_ اس شخص نے یہ کلمات کہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا- پھر کہو، اس نے پھر کہے، آپ نے ارشاد فرمایا:- پھر کہو, اس نے تیسری مرتبہ بھی یہ کلمات کہے, اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا- "اُٹھ جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت فرمادی,*
*📚_ (مستدرک حاکم-١/٥٤٣)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝80 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ ندامت کے ساتھ اپنے گناہ کا اقرار کیجیے اور معافی مانگئے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:-*
*"_ کوئی بندہ جب گناہ کر لیتا ہے پھر ( نادم ہو کر ) کہتا ہے : میرے رب! میں تو گناہ کر بیٹھا اب تو مجھے معاف فرمادے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فرماتا ہے: کیا میرا یہ بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور ان پر پکڑ بھی کر سکتا ہے؟ ( سن لو ) میں نے اپنے بندے کی مغفرت کردی _,*
*❉_ پھر وہ بندہ جب تک اللہ چاہے گناہ سے رکا رہتا ہے۔ پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو ( نادم ہو کر ) کہتا ہے : میرے رب ! میں تو ایک اور گناہ کر بیٹھا تو اس کو بھی معاف کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کر سکتا ہے؟ ( سن لو ) میں نے اپنے بندے کی مغفرت کردی. پھر وہ بندہ جب تک اللہ چاہے گناہ سے رکا رہتا ہے۔*
*❉_ اس کے بعد پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو ( نادم ہو کر ) کہتا ہے : میرے رب ! میں تو ایک اور گناہ کر بیٹھا تو اس کو بھی معاف فرما دے, تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں: کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے، اور اس پر پکڑ بھی کر سکتا ہے؟ ( سن لو) میں نے اپنے بندے کی تیسری مرتبہ بھی مغفرت کر دی، بندہ جو چاہے کرے،*
*📚 (بخاری ۲ / ۱۱۱۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝81 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ آپ کے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جئیں تو معافی مانگئے، گناہ معاف :-*
*"❉_حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا-*
*"_ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آدم کے بیٹے ! بیشک تو جب تک مجھ سے دعا مانگتا رہے گا اور (مغفرت کی) امید رکھے گا میں تجھ کو معاف کرتا رہوں گا چاہے کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوں اور مجھ کو اس کی پرواہ نہ ہو گی یعنی تو چاہے کتنا ہی بڑا گنہگار ہو تجھے معاف کرنا میرے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے۔*
*❉_ آدم کے بیٹے ! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے بخشش چاہے تو میں تجھ کو بخش دوں گا اور مجھ کو اس کی پرواہ نہیں ہوگی _,*
*📚 (ترندی ۱۹۳/۲),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝82 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جمعہ کی رات میں حم الدخان پڑھیں، گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے حم الدخان کو شب جمعہ میں پڑھا تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی _,*
*📚 کنز العمال- 1/581,*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝83 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _جو مغفرت خداوندی پر کامل یقین رکھتا ہے اس کے گناہ معاف:-*
*"❉_اللہ جل جلالہ نے ارشاد فرمایا-*
*"جس آدمی نے یہ یقین کر لیا کہ میں گناہوں کی مغفرت پر قادر ہوں تو میں اس کی مغفرت کردوں گا۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں، جب تک وہ میرے ساتھ شرک نہ کرے _,*
*📚 ( جامع ترمذی عن ابی ذر -۷۲/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝84 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ کثرت سے استغفار کرتے رہو ہر تنگی سے نجات اور قیامت کے دن مسرت ہوگی :-*
*"❉_ جو شخص استغفار میں لگا رہے گا یعنی جو شخص کثرت سے استغفار پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمادے گا۔*
*📚( ابو داؤد، نسائی، ابن ماجه، ابن حبان عن ابن عباس، ۲۱۳/۱)*
*"❉_ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ (قیامت کے دن ) اس کا نامہ اعمال اس کو خوش کرے تو کثرت سے استغفار کرے _,*
*📚 ( طبراني في الاوسط ۴۶۵/۱ : ۸۴۳ عن الزبير)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝85 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اللہ تعالی نے قسم کھائی ہے کہ بندے جب تک استغفار کرتے رہیں گے اللہ معاف فرماتے رہیں گے :-*
*"❉_ ابلیس نے اپنے رب سے کہا- " تیری عزت اور جلال کی قسم ! جب تک بنی آدم میں روح رہے گی میں ان کو گمراہ کرتا رہوں گا_,"*
*"_ حق تعالی نے اس سے فرمایا- میری عزت اور جلال کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے میں بھی ان کو مسلسل معاف کرتا رہوں گا _,*
*📚 (کنز العمال ۲۱۰۰:۴۸۱/۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝86 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ توبہ کا دروازہ کھٹکھٹائے گناہ معاف :-*
*❉_ اللہ رب العزت کا پاک ارشاد ہے کہ مجھ سے بڑھ کر کون سخی ہے۔ بندوں کی ان کی خواب گاہوں میں حفاظت کرتا ہوں گویا انہوں نے میری نافرمانی نہیں کی، اور یہ میرا کرم ہے کہ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں حتیٰ کہ وہ توبہ ہی کرتا رہتا ہے _,*
*"_ وہ کون ہے جس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور میں نے اس کے لیے دروازہ نہ کھولا ہو؟ کون ہے جس نے مجھ سے مانگا ہو اور میں نے اس کو نہ دیا ہو؟ کیا میں بخیل ہوں کہ بندہ مجھ کو بخل کی طرف منسوب کرتا ہے؟۔*
*📚 (كنز العمال ۲۲۹/۴ : ۱۰۲۹۶)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝87 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ رَبِّ اغْفِرُ لِی کہہ دیجیے آپ کے گناہ معاف :-*
*❉_ بندہ عرض کرتا ہے- اے رب ! مجھے معاف کر دے تحقیق کہ میں گناہ کر بیٹھا۔"*
*"_ فرشتے عرض کرتے ہیں اے باری تعالی یہ اس ( مغفرت ) کا اہل نہیں ہے۔*
*"_ حق تعالٰی شانہ ارشاد فرماتے ہیں لیکن میں تو اس بات کا اہل ہوں کہ اس کی مغفرت کردوں_,*
*📚 (اخرجه الحكيم الترمذى عن انس كذا في كنز العمال ,١/٤٨٠)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝88 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس کو استغفار کی توفیق مل گئی اس کے گناہ معاف:-*
*❉_ جس کو چار چیزیں مل گئیں وہ چار چیزوں سے محروم نہیں رہا:-*
*(1) جس کو دعا مل گئی وہ قبولیت سے محروم نہیں رہا۔ اس لیے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں ادْعُونِي استجب لكم مجھ سے دعاء مانگو میں تمہاری دعاء قبول کروں گا,*
*(۲) جس کو شکر مل گیا وہ زیادتی سے محروم نہیں رہا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لَئِن شَكَرْتُمْ لا زيد لكم اگر تم شکر کرو گے تو پھر میں تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا۔*
*(۳) جس کو استغفار مل گیا وہ مغفرت سے محروم نہیں رہا اس لیے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں ﴿وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ، اپنے رب سے بخشش چاہو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔*
*(۴) جس کو توبہ مل گئی وہ قبولیت سے محروم نہیں رہا اس لیے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ " اللہ تعالیٰ وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے _,*
*📚 (کنز العمال ۴۳۴۷۲:۸۷۴/۱۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝89 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ ہر نماز سے پہلے دس مرتبہ استغفار کیجیے گناہ معاف:-*
*"❉_ حضرت ام رافع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جب تم نماز کے لیے کھڑی ہو تو دس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور دس مرتبہ لا إله إلا الله کہو اور دس مرتبہ استغفر الله کہو۔*
*"❉_ سبحان اللہ کے جواب میں حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں یہ میرے لیے ہے، اور جب تم نے لا إله إلا الله کہا تو حق تعالی شانه ارشاد فرماتے ہیں یہ میرے لیے ہے اور جب تم نے استغْفِرُ اللهَ کہا تو حق تعالی شانه ارشاد فرماتے ہیں میں نے تمہاری مغفرت کر دی ۔"*
*"_ ( دس مرتبہ استغْفِرُ اللہ کہنے پر جواب میں دس بار ارشاد ہوتا ہے میں نے تیری مغفرت کردی۔ )*
*📚 كنز العمال -۵۳۱/۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ توبہ کا دروازہ کھٹکھٹائے گناہ معاف :-*
*❉_ اللہ رب العزت کا پاک ارشاد ہے کہ مجھ سے بڑھ کر کون سخی ہے۔ بندوں کی ان کی خواب گاہوں میں حفاظت کرتا ہوں گویا انہوں نے میری نافرمانی نہیں کی، اور یہ میرا کرم ہے کہ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں حتیٰ کہ وہ توبہ ہی کرتا رہتا ہے _,*
*"_ وہ کون ہے جس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور میں نے اس کے لیے دروازہ نہ کھولا ہو؟ کون ہے جس نے مجھ سے مانگا ہو اور میں نے اس کو نہ دیا ہو؟ کیا میں بخیل ہوں کہ بندہ مجھ کو بخل کی طرف منسوب کرتا ہے؟۔*
*📚 (كنز العمال ۲۲۹/۴ : ۱۰۲۹۶)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝87 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ رَبِّ اغْفِرُ لِی کہہ دیجیے آپ کے گناہ معاف :-*
*❉_ بندہ عرض کرتا ہے- اے رب ! مجھے معاف کر دے تحقیق کہ میں گناہ کر بیٹھا۔"*
*"_ فرشتے عرض کرتے ہیں اے باری تعالی یہ اس ( مغفرت ) کا اہل نہیں ہے۔*
*"_ حق تعالٰی شانہ ارشاد فرماتے ہیں لیکن میں تو اس بات کا اہل ہوں کہ اس کی مغفرت کردوں_,*
*📚 (اخرجه الحكيم الترمذى عن انس كذا في كنز العمال ,١/٤٨٠)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝88 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس کو استغفار کی توفیق مل گئی اس کے گناہ معاف:-*
*❉_ جس کو چار چیزیں مل گئیں وہ چار چیزوں سے محروم نہیں رہا:-*
*(1) جس کو دعا مل گئی وہ قبولیت سے محروم نہیں رہا۔ اس لیے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں ادْعُونِي استجب لكم مجھ سے دعاء مانگو میں تمہاری دعاء قبول کروں گا,*
*(۲) جس کو شکر مل گیا وہ زیادتی سے محروم نہیں رہا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لَئِن شَكَرْتُمْ لا زيد لكم اگر تم شکر کرو گے تو پھر میں تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا۔*
*(۳) جس کو استغفار مل گیا وہ مغفرت سے محروم نہیں رہا اس لیے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں ﴿وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ، اپنے رب سے بخشش چاہو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔*
*(۴) جس کو توبہ مل گئی وہ قبولیت سے محروم نہیں رہا اس لیے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ " اللہ تعالیٰ وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے _,*
*📚 (کنز العمال ۴۳۴۷۲:۸۷۴/۱۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝89 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ ہر نماز سے پہلے دس مرتبہ استغفار کیجیے گناہ معاف:-*
*"❉_ حضرت ام رافع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جب تم نماز کے لیے کھڑی ہو تو دس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور دس مرتبہ لا إله إلا الله کہو اور دس مرتبہ استغفر الله کہو۔*
*"❉_ سبحان اللہ کے جواب میں حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں یہ میرے لیے ہے، اور جب تم نے لا إله إلا الله کہا تو حق تعالی شانه ارشاد فرماتے ہیں یہ میرے لیے ہے اور جب تم نے استغْفِرُ اللهَ کہا تو حق تعالی شانه ارشاد فرماتے ہیں میں نے تمہاری مغفرت کر دی ۔"*
*"_ ( دس مرتبہ استغْفِرُ اللہ کہنے پر جواب میں دس بار ارشاد ہوتا ہے میں نے تیری مغفرت کردی۔ )*
*📚 كنز العمال -۵۳۱/۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝90 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ شب برات میں معافی مانگئے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جب شعبان کی پندرہویں رات آئے تو اس رات میں اللہ کے حضور نوافل پڑھو۔ اس دن کو روزہ رکھو کیوں کہ اس رات غروب آفتاب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی خاص تجلی اور رحمت پہلے آسمان پر اتر آتی ہے اور وہ ارشاد فرماتا ہے" ہے کوئی بندہ جو مجھ سے بخشش اور مغفرت طلب کرے اور میں اس کی مغفرت کا فیصلہ کروں، کوئی بندہ ہے جو روزی مانگے اور میں اس کو روزی دینے کا فیصلہ کروں، کوئی مبتلائے مصیبت بندہ ہے جو مجھ سے صحت اور عافیت کا سوال کرے اور میں اس کو عافیت عطا کروں ۔*
*❉_ اس طرح مختلف قسم کے حاجتمندوں کو اللہ پکارتا ہے کہ وہ اس وقت مجھ سے اپنی حاجتیں مانگیں اور میں عطا کروں، غروب آفتاب سے لے کر صبح صادق تک اللہ تعالیٰ کی رحمت اسی طرح اپنے بندوں کو پکارتی رہتی ہے ۔"*
*📚 (رواه ابن ماجه كذا في الترغيب جلد ۲، صفحه ۱۱۹ ابن ماجه صفحه ۹۹)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝91 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ ہر نماز کے بعد اسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، کہے سارے گناہ معاف:-*
*"❉_ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جو شخص ہر نماز کے بعد اسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ پڑھا کرے تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی خواہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگ کر ہی کیوں نہ آیا ہو ۔"*
*📚 رواه الطبراني في الصغير والاوسط كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه (۴۵۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝92 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _بندوں کی بیماری گناہ، اور اس کا علاج استغفار ہے:-*
*❉_ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"کیا میں تم کو تمہارے مرض اور تمہاری دواء کے بارے میں نہ بتاؤں؟ غور سے سنو ! تمہار ا مرض گناہ ہے اور تمہاری دواء استغفار ہے۔“*
*📚 (رواه البيهقى كذا في الترغيب جلد ۳، صفحه ۴۶۸ كنز العمال ۴۷۹/۱ : )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝93 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس کا دل اللہ کے راستے میں کپکپایا اس کے گناہ معاف_,*
*❉_ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :-*
*"_ جب مسلمان کا دل اللہ کے راستے میں کپکپانے لگے تو اس کی خطابیں ایسی جھڑتی ہیں جیسے کھجور کے خوشے ( تیز ہوا کے چلنے سے) گر جاتے ہیں_,*
*📚 ( كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه ۲۸۴، كنز العمال ۲۸۰/۳ : ۱۰۳۸۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝94 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جو لوگ صرف رضائے الہی کے لیے اللہ کو یاد کرتے ہیں ان کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو بھی قوم جمع ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے اور مقصود اللہ کی رضا ہی ہوتا ہے تو آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے:-*
*"_ کھڑے ہو جاؤ تمہاری مغفرت کر دی گئی اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے تبدیل کر دیا گیا۔*
*📚 ( کنز العمال ۱۳۳/۹ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝95 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ نعمت ملنے پر اللہ کی بار بار تعریف کیجئے گناہ معاف :-*
*❉"_ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ اللہ جل جلالہ اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں پھر بندہ اللہ کی تعریف کرتا ہے تو اس نے اس نعمت کا شکر ادا کر دیا۔*
*"❉_ پھر اگر دوسری مرتبہ الحمد للہ کہے تو اللہ تعالی اس کے ثواب کی تجدید فرما دیتے ہیں، پھر اگر تیسری مرتبہ الحمد للہ کہے تو اللہ تعالٰی اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔*
*📚 (رواه الحاكم و صححه ترغیب جلد ۲ صفحه ۴۲۷، کنز العمال- ۲۵۳/۳)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝96 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ غافلین کے مجمع میں اللہ کو یاد کیجئے، سارے گناہ معاف :-*
*❉_حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ غافلین کے مجمع میں اللہ کا ذکر کرنے والا اس سرسبز درخت کی طرح ہے جو سوکھے درختوں میں ہو، غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا اس چراغ کی طرح ہے جو اندھیرے گھر میں رکھا ہوا ہو، اور غافل لوگوں کے مجمع میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں ہی جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیں گے۔ ہر انسان اور جانور کی تعداد کے موافق اللہ تعالٰی اس کی مغفرت فرمائیں گے،*
*❉"_ اور غافلین میں اللہ تعالٰی کا ذکر کرنے والے کی طرف حق تعالی ایسی نظر سے دیکھیں گے کہ کبھی بھی اس کو عذاب نہیں دیں گے، بازار میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے کے لیے اس کے ہر بال کے بدلے قیامت کے دن نور ہوگا _,*
*📚 (رواه البيهقي في الشعب كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه ۵۳۲ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝97 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ میت کو غسل دیجیے اور اس کے عیوب چھپائیے، آپ کے چالیس کبیرہ گناہ معاف، اور قبر کھودنے کا ثواب :-*
*"❉_ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو شخص میت کو غسل دیتا ہے اور اس کے ستر کو اور اگر کوئی عیب پائے تو اس کو چھپاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چالیس (۴۰) بڑے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔*
*"❉_ اور جو اپنے بھائی کی (میت) کے لیے قبر کھودتا ہے اور اس کو اس میں دفن کرتا ہے تو گویا اس نے (قیامت کے دن ) دوبارہ زندہ اٹھائے جانے تک اس کو ایک مکان میں ٹھہرا دیا یعنی اس کو اس قدر اجر ملتا ہے جتنا کہ اس شخص کے لیے قیامت تک مکان دینے کا اجر ملتا۔*
*📚 (طبرانی، مجمع الزوائد- ۱۱۴/۳)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝98 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ مرحوم کی تعریف کیجیے مرحوم کے گناہ معاف _,*
*"❉_ جب لوگ کسی کی نماز جنازہ پڑھ لیں اور میت کے بارے میں کلمات خیر کہیں تو حق تعالی شانہ ارشاد فرماتے ہیں-*
*"_ انکی گواہی کو ان کے علم کے مطابق نافذ کیا اور جو یہ نہیں جانتے اس کی بھی مغفرت کرتا ہوں_,*
*📚 (کنز العمال -۵۸۳/۱۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝99 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ دو پڑوسی گواہی دیں کہ مرحوم بھلا آدمی تھا، مرحوم کے گناہ معاف _,*
*❉_ جب بنده مؤمن انتقال کر جائے اور اس کے دو پڑوسی یہ کہہ دیں کہ یہ شخص بڑا بھلا تھا اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ حالانکہ وہ علم خداوندی میں اس کے برعکس تھا تو حق تعالیٰ فرشتوں سے ارشاد فرماتے ہیں۔*
*❉_ میرے بندہ کے بارے میں میرے بندہ کی گواہی قبول کر لو۔ میرے علم کے مطابق یہ جیسا بھی تھا اس سے درگزر کرو۔*
*📚_( كنز العمال - ١٥ / ٦٨٥)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝100 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __جس کی نماز جنازہ سو آدمیوں نے پڑھی اس کے گناہ معاف:-*
*"❉_ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_جس میت کی سو (۱۰۰) آدمی نماز جنازہ پڑھ لیں اللہ تعالیٰ اس میت کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔"*
*📚 (اخرجه الطبراني في الكبير كذا في الترغيب جلد ۴ صفحه ۳۴۳، والترمذي في الجنائز- ۱۲۲/۱ نحوه)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝101 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ مسلمانوں کی تین صفوں نے جس کی نماز جنازہ پڑھی اس کے گناہ معاف :-*
*❉__حضرت مالک بن هبیره رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنا نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو مسلمان انتقال کر جائے اور اس کی نماز جنازہ میں مسلمانوں کی تین صفیں ہوں تو مغفرت یا جنت واجب ہو جاتی ہے_,*
*"❉__ اور حضرت مالک رضی اللہ عنہ جب کسی جنازہ میں شریک ہوتے تو تین صفیں بناتے اس حدیث پر عمل کرنے کی وجہ سے۔*
*📚 (اخرجه ابوداؤد وغیره و حسنه الترمذى كذا في الترغيب جلد ۴ صفحة ۳۴۳، ابو داؤد کتاب الجنائز ۴۵۱/۲ باختلاف بعض الالفاظ)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝102 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کیجئے مرحوم کے گناہ معاف _,*
*❉"_حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ اللہ تعالی کی طرف سے جنت میں کسی مرد صالح کا درجہ ایک دم بلند کر دیا جاتا ہے تو وہ جنتی بندہ پوچھتا ہے کہ اے پروردگار ! میرے درجہ اور مرتبہ میں یہ ترقی کسی وجہ سے اور کہاں سے ہوئی ؟ جواب ملتا ہے تیرے واسطے تیری فلاں اولاد کی دعائے مغفرت کرنے کی وجہ ہے,*
*❉"_ امام بیہقی نے الفاظ حدیث یوں نقل کیے ہیں کہ تیرے بیٹے کی دعا کی وجہ ہے _,*
*📚 رواه احمد في مسنده بهذا اللفظ ۱۰۶۱۸:۵۰۹/۲ و اخرجه ابن ماجه بنحوه كتاب الادب صفحه- ٢٦٠)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝103 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے ہر جمعہ کو اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کی قبر کی زیارت کی اس کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جو شخص جمعہ کے دن اپنے والدین یا ان میں سے ایک کی قبر کی زیارت کرے تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اور اس کو فرماں بردار لکھا جائے گا _,*
*📚 (کنز العمال ۴۵۴۸۷:۴۶۸/۱۷، الحکیم - عن ابی ہریرہ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝104 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ تمام مؤمنین کے لیے دعائے مغفرت کیجئے ہر مؤمن کے عوض ایک نیکی لکھی جائے گی _,*
*❉_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ-*
*"_ جو کوئی شخص مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر مؤمن مرد اور مؤمن عورت کے عوض ایک نیکی لکھ دیتے ہیں _,*
*📚 (طبراني في الكبير، كنز العمال-۲۰۶۷:۳۷۵/۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝105 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ تمام مؤمنین کے لیے ہر روز ستائیس مرتبہ مغفرت کی دعا کیجئے آپ مستجاب الدعوات بن جائیں گے _,*
*❉_ جو شخص ہر روز مؤمن مردوں اور عورتوں کے لیے ستائیس (۲۷) بار مغفرت طلب کرے گا تو اس کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جن کی دعا قبول ہوتی ہے اور جن کی وجہ سے اہل زمین کو رزق ملتا ہے _,*
*📚 (طبراني في الكبير عن أبي الدرداء كنز العمال ۲۰۶۸:۴۸۶/۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝106 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جو جنازہ کے پیچھے چلا اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ بنده مومن کو اس کی موت کے بعد سب سے پہلی جزا جو دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے جنازے کے پیچھے چلنے والے تمام افراد کی مغفرت کر دی جاتی ہے _,*
*📚 (کنز العمال -۴۲۳۱۰:۵۸۸/۱٥)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝107 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جو وصیت کر کے فوت ہوا اس کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس نے وصیت کی حالت میں انتقال کیا (یعنی اس حالت میں جس کا انتقال ہوا کہ اپنی مالیت اور معاملات وغیرہ کے بارے میں جو وصیت اس کو کرنی چاہیے تھی وہ اس نے کی اور صحیح اور بوجہ اللہ کی ) تو اس کا انتقال ٹھیک راستہ پر اور شریعت پر چلتے ہوئے ہوا اور اس کی موت تقویٰ اور شہادت والی موت ہوئی اور اس کی مغفرت ہوگی۔*
*📚_ (رواه ابن ماجه كذا في الترغيب جلد ۴، صفحه ۴۲٦، ابن ماجه باب الحث على الوصية صفحه -۱۹۴),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝108 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ باہم محبت رکھنے والے بندے جب ملیں، درود شریف پڑھیں ان کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ نہیں ہیں دو بندے جو آپس میں محبت رکھتے ہوں ان میں کوئی ایک جب اپنے ساتھی کے سامنے آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دونوں درود بھیجیں تو جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کے آئندہ اور گذشتہ گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی _,*
*📚 (کنز العمال ۱۳۵/۹ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝109 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجئے دس گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف بھیجتا ہے، اللہ تعالٰی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں، دس گناہوں کو معاف فرماتے ہیں اور اس کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند فرماتے ہیں۔“*
*📚 الترغيب جلد ٢، صفحه ۴۹۴، رواه احمد والنسائي و ابن حبان و الحاكم ،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝110 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ لکھا ہوا درود شریف جب تک باقی رہتا ہے فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں _,*
*"❉_حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس شخص نے کسی کتاب میں مجھ پر درود شریف لکھا تو جب تک میرا نام اس کتاب میں باقی رہے گا فرشتے اس کے لیے مسلسل دعائے مغفرت کرتے رہیں گے۔“*
*📚 ( رواه الطبراني كذا في الترغيب جلد 1، صفحه ۱۱۱، كنز العمال 1 /۵۰۷ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝111 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ اپنے مال کی زکوٰۃ نکالیے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کا ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا-*
*"_ یا رسول اللہ ! میں بہت مالدار آدمی ہوں اور عیال دار بھی ہوں ( خوب وسعت رکھتا ہوں جی کھول کر خرچ کر سکتا ہوں ) تو آپ مجھے بتائیے کہ کیسے کروں؟ اور کس طرح خرچ کروں؟*
*"❉_ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_اپنے مال کی زکوٰۃ نکال کیوں کہ زکوٰۃ ایسی پاکی ہے کہ تجھ کو معاصی اور گناہوں سے پاک کر دے گی, خویش و اقارب سے صلہ رحمی کر، مسکین اور پڑوسی اور سائل کا حق پہچان _,"*
*📚 (مسند احمد (۱۳٦/٣: ۱۲۴۱۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝112 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ صدقہ خیرات کیا کیجئے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعب بن عجرہ سے فرما رہے ہیں:-*
*"_ اے کعب بن عجرہ نماز اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے اور روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے،*
*"_ اے کعب بن عجرہ ! لوگ صبح کرتے ہیں، کچھ تو اپنی جان کو بیچنے والے ہیں پس وہ اپنی گردن کو باندھنے والے ہیں اور کچھ لوگ اپنے نفس کو خرید نے والے ہیں پس وہ اپنی گردن کو آزاد کرنے والے ہیں _,*
*📚 ( رواه ابو يعلى باسناد صحیح و اخرجه ابن حِبَّانَ وَ لَفْظُهُ)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝113 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ادا کیجئے گناہ معاف _,*
*"❉_حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ صدقہ فطر روزہ دار کو بیکار اور بخش باتوں سے پاک کر دیتا ہے ( جو حالت روزہ میں اس سے سرزد ہو گئی تھیں ) اور غرباء و مساکین کے کھانے کی دعوت ہے, جس نے اس کو نماز (عید) سے قبل ادا کر دیا تو بہت ہی مقبول ہے اور جس نے اس کو نماز ( عید ) کے بعد ادا کیا تو یہ باقی صدقہ کی طرح ایک صدقہ ہے, (یعنی ثواب میں کچھ کمی آجاتی ہے )_,*
*📚 ( ابوداؤ د باب زكاة الفطر ا / ۲۲۷)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝114 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ تاجر حضرات صدقہ خیرات کیا کریں لغو باتوں کا گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت قیس بن غرزة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ اے اے سودا گرو ! خرید وفروخت میں لغو اور بے فائدہ باتیں بھی ہو جاتی ہیں اور قسم بھی کھائی جاتی ہے تو (اس کے علاج اور کفارہ کے لیے ) اس کے ساتھ صدقہ بھی ملا دیا کرو۔*
*📚 (اخرجه احمد و ابوداؤد والنساني و ابن ماجه و الحاكم سنن ابی داؤد اول کتاب البيوع- ۴۷۲/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝115 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ رمضان میں غلط کام نہ کیجئے، روزے رکھئے اور اچھے کام کیجئے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا-*
*"_ جس بندہ نے رمضان کا روزہ رکھا اور اس کے حدود کی پہچان حاصل کی جن امور کی رعایت ضروری ہے ان کی رعایت کی تو اس کے تمام گذشتہ گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی _,*
*📚 (الترغيب جلد ۲ صفحه ۹۱ كنز العمال-٨/٤٨١)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝116 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ رمضان میں درج ذیل کام کیجئے گناہ معاف_,*
*"❉_ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"رمضان المبارک کا مہینہ میری امت کا مہینہ ہے، جب مسلمان نے روزہ رکھا نہ اس نے جھوٹ بولا اور نہ کسی کی غیبت کی اور حلال رزق سے افطار کیا، اندھیری رات میں فجر اور عشاء کی نماز میں جانے کی سعی کرتا رہا اور اپنے باقی فرائض کی حفاظت کرتا رہا تو اپنے گناہوں سے ایسا نکل جائے گا جیسے سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے۔*
*📚_(رواه ابو الشيخ كذا في الترغيب جلد ۲، صفحه ۱۰۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝117 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ روزہ رکھنے اور صدقہ فطر ادا کرنے والے کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا-*
*"_ جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور عید کے دن غسل کر کے عید گاہ کی طرف گیا اور رمضان المبارک کو صدقۃ الفطر پر ختم کیا تو عید گاہ سے اس حال میں لوٹے گا کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہوگی ۔"*
*📚(رواه الطبراني في الأوسط، كنز العمال ۴۸۲/۸ : ۲۳۷۳۳)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝118 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ رمضان میں ذکر کرنے والے کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا بخشا بخشا یا ہے اور اللہ سے مانگنے والا نا مراد نہیں رہتا _,*
*📚 (کنز العمال- ۴۶۴/۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝119 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __رمضان میں معافی مانگئے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ:-*
*"_ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پورے مہینہ ایک بھی دروازہ بند نہیں رہتا اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں تمام ماہ کوئی بھی دروازہ نہیں کھلتا اور سرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں۔*
*"❉_ ہر رات ایک منادی صبح تک پکارتا ہے اے خیر کے تلاش کرنے والے متوجہ ہو اور بشارت حاصل کر اور اے برائی کے طلب گار بس کر اور آنکھیں کھول، اس کے بعد فرشتہ کہتا ہے، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ اس کی مغفرت کی جائے، ہے کوئی تو بہ کرنے والا کہ حق تعالی شانہ اس کی توبہ قبول فرمالیں۔ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے، ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کا سوال پورا کیا جائے _,*
*📚 (کنز العمال- ۴۷۰/۸)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝120 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھے اس کے سارے گناہ معاف _,*
*❉_حضرت ابن عمر رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا-*
*"_ جس نے ماہ رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال میں چھ (نفل ) روزے رکھے وہ اپنے گناہوں سے نکل جائے گا جس طرح اپنی ماں سے پیدائیش کے دن تھا۔ (یعنی کوئی بھی گناہ باقی نہ رہے گا ),*
*📚 (رواه الطبراني في الأوسط كذا في الترغیب جلد ۲ صفحه 111، الأوسط للطبراني ۸۲۱۷:۲۸۲/۹),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝121 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ عرفہ کے دن روزہ رکھیے دو سال کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ یعنی ٩ ذی الحجہ کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا-*
*"_ وہ (۹ رذی الحجہ کا روزہ رکھنا ) صفائی کر دے گا, اس سے پہلے سال کی اور بعد کے سال کی_,"*
*"_ یعنی اس کی برکت سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی گندگیاں دھل جائیں گی_,*
*📚(كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه ۱۱۱)*
*"❉_ ایک روایت میں الفاظ حدیث یوں ہیں کہ :-*
*"_ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ (۹ ذی الحجہ کا روزه) صفائی کر دے گا اس سے پہلے سال کی اور بعد کے سال کی _,"*
*"❉_ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا یعنی ٩ ذی الحجہ کے دن اس کی سال گذشتہ اور سال آئندہ کے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی _,*
*📚 (رواه ابن ماجہ كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه -۱۱۲),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝122 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ عاشورہ کا روزہ رکھئے ایک سال کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا-*
*"_ یہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا_,*
*❉_( مسلم وغیرہ۔ اور ابن ماجہ کے ہاں الفاظ حدیث یوں ہیں ) یوم عاشورہ کے روزہ کے بارے میں امید کرتا ہوں اللہ تعالی سے کہ وہ صفائی کر دےگا گذشتہ سال کے گناہوں کی _,*
*📚(مسلم ١/ ۳٦٧- ابن ماجه صفحه ۱٦٤),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝123 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کیجئے گناہ معاف _,*
*❉_حضرت میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا- اے اللہ کے رسول ! نفل روزوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو استعداد رکھتا ہو ہر مہینہ تین روزے رکھ لیا کرے۔ کیوںکہ ہر دن کا روزہ دس خطاؤں کی بخشش کا ذریعہ ہے اور یہ گناہوں سے ایسا صاف ستھرا کر دیتا ہے جیسے پانی کپڑے کو _,*
*📚 (رواه الطبراني في الكبير كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه ۱۲۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝124 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے بدھ، جمعرات اور جمعہ کے دن روزہ رکھا اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-:*
*"_ جس نے بدھ، جمعرات اور جمعہ کے دن روزہ رکھا۔ پھر جمعہ کے دن صدقہ کیا خواہ قلیل مقدار میں یا کثیر مقدار میں تو اس کے تمام گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی حتیٰ کہ وہ ایسا ہو جائے گا جیسا کہ وہ اپنی ماں سے پیدائش کے دن تھا۔ (یعنی کوئی بھی گناہ باقی نہیں رہے گا ),*
*📚 (رواه الطبراني في الكبير والبيهقى ترغيب جلد ۲، صفحه ١٦٢),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝125 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف نہ منہ کیجئے نہ پیٹھ، ایک گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو شخص قضائے حاجت کے وقت نہ تو قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ کرے اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور ایک خطا معاف کی جائے گی ۔*
*📚 (کنز العمال - ٩/٣٦٣),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝126 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ اللہ کے گھر کی زیارت کرنے والا دنیا میں عافیت سے رہتا ہے اور آخرت میں اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے معبود ! آپ کے بندوں کا آپ پر کیا حق ہے جب وہ آپ کے گھر آکر آپ کی زیارت کریں؟ کیونکہ ہر زیارت کرنے والے کا میزبان پر حق ہوا کرتا ہے۔*
*"_ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا- اے داؤد ان کا مجھ پر حق یہ ہے کہ دنیا میں ان کو عافیت اور سلامتی سے رکھوں، اور جب آخرت میں ملوں تو ان کی مغفرت کردوں _,*
*📚 (کنز العمال ۱۲۳۹۳:۱۴۲/۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝127 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ پانچ چیزیں دیکھنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں :-*
*"❉_ ایک صحابی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا-*
*"_ پانچ طرح کا دیکھنا عبادت ہے (1) قرآن پاک کو دیکھنا (۲) کعبۃ اللہ کو دیکھنا (۳) والدین کو نظر شفقت سے دیکھنا (۴) زمزم شریف کو دیکھنا (۵) عالم کے چہرے کو دیکھنا اور یہ باتیں خطاؤں کو گراتی ہے یعنی معاف کراتی ہیں _,*
*❉_ اور دار قطنی میں یوں ہے کہ ایسے آدمی کو دیکھنا جو متبع سنت ہو اور سنت کی طرف دعوت دیتا ہو اور بدعت سے روکتا ہو اس کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔*
*📚 (كنز العمال ۸۸۰/۱۵ : ۴۳۴۹۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝128 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ اگر نامہ اعمال کے شروع میں اور آخر میں خیر لکھی ہوئی ہے تو درمیان کے گناہ معاف :-*
*"❉_ کراماً کاتبین اپنا نوشتہ جب اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کرتے ہیں اور حق تعالٰی شانہ نامہ اعمال کے شروع میں اور آخر میں ملاحظہ فرماتا ہے کہ خیر لکھی ہوئی ہے تو حق تعالیٰ فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے :-*
*”_ تم گواہ رہو کہ میرے بندے کے نامہ اعمال کے درمیان میں جو کچھ ہے اس کو میں نے معاف کر دیا_,*
*📚(کنز العمال-۷۸۱/۱۵ ),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝129 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ نامہ اعمال کے شروع میں اور آخر میں استغفار لکھی ہوئی ہے تو درمیان کے گناہ معاف _,*
*"❉_ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اعمال لکھنے والے فرشتے جب بھی کسی دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں (کسی بندہ کے ) نامہ اعمال پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نامہ اعمال کے اول و آخر میں استغفار دیکھتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے کہ:-*
*"_ میں نے اپنے بندہ کے وہ تمام گناہ اور قصور معاف کر دیئے جو اس کے نامہ اعمال کے اول و آخر کے درمیان لکھے ہوئے ہیں۔"*
*📚 (بزار عن انس)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝130 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ اللہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہئے، آپ کے گناہ معاف :-*
*❉_ اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے” اے ابن آدم تین باتیں ہیں ایک میرے لیے اور ایک تیرے لیے اور ایک تیرے اور میرے درمیان مشترک ہے۔ بہر حال جو میرے لیے ہے وہ یہ ہے کہ تو میری اس طرح عبادت کر کہ میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرا۔*
*❉_ اور جو تیرے لیے ہے وہ یہ ہے کہ تو جو بھی عمل کرے گا ( بھلا یا برا ) میں تجھے اس کا بدلہ دوں گا، پھر اگر میں تجھ کو معاف کروں تو میں غفور رحیم ہوں، اور وہ بات جو میرے اور تیرے درمیان مشترک ہے وہ یہ ہے کہ دعا اور سوال کی ذمہ داری تیری اور عطا اور قبولیت کی ذمہ داری مجھ پر ہے _,*
*📚. أخرجه الطبراني في الكبير عن سلمان رضی الله عنه و اسناده حسن،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝131 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ سلام کیجئے اور نرم گفتگو کیجئے گناہ معاف:-*
*❉_حضرت حانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_مغفرت کو واجب کرنے والے آعمال میں سے سلام کو پھیلانا اور کلام کو نرمی اور خوبی سے پیش کرنا بھی شامل ہے۔“*
*📚 ( رواه الطبراني، كنز العمال- ٩/١١٦: ۲۵۲۵۸),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝132 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے راستہ سے خاردار ٹہنی ہٹائی اس کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ اس شخص کی مغفرت کر دی جائے گی جو لوگوں کے راستے سے خاردار ٹہنی کو ہٹا دے اور اس کی یہ مغفرت گذشتہ اور آئندہ گناہوں کی ہوگی _,*
*📚 (رواه ابن حبان کنز العمال بالفاظ متقاربة ٦/٤٢٠ : ۱۶۳۵۱ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝133 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ اہل خانہ اور پڑوسیوں کی حق تلفی کا کفارہ :-*
*❉_ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ آدمی اگر اپنے اہل و عیال اور اپنے مال, جان اور اولاد اور پڑوسی کے بارے میں کسی معصیت میں مبتلا ہو جائے تو روزہ, نماز ، صدقہ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کا کفارہ بن جائیں گے۔"*
*📚_ صحیح بخاری کتاب الصلوة باب الصلوة كفارة ۷۵/۱، مسلم کتاب الایمان صفحه (۸۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝134 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ آپ کے گناہ زیادہ ہیں تو پانی پلایئے آپ کے گناہ معاف _،*
*"❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جب تیرے گناہ زیادہ ہو جائیں تو بار بار پانی پلا (اگر تو پانی کے کنارے پر ہو ) اس عمل سے تیرے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے جس طرح سخت ہوا میں درخت سے پتے جھڑ جاتے ہیں _,*
*📚 (کنز العمال- ٦/٢٠٩: ۱۰۱۸۳),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝135 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے مسلمان بھائی کو خوش کر دیا اس کے گناہ معاف :-*
*❉_ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے یہ بھی ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی کو خوش کر دے۔“*
*📚 (رواه الطبراني في الكبير والأوسط كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه ۳۹۴، کنز العمال ۴۳۳/۶ : ۱۶۴۱۸ و عزاه لمحمد بن الحسين بن عبد الملک البزار عن جابر )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝136 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ مہمان کا اعزاز و اکرام کیجئے آپ کے گناہ معاف _,*
*❉_حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جب کبھی بھی کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کے لیے جائے اور میزبان مہمان کا اعزاز و اکرام کرنے کی غرض سے مہمان کو تکیہ پیش کرے تو اللہ تعالیٰ اس (میزبان) کی مغفرت فرمادیں گے _,*
*📚 (کنز العمال (۱۵۵/۹: ۲۵۴۰۴)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝137 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے لوگوں کے درمیان صلح کرا دی اس کے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_جو لوگوں کے درمیان مصالحت کرائے گا اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو درست فرما دیں گے اور ہر کلمہ کے بدلے جو دورانِ گفتگو اس نے بولا ایک ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائیں گے اور ( اپنے گھر ) اس حال میں لوٹے گا کہ اس کے گذشتہ گناہوں کی مغفرت ہو چکی ہوگی _,*
*📚 (رواه الأصبهاني كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه ۴۸۹),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝138 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے مسلمان بھائی کی کوئی حاجت پوری کی اس کے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت انس رضی الہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کسی حاجت میں چلا تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے بدلے ستر نیکیاں لکھیں گے اور ستر گنا ہوں کو مٹائیں گے یعنی معاف فرمائیں گے یہاں تک کہ وہ اس مقام پر لوٹ کر واپس آجائے جہاں اس نے اپنے بھائی کو چھوڑا تھا_,*
*"❉_اب اگر اس نے اس کی حاجت پوری کر دی تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا نکل آئے گا جس طرح اپنی ماں سے پیدائش کے دن تھا ( یعنی کچھ بھی گناہ باقی نہیں رہیں گے ) اور اگر اسی سعی و کوشش میں وفات پا گیا تو جنت میں بغیر حساب داخل ہو جائے گا۔“*
*📚 (اخرجه ابن ابي الدنيا والأصبهاني كذا في الترغيب، جلد ۳ صفحه -۳۹۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝139 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جو بگڑے ہوئے تعلقات کو ہموار کرنے میں پہل کرے گا اس کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ دوسرے مسلمان سے تین دن سے زائد قطع تعلق رکھے پس اگر وہ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کیے رہیں تو وہ دونوں حق سے تجاوز کرنے والے ہیں جب تک وہ دونوں اپنی لڑائی پر قائم رہیں,*
*"❉_ اور ان دونوں میں سے پہلے صلح کی طرف رجوع کرنے والے کے لیے صلح کی طرف سبقت اور پہل اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی اور اگر وہ دونوں اپنی لڑائی کو باقی رکھتے ہوئے مر گئے تو جنت میں داخل نہ ہوں گے۔"*
*📚 (رواه البخاري في الادب المفرد، باب هجرة مسلم صفحه 146، باختصار يسير ),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝140 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ اگر کوئی فریق سودا ختم کرنا چاہتا ہے تو ختم کر دیجئے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جو بندہ اپنے کسی مسلمان بھائی کے ساتھ اقالہ کا معاملہ کرے (یعنی اس کی بیچی ہوئی یا خریدی ہوئی چیز کی واپسی پر راضی ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ اس کی غلطیاں (یعنی گناہ) بخش دے گا۔*
*📚 ( رواه ابو داؤد ۴۹۰ و ابن ماجه كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه - ٥٦٦),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝141 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ پیاسوں کو پانی پلائے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا-*
*"_ اس اثناء میں کہ ایک آدمی راستہ میں چلا جا رہا تھا، اسے سخت پیاس لگی، چلتے چلتے اسے ایک کنواں ملا وہ اس کے اندر اترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا۔ کنویں کے اندر سے نکل کر اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہے جس کی زبان باہر نکلی ہوئی ہے اور پیاس کی شدت سے وہ کیچڑ چاٹ رہا ہے, اس آدمی نے دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی پیاس کی ایسی ہی تکلیف ہے جیسی کہ مجھے تھی اور وہ اس کتے پر رحم کھا کر پھر اس کنویں میں اترا اور اپنے چمڑے کے موزہ میں پانی بھر کر اس نے اس کو اپنے منھ میں تھاما اور کنویں سے نکل آیا اور اس کتے کو وہ پانی پلا دیا ،*
*❉_ اللہ تعالیٰ نے اس کی رحم دلی اور اس محنت کی قدر فرمائی اور اس عمل پر اس کی بخشش کا فیصلہ صادر فرمایا۔*
*❉_ بعض صحابہ نے حضور ﷺ سے یہ واقعہ سن کر دریافت کیا- : یا رسول اللہ! کیا جانوروں کی تکلیف دور کرنے میں بھی ہمارے لیے اجر و ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا- " ہاں ہر زندہ اور تر جگر رکھنے والے جانور ( کی تکلیف دور کرنے) میں ثواب ہے _,*
*📚 ( بخاری جلد ا ، صفحہ ۳۱۸، ۳۳۳، مسلم ۲۳۷/۲)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝143 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ بھوکوں کو کھانا کھلائے گناہ معاف:-*
*❉"_ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانا بھی مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے ہے۔*
*📚 کنز العمال- ٩/٢٤٣,*
*❉"_ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*”_ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی بھوک کی وجہ سے (کھانے کا ) اہتمام کرے، اور پھر اس کو کھانا کھلاوے حتیٰ کہ وہ سیر ہو جائے اور اس کو پلائے یہاں تک کہ وہ سیراب ہو جائے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔“*
*📚 ( رواه ابو يعلى كنز العمال /٦ / ۴۲۴ عن انس)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝144 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ دو مسلمان ملاقات کے وقت مصافحہ کریں اور مسکرائیں گناہ معاف _,*
*❉_حضرت ابوداؤد الاعلمی نبی کریم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-*
*"_ دو مسلمان جب آپس میں ملیں اور مصافحہ کریں اور ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے چہرے کو دیکھ کر مسکرائے اور یہ تمام عمل اللہ ہی کے لیے ہو تو جدا ہونے سے پہلے دونوں کی مغفرت کر دی جائے گی _,*
*📚 (رواه الطبراني كذا في الترغيب جلد ۳، صفحه ۴۳۱)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝145 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ لوگوں پر رحم کیجئے اور ان کی خطائیں معاف کیجئے آپ کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ رحم کرو، تم پر بھی رحم کیا جائے گا ۔ بخش دیا کرو تم کو بھی بخش دیا جائے گا, خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو قیف کی طرح ( علم کی بات سنتے ہیں لیکن نہ اس کو یاد رکھتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قیف سے تشبیہ دی, جس میں تیل یا شربت یا عرق گذر کر دوسرے برتن میں چلا جاتا ہے اس میں کچھ نہیں رہتا) اور خرابی ہے ضد کرنے والوں کے لیے جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں حالانکہ ان کو علم ہے۔“*
*📚 (اخرجه احمد و کنز العمال ۱٦٤/٣ : ۵۹۷٦ عن ابن عمر),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝146 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"خوش خلقی گناہوں کو ایسے پکھال دیتی ہے جیسے سورج برف کو پکھال دیتا ہے۔“*
*📚 (كنز العمال ۵۱۳۳:۳/۳)*
*"❉_ خوش خلقی خطاؤں کو یوں پکھلا دیتی ہے جس طرح پانی برف کو پچھال دیتا ہے اور بد خلقی عمل کو یوں بگاڑتی ہے جس طرح سرکہ شہد کو بگاڑ دیتا ہے۔*
*📚كذا في الترغيب جلد ۳، صفحه ۴۰۹،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝147 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ آپ کو کوئی زخم پہنچائے تو معاف کر دیجیے، آپ کے گناہ معاف_,*
*❉_ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا- :*
*"_جس آدمی کے جسم کو زخمی کر دیا جائے پھر یہ زخمی جارح کو معاف کر دے تو بقدر معافی اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔*
*📚 (کنز العمال (۳۹۸۵۱:۱۲/۱۵)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝148 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ آپ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو معاف کر دیجیے آپ کا ایک گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_جس کسی مسلمان کو اپنے جسم میں کوئی تکلیف کسی آدمی کی طرف سے پہنچے، پھر وہ اس کو معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمادے گا اور ایک خطا اس کی معاف فرما دے گا۔*
*📚 (کنز العمال ۱۲/۱۵)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝149 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے نابینا آدمی کو اس کے گھر تک پہنچا دیا اس کے چالیس کبیرہ گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- :*
*"_ جو نابینا آدمی کو لے چلا حتیٰ کہ اس کے گھر تک پہنچا دیا تو اس کے چالیس کبیرہ گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی اور چار کبائر بھی دوزخ کو واجب کر دیتے ہیں _,*
*📚 (کنز العمال ۷۹۲/۱۵: ۴۳۱۳۸)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝150 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ ایک دوسرے سے نہ بولنے والے باہم صلح کر لیں گناہ معاف _,*
*❉"_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر اور جمعرات میں اللہ ہر مسلمان کی مغفرت فرما دیتا ہے سوائے ان دو شخصوں کے جنہوں نے آپس میں بولنا چھوڑ رکھا ہے،*
*"_ ارشاد ہوتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ دونوں صلح کر لیں,*
*📚 (رواه ابن ماجه كتاب الصيام صيام يوم الاثنين والخميس صفحه -۱۲۴),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝151 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ مالدار کو مہلت دیجیے اور غریب کا قرضہ معاف کر دیجیے آپ کے گناہ معاف _,*
*❉_قیامت کے دن اللہ کے پاس اس کے بندوں میں سے ایک بندے کو لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں مال عطا فرما رکھا تھا، ارشاد فرمائے گا دنیا میں کیا عمل کیا ؟ وہ عرض کرے گا " یا اللہ ! میں نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا ( جس کو تیری جناب میں پیش کر سکوں) البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ تونے مجھے مال عطا فرمایا تھا۔ میں لوگوں سے تجارت کیا کرتا تھا اور میری یہ خصلت تھی کہ مالدار کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست کو معاف کر دیا کرتا تھا _,*
*❉_حق تعالٰی شانہ ارشاد فرمائے گا ( یہ کریمانہ رویہ ) میرے لیے زیادہ سزاوار ہے۔ اور میں اس کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں کہ معافی اور درگزر کا معاملہ کروں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے سے درگزر کرو۔"*
*📚 كذا في الترغيب ج ۲ صفحه ۴۳، حاكم عن ابي مسعود -۲۹/۲ : ۲۲۲۶)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝152 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ طلب معاش میں جو تھکا اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس شخص نے شام کی اس حالت میں کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی وجہ سے تھکا ہوا تھا تو اس نے شام کی اس حالت میں کہ اس کی مغفرت ہو چکی ۔"*
*📚 (رواه الطبراني في الاوسط و رواه الأصبهاني من حديث ابن عباس كذا في الترغيب جلد ۲، صفحه ۵۲۴ کنز العمال ۷/۴ : ۹۲۱۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝153 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ رنج و غم اور معاشی تفکرات سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں _,*
*"❉_ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جب بندے کے گناہ بہت ہو جائیں اور اس کا کوئی عمل ایسا نہیں ہوتا جو ان گناہوں کا کفارہ بن سکے تو اللہ تعالیٰ اس کو غم میں مبتلا کر دیتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس غم کی وجہ سے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیں _,*
*📚 (اخرجه احمد باسناد حسن ترغیب جلد ۴، صفحه-۲۸۷),*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ مؤمن کو جو تھکن پہنچتی ہے اور مرض پہنچتا ہے اور فکر ورنج اور اذیت اور غم حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان تمام کی وجہ سے اس کی خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں_,*
*📚 (اخرجه البخاری و مسلم )،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝154 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ کوئی نامناسب بات کہے تو صبر کیجیے آپ کے گناہ معاف _,*
*"❉_ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا جب وہ سجدہ میں گیا تو ایک اور آدمی آیا اور اس کی گردن کو اس نے ( بے خیالی میں ) روند دیا جو سجدہ میں پڑا ہوا تھا اس نے کہا اللہ کبھی بھی تیری مغفرت نہیں کرے گا۔ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میرے بندہ کے بارے میں قسم کھا کر وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس کی مغفرت نہیں کروں گا تحقیق میں نے اس کی مغفرت کردی،*
*📚 (کنز العمال- ٣/٥٦٠)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝155 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ آزمائش کے وقت صبر کیجئے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ مؤمن بندہ اور مؤمن عورت کی جان میں اس کی اولاد اور مال میں آزمائش آتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملتا ہے اور اس پر کوئی بھی گناہ نہیں ہوتا _,*
*📚(جامع الترمذى باب الصبر على البلاء -٦٣/٢),*
*"❉_ قریب قریب رہو اور سیدے سیدھے رہو ہر نا گوار بات جو مسلمان کو پہنچے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے حتیٰ کہ کوئی مصیبت جو اس کو پہنچے اور کانٹا جو اس کو چبھے“*
*📚 (اخرجه مسلم والترمذى و احمد رواه مسلم باب ثواب المومن فيما يصيبه من مرض الخ (۳۱۹/۲)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝156 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ تین چیزوں کو چھپائے گناہ معاف _,*
*❉_ تین چیزیں نیکی کے خزانوں میں سے ہیں :-*
*(۱) صدقہ کو مخفی طریقے سے ادا کرنا,*
*(۲) مصیبت کو چھپانا,*
*(۳) ہر قابل شکایت بات کو چھپانا۔*
*❉_الله عز وجل ارشاد فرماتے ہیں- جب میں اپنے کسی بندے کو آزمائش میں مبتلا کروں، پھر وہ صبر کرے اور اپنی عیادت کے لیے آنے والوں سے شکایت نہ کرے پھر میں اس کو تندرست کردوں تو اس کے گوشت سے بڑھیا گوشت اور اس کے خون سے بڑھیا خون بدلے میں اس کو عطا کرتا ہوں اور اگر اس کو چھوڑ دوں یعنی مرض ہی کی حالت میں زندہ رکھا تو اس حال میں چھوڑتا ہوں کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہ رہے اور اگر اس کی روح قبض کروں تو اس حال میں قبض کروں گا کہ میں اپنی رحمت میں اس کو ٹھکانا دوں گا۔"*
*📚 (اخرجه الطبراني و الحاكم عن انس كنز العمال ۴۸۰/۱۵ : ۴۳۳۴۱)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝157 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ نا مناسب حالات پر صبر کیجیے گناہ معاف _,*
*"❉_ بلا ہر روز پوچھتی ہے کہ آج کس طرف رُخ کروں؟ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں میرے محبوب اور مطیع فرماں بردار بندوں کی طرف ۔ تیری وجہ سے لوگوں میں سے سب سے بہترین کو جانچتا ہوں اور ان کے صبر کا امتحان لیتا ہوں اور ان کے گناہوں کو زائل کرتا ہوں اور تیری ہی وجہ سے ان کے درجات بلند کرتا ہوں_,*
*"❉_ فراخی ( خوش حالی) بھی روز اللہ سے پوچھتی ہے کہ آج کدھر کا رخ کروں؟ ارشاد ہوتا ہے میرے دشمنوں اور میرے نافرمانوں کی طرف، تیرے ذریعہ ان کی سرکشی بڑھانا چاہتا ہوں ان کے گناہوں میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں اور تیری وجہ سے ان کی فوری گرفت کرتا ہوں اور تیری وجہ سے ان کی غفلت زیادہ کرنا چاہتا ہوں _,*
*📚 (کنز العمال (۶۸۵۰:۳۴۱/۳),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝158 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے بیمار کی عیادت کی اس کے گناہ معاف :-*
*❉_حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ نے فرمایا-*
*"_ جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کرے تو اس کے ہمراہ ستر ہزار (۷۰۰۰۰) فرشتے چلتے ہیں جو صبح تک اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور جو شخص صبح کے وقت کسی مریض کی عیادت کو جائے تو اس کے ہمراہ ستر ہزار (۷۰۰۰۰) فرشتے چلتے ہیں جو شام تک اس کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔"*
*📚 (اخرجه ابوداؤد و الحاكم كذا في الترغيب جلد ۴ صفحه ۳۲۰ ابوداؤد باب فضل العيادة على وضوء كتاب الجنائز عن على موقوفا- ۴۴۲/۲)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝159 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ بیمار آدمی کی دعا مقبول اور گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ بیماروں کی عیادت کیا کرو اور ان سے اپنے لئے دعا کی درخواست کیا کرو، کیوںکہ مریض کی دعا مقبول ہے اور اس کا گناہ معاف ہے_,*
*"❉_ اور ایک روایت میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو کیوںکہ بیمار کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے۔*
*📚(کنز العمال ۲۵۱۴۷:۹۶/۹)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝160 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ حالت اسلام میں جس کا ایک بال سفید ہوا اس کا ایک گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ حالت اسلام میں کوئی آدمی بوڑھا نہیں ہوتا مگر اللہ رب العزت اس کی وجہ سے اس کے لیے ایک نیکی لکھتے ہیں اور اس کی ایک خطا معاف فرماتے ہیں ۔"*
*"❉_ ابن حبان نے الفاظ حدیث یوں نقل کیے ہیں:-*
*"_ نہیں ہے کوئی مسلمان کہ وہ حالت اسلام میں بوڑھا ہو جائے مگر اللہ تعالی اس کے لیے ایک نیکی لکھتے ہیں اور اس کی ایک خطا معاف فرماتے ہیں اور اس بڑھاپے کی وجہ سے اللہ تعالٰی اس کا ایک درجہ بلند فرماتے ہیں _,*
*📚 ( ابوداؤد ۵۷۸/۲۹ عن ابن عمرو)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝161 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ معمولی بیماری پر ایک گناہ معاف_,*
*❉_حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-*
*"_ کبھی بھی کسی مسلمان کی رگ نہیں پھڑ کی مگر اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی ایک خطا معاف فرما دیتے ہیں اور اس کے لیے ایک نیکی لکھتے ہیں اور ایک درجہ اللہ تعالٰی اس کا بلند فرما دیتے ہیں ۔"*
*📚 كنز العمال (۶۶۷۵ :306/3)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝162 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ ایک رات کے بخار سے ایک سال کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ بخار حصہ ہے ہر مومن کا آگ سے یعنی دوزخ سے اور ایک رات کا بخار ایک پورے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے_,*
*📚 (اخرجه القسناعي)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝163 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ بخار کو برا بھلا نہ کہو، اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں _,*
*"❉_حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سائب کے وہاں تشریف لے گئے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا-*
*"_ ارے کیا بات ہے، کپکپا رہی ہو؟“ وہ عرض کرنے لگی کہ بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ دے_,*
*"❉_ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-:*
*” بخار کو برا مت کہو کیوںکہ یہ بنی آدم کی خطاؤں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے۔"*
*📚 (صحیح مسلم ۲/ ۳۱۹)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝164 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ سفر میں جس کی طبیعت خراب ہو گئی اس کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ مسافر آدمی جب بیمار ہو جائے اور اپنے دائیں بائیں اور آگے پیچھے دیکھنے لگے اور کوئی بھی اس کو جان پہچان کا آدمی نظر نہ آئے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے_,*
*📚 (کنز العمال ۳/ ۲۶۸۹:۳۰۸)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝165 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جو ایک رات یا اس سے زیادہ بیمار رہا اس کے گناہ معاف_,*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا-*
*"_ جو آدمی ایک رات بیمار رہا، پھر اس پر صبر کیے رہا اور اللہ عز وجل سے راضی رہا تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے ماں سے پیدائش کے دن تھا یعنی کچھ بھی گناہ باقی نہیں رہیں گے۔“*
*📚 (اخرجه ابن أبي الدنيا و الحكيم الترمذي و في الترغيب مَنْ وعَكَ جلد ۴ صفحه -۲۹۹),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝166 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ بیماری سے سارے گناہ معاف _,*
*"❉_ مریض کا درد سے کراہنا تسبیح ہے اور درد سے چیخنا تہلیل ہے اور سانس لینا صدقہ ہے بستر پر لیٹنا عبادت ہے ایک پہلو سے دوسرے پہلو کی طرف کروٹ لینا ایسا ہے جیسا کہ اللہ کی راہ میں دشمن سے قتال کر رہا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ صحت کی حالت میں وہ جو اچھے عمل کیا کرتا تھا ان کو نامہ اعمال میں لکھو۔*
*"❉_ جب وہ صحت یاب ہو کر بستر سے اٹھ کر چلتا ہے تو اس طرح ہو جاتا ہے گویا اس نے کوئی گناہ نہیں کیا جیسا کہ اپنی ماں سے پیدائش کے دن تھا۔*
*📚 (کنز العمال ۳۱۱/۳ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝166 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ عیادت کرنے والوں کے سامنے بیمار آدمی اللہ کی تعریف کرے، اس کے گناہ معاف :-*
*"❉_ جب بندہ بیمار پڑ جاتا ہے تو اللہ پاک اس کے پاس دو فرشتوں کو یہ کہہ کر بھیجتے ہیں کہ اس کو ذرا دیکھو اپنی عیادت کو آنے والوں سے کیا کہتا ہے؟ پھر اگر وہ بیمار بندہ مزاج پرسی کے لیے آنے والوں کے سامنے اپنی اس حالت پر اللہ کی تعریف کرتا ہے تو فرشتے اس کے اس قول کو اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ پاک سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، پھر ملائکہ سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کو اگر موت دے دی تو اس کو جنت میں داخل کروں گا اور اگر شفا دی تو پہلے گوشت سے بڑھیا گوشت اور پہلے خون سے بڑھیا خون اس کو دوں گا اور اس کے گناہوں کو معاف کردوں گا۔*
*📚 (کنز العمال ۳/ ۶۷۰۴:۱۵),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝167 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ بیمار آدمی لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الخ چالیس مرتبہ پڑھے سارے گناہ معاف :-*
*"❉_ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا-*
*"_ کیا میں تم کو اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم نہ بتادوں کہ جس کے ذریعہ سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں، اور سوال کیا جائے تو پورا فرماتے ہیں؟ یہ وہ دعا ہے جس کے ذریعہ حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو تین اندھیریوں میں پکارا تھا, "لا إلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ " آپ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ تمام عیبوں سے پاک ہیں بیشک میں ہی قصور وار ہوں ( تین اندھیریوں سے مراد رات، سمندر اور مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے ہیں ),*
*"❉_ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا- یا رسول اللہ ! کیا یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام کے لیے خاص ہے یا تمام ایمان والوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا- کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا ( وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ (الآية 88 من سورة الأنبياء) ﴾ کہ ہم نے یونس علیہ السلام کو مصیبتوں سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں ۔*
*"❉_ رسول اللہ صلی الہ وسلم نے ارشاد فرمایا- جو مسلمان اس دعا کو اپنی بیماری میں چالیس مرتبہ پڑھے اگر وہ اس مرض میں فوت ہو جائے تو اس کو شہید کا ثواب دیا جائے گا اور اگر اس بیماری سے اسے شفا مل گئی تو اس شفا کے ساتھ اس کے تمام گناہ معاف کیے جاچکے ہوں گے_,*
*📚 (رواه الحاكم ۵۰۶/۱),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝168 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ اللہ کے راستے میں آپ کے سر میں درد ہو تو صبر کیجئے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جس شخص کے سر میں درد ہو اور وہ اس پر ثواب کی نیت رکھے تو اس سے پہلے کے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے _,*
*📚 ( مجمع الزوائد ۳۰۶/۲ ، و عزاه للبزار)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝169 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے عرفہ کے دن اپنے کان، اپنی نگاہ اور زبان کو قابو میں رکھا اس کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نو عمر لڑکا عرفہ کے دن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا (یعنی آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا) پس یہ نوجوان عورتوں کو دیکھنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا-*
*"_ اے بھتیجے ! یہ وہ دن ہے کہ جس میں اگر آدمی اپنے کان اپنی نگاہ اور اپنی زبان پر قابو رکھے تو اللہ تعالی اس کی مغفرت فرمادیں گے۔"*
*📚 (مسند احمد ۱ / ۳۰۴۲۰:۳۲۹)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝170 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ عرفہ کے دن بڑے بڑے گناہ معاف ہوتے ہیں _,*
*"❉_ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*": _غزوہ بدر کا دن تو مستثنیٰ ہے ( اس کو چھوڑ کر ) شیطان کسی بھی دن اتنا ذلیل, اتنا خوار، اتنا دھتکارا اور پھٹکارا ہوا اور اتنا جلا بھنا نہیں دیکھا گیا جتنا وہ عرفہ کے دن ذلیل و خوار، روسیاہ اور جلا بھنا دیکھا جاتا ہے، اور یہ صرف اس لیے کہ وہ اس دن اللہ کی رحمت کو (موسلا دھار ) برستے ہوئے اور بڑے بڑے گناہوں کی معافی کا فیصلہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اور یہ اس لعین کے لیے نا قابل برداشت ہے _,*
*"❉_ کیونکہ بدر کے دن شیطان نے حضرت جبرائیل کو دیکھا کہ وہ ملائکہ میں پیش قدمی کر رہے ہیں جو مسلمانوں کی مدد کو اترے تھے _,*
*📚 (موطا امام مالک باب جامع الحج صفحه ١٦٤، رواه مالک و البيهقى كذا في الترغيب جلد ۲ ، صفحه ۲۰۱)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝171 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف نہ منہ کیجئے نہ پیٹھ ایک گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو شخص قضائے حاجت کے وقت نہ تو قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ کرے اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور ایک خطا معاف کی جائے گی ۔*
*📚 (کنز العمال- ٩/٣٦٣),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝172 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ پانچ چیزیں دیکھنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں :-*
*"❉_ ایک صحابی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا-*
*"_ پانچ طرح کا دیکھنا عبادت ہے (1) قرآن پاک کو دیکھنا (۲) کعبۃ اللہ کو دیکھنا (۳) والدین کو نظر شفقت سے دیکھنا (۴) زمزم شریف کو دیکھنا (۵) عالم کے چہرے کو دیکھنا اور یہ باتیں خطاؤں کو گراتی ہے یعنی معاف کراتی ہیں _,*
*"❉_ اور دار قطنی میں یوں ہے کہ ایسے آدمی کو دیکھنا جو متبع سنت ہو اور سنت کی طرف دعوت دیتا ہو اور بدعت سے روکتا ہو اس کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔*
*📚 (كنز العمال ۸۸۰/۱۵ : ۴۳۴۹۴)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝173 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ حج کیجیے آپ کے گناہ معاف _,*
*"❉_ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی لطف وکرم کے ساتھ اہل عرفات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنے بندوں کے ذریعہ ملائکہ پر فخر فرما کر ارشاد فرماتے ہیں- اے میرے فرشتوں ! میرے بندوں کو دیکھو کہ پراگندہ بال غبار آلود جسم لے کر دور دراز کی راہ طے کر کے میرے دربار میں پہنچے ہیں۔ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی دعاؤں کو قبول کر لیا اور ان کی رغبت و خواہش کا میں سفارشی بن گیا ان کے بدکاروں کو ان کے محسنین ( نیکوکاروں ) کی وجہ سے معاف کر دیا ان کے نیک لوگوں نے جو کچھ مانگا وہ میں نے دے دیا سوائے تاوان اور ڈنڈ کے جو ان کے درمیان ہیں،*
*"❉_ پھر جب لوگ عرفات سے لوٹے تو سب لپک کر چلے یہاں تک کہ مزدلفہ میں آکر ٹھہرے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں- اے میرے فرشتوں ! میرے بندوں کو دیکھو دوبارہ مجھ سے درخواست کرتے ہیں، میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی دعاؤں کو قبول لیا، اور ان کی رغبت و خواہش کا سفارشی بن گیا، اور ان کے بدکاروں کو ان کے نیکوکاروں کی وجہ سے معاف کر دیا اور ان کے نیک لوگوں نے جو کچھ مانگا وہ میں نے ان کو دیا، اور ان کے تاوان اور ڈنڈ جو ان کے درمیان تھے اس کا میں کفیل یعنی ذمہ دار بن گیا _,*
*📚 عن انس و ضعیف كذا في الترغيب جلد ٢ صفحه ۲۰۲),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝174 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے اچھی طرح حج کیا اس کے سارے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ ارشاد فرما رہے تھے کہ,*
*"_ جس نے اس طرح حج کیا کہ اس میں نہ تو کسی شہوانی اور فحش بات کا ارتکاب کیا اور نہ اللہ کی کوئی نافرمانی کی تو وہ گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو کر واپس ہوگا جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔*
*📚 (بخاری ٢٠٦/١, باب فضل الحج المبرور و مسلم ۱ / ۴۳٦ باب فضل الحج والعمرة ),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝175 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ حج اور عمرہ کیا کر و فقر دور ہوگا اور گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ پے در پے حج اور عمرہ کیا کرو، کیوںکہ حج اور عمرہ دونوں فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح لوہار اور سنار کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے اور حج مبرور کا صلہ اور ثواب تو بس جنت ہی ہے _,*
*📚 (ترندی باب ماجاء في ثواب الحج والعمرة ١٠٠/١)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝176 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ اسلام ، ہجرت اور حج سے گذشتہ گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابی شماتہ مہری سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمرو بن العاص کے پاس ان کے آخری وقت میں حاضر ہوئے وہ زار و قطار رو رہے تھے ( اور دیوار کی طرف اپنا رخ کیے ہوئے تھے، ان کے صاحبزادے انہیں سمجھانے لگے کہ ابا جان! حضور ﷺ نے تو آپ کو بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے دیوار کی طرف سے اپنا رخ بدلا اور فرمایا-*
*"_ بھئی سب سے افضل چیز جو ہم نے آخرت کے لیے تیار کی ہے وہ توحید اور رسالت کی شہادت ہے, میری زندگی کے تین دور گزرے ہیں۔ ایک دور تو وہ تھا جب کہ آپ سے بغض رکھنے والا مجھ سے زیادہ کوئی اور شخص نہ تھا اور جب کہ میری سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ کسی طرح آپ پر میرا قابو چل جائے تو میں آپ کو مار ڈالوں یہ تو میری زندگی کا سب سے بدتر دور تھا اگر خدا نخواسته اسی حال پر مرجاتا تو یقیناً دوزخی ہوتا،*
*❉_ اس کے بعد جب اللہ نے میری دل میں اسلام کی حقانیت ڈالی تو میں آپ کے پاس آیا اور میں نے کہا لائیے ہاتھ بڑھائیے ، میں آپ سے بیعت کرتا ہوں ، آپ نے ہاتھ بڑھا دیا، میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ آپ نے فرمایا : اے عمرو ! یہ کیا ؟ میں نے عرض کیا میں کچھ شرط لگانا چاہتا ہوں، فرمایا کیا شرط لگانا چاہتے ہو؟ میں نے کہا یہ کہ میرے سب گناہوں کی مغفرت ہو جائے۔*
*"❉_ آپ نے فرمایا: "اے عمرو! کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ اسلام تو کفر کی زندگی کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت بھی پہلے تمام گناہوں کو صاف کر دیتی ہے اور حج بھی پہلے سب گناہ ختم کر دیتا ہے۔“*
*📚 ( كذا في الترغیب جلد ۲ صفحه ۳۱۳، صحیح مسلم کتاب الايمان ١/٧٦)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝177 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ حاجی جس کے لیے مغفرت کی دعا کرے اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ حاجی کی اور جس کے لیے حاجی بخشش کی درخواست کرتا ہے اس کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرما دیتے ہیں ۔“*
*❉_ اور ایک روایت میں یوں ہے: اے اللہ ! حاجی کی اور جس کے لیے حاجی مغفرت کی درخواست کرے اس کی مغفرت فرما دے ۔*
*📚 (کنز العمال فی مراسیل عمر ۱۲۳۷۵:۱۳۷/۵)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝178 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جب حاجی احرام باندھ کر تلبیہ پڑھتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں_,*
*"❉_ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ نہیں جاتا کوئی مسلمان بندہ اللہ کے راستہ میں یا کوئی حاجی لا اله الا اللہ پڑھتے ہوئے یا لبیک پڑھتے ہوئے مگر سورج اس کے گناہوں کو لے کر ڈوب جائے گا اور وہ گناہوں سے نکل جائے گا۔*
*📚 (کنز العمال- عن الخطيب والدیلمی (۱۱۸۶۴:۱۸/۵)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝179 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ حج یا عمرہ کرنے والا راستہ میں مر گیا تو اس کے گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جو مکہ مکرمہ کے راستے میں جاتے یا آتے ہوئے مر گیا نہ اس کی عدالت میں پیشی ہے اور نہ حساب لیا جائے گا اور اس کی مغفرت کر دی جائے گی ۔*
*📚 (رواه الأصبهاني كذا في الترغيب جلد ٢، صفحه -۱۷۹),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝180 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے مسجد اقصیٰ سے حج یا عمرہ کا احرام باندھا اس کے گناہ معاف _,*
*"❉_ ام المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس نے مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کی طرف حج یا عمرہ کا احرام باندھا اس کے پچھلے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی_,*
*"❉_اور ایک روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی _,*
*📚 ( ابو داؤد باب المواقیت ۲۴۳/۱)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝181 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے مناسک حج پورے کئے اور اس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہے اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس نے مناسک حج پورے کیے اور اس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہے یعنی حج کے بعد تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے اگلے گناہوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں _,*
*📚 (رواه ابو يعلى و ابن منيع، کنز العمال ۸/۵ : ۱۱۸۱۰ )*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝182 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے بیت اللہ کے پچاس طواف کئے اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-*
*"_ جس نے بیت اللہ کے پچاس مرتبہ طواف کئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا نکل جائے گا جس طرح اپنی ماں سے پیدائش کے دن تھا ۔"*
*📚(اخرجه الترمذى كذا في الترغيب جلد ۲ صفحه ۱۹۲،)*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝183 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ طواف کرنے والے کے ہر قدم پر ایک گناہ معاف _,*
*"❉_ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ جس نے اللہ کے اس گھر کا سات بار طواف کیا وہ نہ کوئی قدم اٹھاتا ہے نہ رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھتے ہیں اور ایک گناہ اس سے مٹاتے ہیں اور اس کے لیے ایک درجہ بلند فرماتے ہیں،*
*"❉_ اور راوی کہتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا اور اہتمام و فکر کے ساتھ کیا ( یعنی سنن و آداب کی رعایت کے ساتھ ) تو اس کا یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا _,*
*📚 (کنز العمال ۵۳/۵ : ۱۲۰۱۷ بزیادہ اسبوعا وعزاه لا بن حبان عن ابن عمر ),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝184 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جس نے حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کیا اس کے گناہ معاف _,*
*"❉_حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام خطاؤں کو مٹا دیتا ہے_,*
*"❉_ امام ترندی اور حاکم کے یہاں الفاظ حدیث یوں ہیں کہ حجر اسود اور رکن یمانی گناہوں کے کفارے کا ذریعہ ہے ( بندہ طواف کرتے ہوئے جب ایک قدم رکھے گا اور دوسرا قدم اٹھائے گا تو اللہ تعالٰی اس کے ہر قدم کے بدلے ایک گناہ معاف کرے گا اور ایک نیکی کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا ) _,*
*📚 (کنز العمال عن ابن زنجویه ۵/ ۱۲۵۲۶:۱۸۹)،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝185 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ جو بیت اللہ میں داخل ہو گیا اس کے گناہ معاف _,*
*❉_حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا-*
*"_ جو بیت اللہ شریف میں داخل ہو گیا وہ نیکی کی کان میں داخل ہو گیا اور گناہ سے بخشا بخشا یا نکل آیا _,*
*📚 (کنز العمال ۱۲/ ۳۴۲۴۲:۱۹۷),*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝186 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ _ جس نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھی اس کے گناہ معاف :-*
*"❉_ جس نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھی تو اس کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی اور قیامت کے دن ایمان والوں کے ساتھ اس کو اٹھایا جائے گا _,*
*📚 کذا فی خصائل مغفرۃ الابن حجر، ١٢٠,*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*⚄ پارٹ↝186 ⚄* ▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
*☞ __ اللہ کے گھر کی زیارت کرنے والا دنیا میں عافیت سے رہتا ہے اور آخرت میں اس کے گناہ معاف _,*
*❉_ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا-*
*"_ حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کیا- اے میرے معبود ! آپ کے بندوں کا آپ پر کیا حق ہے جب وہ آپ کے گھر آکر آپ کی زیارت کریں؟ کیونکہ ہر زیارت کرنے والے کا میزبان پر حق ہوا کرتا ہے _,*
*❉_ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا- اے داؤد ان کا مجھ پر حق یہ ہے کہ دنیا میں ان کو عافیت اور سلامتی سے رکھوں، اور جب آخرت میں ملوں تو ان کی مغفرت کردوں _,*
*📚 (کنز العمال ۱۲۳۹۳:۱۴۲/۵ و عزاه لابن عساکر)،*
*_ الحمدللہ پوسٹ مکمل ہوئی _,*
https://whatsapp.com/channel/0029VaoQUpv7T8bXDLdKlj30
*👆🏻 واٹس ایپ چینل کو فالو کریں_،*
▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔
💕 *ʀєαd,ғσʟʟσɯ αɳd ғσʀɯαʀd*💕
https://whatsapp.com/channel/0029VaoQUpv7T8bXDLdKlj30
*👆🏻 واٹس ایپ چینل کو فالو کریں_،*
*❥✍ Haqq Ka Daayi ❥*
http://haqqkadaayi.blogspot.com
*👆🏻 ہماری پچھلی سبھی پوسٹ کے لئے سائٹ پر جائیں ,*
https://chat.whatsapp.com/ImzFl8TyiwF7Kew4ou7UZJ
*👆🏻 واٹس ایپ پر صرف اردو پوثٹ لنک سے جڑیں _,*
https://t.me/haqqKaDaayi
*👆🏻 ٹیلی گرام پر لنک سے جڑے _,*
https://www.facebook.com/share/1BYZV136N9/
*👆🏻 فیس بک پیج لائیک کریں _,*
▉
0 Comments