❈❦ 06 ❦❈*
☜█❈ *حق کا داعی*❈ █☞
☞❦ *نور -ے- ہدایت* ❦☜
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ دین پر چلنے کا اختیار_,*
*★_ جتنی امت پر تنگیاں ہیں کسی بھی لائن سے، ان تنگیوں سے نکلنے کے لیے سب سے بنیادی چیز تقوی ہے، اس لیے اللہ تعالی نے تقوے پر وعدے فرمائے ہیں اور خوب وعدے فرمائے ہیں، پانچ وادے ہیں تقوے پر،*
*★_ فرمایا جو تقوی اختیار کرے گا ہم اس کے نکلنے کا راستہ بنائیں گے، روایتوں میں اتا ہے کہ ساتوں آسمانوں زمین ملا دیے جائیں اور وہاں کسی کو گناہ کا موقع دیا جائے اور وہ اس گناہ سے بچنا چاہے تو اللہ تعالی ساتوں زمین آسمان سے نکلنے کا راستہ بنا دیں گے،*
*★_ بہت سارے امور بہت سارے قوانین ایسی ہیں کہ مسلمان یہ کہہ کر بیٹھ گیا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ جو شخص جتنے دین پر چلنے کا اختیار رکھتا ہے اتنے دن پر اگر نہیں چلے گا اللہ رب العزت دین کے ان امور پر جن پر چلنے کا اختیار نہیں ہے, مومن کی مدد غیروں کے مقابلے پر نہیں کریں گے، تم جتنا کر سکتے ہو اس کو پورا کرو،*
*★_ یوسف علیہ السلام یہ کہہ کر نہیں بیٹھ گئے نعوذ باللہ کہ میں کیا کر سکتا ہوں, دروازے بند ہیں, نکل نہیں سکتا بلکہ اٹھ کر بھاگے, ایک دروازے پر پہنچتے دروازہ کھل جاتا تھا, سارے دروازے کھلتے چلے گئے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ اوس بن مالک رضی اللہ عنہ کی رہائی کا واقعہ :-*
*★_ سوال امدنی کا ذریعہ نہیں ہے، سوال امدنی کے ختم ہونے کا ذریعہ ہے،*
*★_ ایک صحابی تھے اوس بن مالک رضی اللہ عنہ, ان کے والد ان کی رہائی سے مایوس ہو گئے تھے، یہ مشرک کی قید میں تھے سخت جیل میں، عرض کیا میں اپنے بیٹے کی رہائی سے مایوس ہو چکا ہوں، عرصہ گزر گیا اس کو قید میں، کیا کروں ؟ فرمایا اس سے کہو لا حول.... پڑھا کریں,*
*★_ انہوں نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھا، قید خانہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرا، یہ وہاں سے نکلے، ایک اونٹنی بیٹھی ہوئی تھی، اس پر سوار ہوئے، باہر میدان سارا اونٹوں سے بھرا ہوا تھا مشرکین کا، ایک اشارہ کیا، وہ سارے اونٹ ان کے پیچھے ہو گئے، سب کو لے کر گھر پہنچے، آ کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ معاملہ ہوا, تب یہ آیت نازل ہوئی ہم رزق کے دینے میں زمین کے پابند نہیں ہیں،*
*★_ کیونکہ زمین قدرت کے تعارف کے لیے ہے، زمین قدرت سے لینے کے لیے نہیں ہے، اگر روزانہ ان شکلوں کا انکار نہیں کرو گے تو رفتہ رفتہ مؤمن کو شکلوں کے یقین پر آمادہ کیا جائے گا کہ زمین تمہیں گلہ دے رہی ہے، زمین کا شکریہ ادا کرو، زمین تمہیں گلہ دے رہی ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ سوال سے بچنے پر ایک صحابی پر رزق کا دروازہ کھلنا:-*
*★_ اللہ تعالی کا تقوے پر وعدہ ہے کہ تم سوال سے بچنا چاہو گے ہم تمہیں اسی جگہ سے رزق دیں گے جہاں سے اس کا آنا ممکن نہیں،*
*★_ لوگ سمجھتے ہیں سوال سے مسئلہ حل ہو جائے گا، سوال سے مسائل حل نہیں ہوتے سوال سے مسائل پیدا ہوتے ہیں, سوال سے فقر کا دروازہ ختم نہیں ہوتا سوال سے فقر بڑھتا ہے،*
*★_ ایک صحابی فقر سے تنگ آ کر نکلے گھر سے, بیوی کو خیال ہوا کہیں ایسا نہ ہو پڑوس میں کہیں جا کر گھر کا حال کھول دے, بیوی نے خالی چکی چلانا شروع کر دی کہ اواز ہوگی چکی چلنے کی, گھر کے تندور میں اگ جلائی تاکہ دھواں اٹھے اور لوگ دیکھیں کہ ان کے یہاں تو کھانا بھی پک رہا ہے اٹا بھی پس رہا ہے,*
*★_ صحابی نے دیکھا دھواں اٹھتا ہوا، پلٹ کر گھر آئے، کیا بات ہے پکانے کو تو کچھ ہے نہیں یہ آگ کیوں جل رہی ہے ؟ بیوی نے کہا - تم گھر سے نکلے تو مجھے کھٹکا ہوا کہیں سوال نہ کر بیٹھو، میں نے تندور میں اگ جلا دی چکی کو چلا دیا، اللہ کی شان چکی خود بخود چل رہی تھی، اس سے اٹا نکل رہا تھا جب کہ گھر میں کھانے کو دانہ نہیں تھا، تندور میں جھانک کر دیکھا تو سارا تندور بکرے کی ٹانگوں سے بھرا ہوا تھا،*
*★_ خیال میں ایا کہ اس چکی کا پاٹ اٹھا کر دیکھنا چاہیے, انہوں نے چکی کا پاٹ اٹھا دیا, صبح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر عرض کیا, یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات یہ ہوا, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چکی کے پاٹ کو نہ اٹھاتے چلنے دیتے تو قیامت تک چلتی رہتی اٹا نکلتا رہتا,*
*★_ جب ایک فرد کے فقر چھپانے پر اتنا آٹا مل سکتا تھا ہمیشہ کے لیے تو سوچو تو صحیح اگر مسلمان اجتماعی طور پر اپنے فقر کو چھپائے تو کتنے رزق کے دروازے کھل گئے ہوتے ،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ شکر کیا ہے _,*
*★_ شکر صرف زبان کے کلمات کا نام نہیں ہے، اصل شکر یہ ہے کہ آدمی دل سے اللہ کے سامنے جھکے کہ اللہ شکر تیرا کرتا ہوں،*
*★_ لیکن اگر زمین کا انکار نہیں کرو گے تو لوگ زمین کے شکر پر مجبور کریں گے کہ زمین کا شکریہ ادا کرو, زمین تمہیں غلہ دے رہی ہے, ہم بھی زمین سے غلہ لے رہے ہیں اور تم بھی زمین سے غلہ لے رہے ہو، تو شکر تو دونوں پر واجب ہے، تو شکر میں دونوں مشترک ہیں، ہرگز نہیں خدا کی قسم اللہ کے غیر کی طرف نعمت کی نسبت شرک ہے، اللہ کی ذات کی طرف نعمت کی نسبت کرنا شکر ہے،*
*★_ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو یہی دو باتیں فرمائی, جو نعمت کی نسبت مخلوق کی طرف کر کے مخلوق کی طرف جھک جائے اس کو مشرک کہتے ہیں, انسان کسی بھی طرح کا سبب اختیار کرتا ہے پھر اس سبب کے اختیار کرنے کے بعد ضرورت کے پورا ہونے کو اللہ کے غیر کی طرح منسوب کرتا ہے, اللہ نے یہ خوب قرآن میں سمجھایا:-*
*"_ یہ اپنی بیوی سے ملتا ہے, ہلکا سا حمل ٹھہر جاتا ہے, یہ (بیوی) حمل کو لے کر پھرتی رہتی ہے گھر کے کام کاج میں, جب حمل بھاری ہو جاتا ہے تو دونوں ( میاں بیوی) دعا کرتے ہیں اے اللہ تو اس بچے کو اپنی قدرت سے ٹھیک ٹھاک پیدا کر دے، ہم کہیں گے تو نے ہی کیا ہے، اس بچے کو تنگی سے ہم جب اپنی قدرت سے نکالتے ہیں عقل حیران ہوتی ہے یہاں لیکن ہم جب اپنی قدرت سے دیتے ہیں، صرف ہمارے دیے ہوئے میں ہمارے امر میں ہمارے غیر کو شریک ٹھہراتے ہیں،*
*★_ ڈاکٹر صاحب آپ نہ ہوتے تو چچا بچہ بچنے والے نہیں تھے, صرف آپ نہیں دیا ہے, اتنا ہی نہیں اوروں کو بھی مشورہ دے گا کہ فلاں ڈاکٹر کے پاس جانا اللہ نے اس کے ہاتھ میں شفا رکھی ہے،*
*★_ اللہ کسی کے ہاتھ میں شفا نہیں رکھتے, اللہ تعالی ہر ان ہر گھڑی اپنے ہاتھ میں شفا رکھتے ہیں ,*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ اللہ کے غیر کا رعب کب دل میں اتا ہے ؟*
*★_ اگر شکلوں کا انکار نہیں کرو گے تو ان شکلوں کے شرک تک پہنچ جاؤ گے، اللہ کے غیر کو بولا ہی تب جانے گا جب مسلمان خود بذات اللہ کو بولنا چھوڑ دیں گے، مسلمان روزانہ خود جب تک اللہ کی طرف دعوت نہیں دے گا یہ شرک بولنے پر مجبور ہو جائے گا،*
*★_ مسلمان کے کسی بھی فعل میں، کسی بھی عمل میں کسی بھی فریضے میں کسی طرح کی مداخلت کے خلاف اللہ کی مدد نہیں ائے گی جب تک مسلمان دعوت پر نہیں ائے گا، إِن تَنصُرُواْ ٱللَّهَ يَنصُرۡكُمۡ وَيُثَبِّتۡ أَقۡدَامَكُمۡ، اگر تم دعوت پر نہیں ہو تو اللہ تعالی باطل کے خلاف تمہاری مدد نہیں کریں گے، یہ ایک حقیقت ہے،*
*★_ ذرا جاؤ دور صحابہ کی طرف تو معلوم ہوگا کہ احکام شریعت میں مداخلت کرنے والوں کو اللہ تعالی نے کس طرح ناکام کیا، اصل بات یہ ہے کہ اللہ کا غیر کا رعب مسلمان کے دل میں آتا ہی تب ہے جب اللہ کا رعب نکل جاتا ہے اور اس کے نکلنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزانہ اللہ تعالی کی توحید، اس کی عظمت کو بولنا اپنا کام نہیں سمجھتا،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __اپنے معاملات میں تقوی لاؤ _,*
*★_ تقوے پر دوسرا وعدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کو رزق وہاں سے دیں گے جہاں ان کا خیال گمان نہیں پہنچے گا، اسی لیے صحابہ کرام کی تمام غیبی نصرتیں وہ ان کے تقوے کی دین ہے،*
*★_ ایک وعدہ یہ فرمایا کہ ہم متقی کے کام میں اسانی پیدا کرتے ہیں, تیسرا وعدہ یہ فرمایا کہ متقی کے کام میں ہم اجر کو بڑھا دیں گے اور پچھلے گناہ معاف کر دیں گے,*
*★_ سب سے زیادہ ضرورت تو اپنے معاملات میں تقوی لانے کی ہے, انسان کا بدن عبادت کے لیے بنا ہے, حرام غذا اس کو اطاعت کی طرف کبھی نہیں چلا سکتی, اسی لیے فرمایا کہ اگر صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہتے ہو تو ایک ہی راستہ ہے, اپنے معاملات کو حکم پہ لاؤ,*
*★_ یقین کی خرابی سے سود میں ایسا جکڑ دیا ہے کہ مسلمان یہ کہتا ہے کہ سود کے بغیر کیسے کام چلے گا ؟ ٹریکٹر سود پر لیا ہے اور اللہ والوں سے بارش کی دعا کی درخواست ہے، اسباب حرام لیے ہوئے ہیں دعاؤں سے کام چلانا چاہتے ہیں،*
*★_ یاد رکھنا جب دعا حرام غذاؤں سے مردود ہو جاتی ہے تو عبادت کیسے مقبول ہو جائے گی؟ جب کہ ساری دعائیں عبادت کا مغز ہے, جب دعا مردود ہے حرام کمائی کے ساتھ, سود سے, جھوٹ سے، غبن سے، جہاں جہاں سے بھی حرام کمائی کی شکلیں ہیں، یہ بھی یاد رکھنا کہ حرام کمائی پر استغفار کر لینے سے حرام حلال نہیں ہو جائے گا، حرام حرام ہی رہے گا،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _اپنی غذا کو پاکیزہ بنا لو _,*
*★_ میرے دوستو ! کسی گناہ پر اتنی سخت وعید نہیں ہے جتنی سود پر ہے, کسی گناہ کرنے والے کو نہیں کہا کہ یہ گناہ کر کے اللہ تعالی سے اس کے رسول سے جنگ کر رہا ہے,*
*★_ سوچنے کی بات ہے! ادھر تو سود پر سود لے کر اللہ تعالیٰ سے جنگ چل رہی ہے، ادھر دعا چل رہی ہے، اس لیے سب سے پہلے تقوی لانا ہوگا معاملات میں،*
*★_ حضرت فرماتے تھے, لوگ حرام کے لقمے کو معمولی سمجھ کر کھا لیتے ہیں, لقمہ سمندر ہے, خیالات اس کے موتی ہیں، پاکیزہ لقمہ ہوگا پاکیزہ غذا ہوگی تو پاکیزہ اعمال ہوں گے،*
*★_ میں تو یقین سے کہتا ہوں صرف غذا کو پاکیزہ بنا لو تو معاملات معاشرت اخلاق تینوں لائن خود بخود درست ہو جائیں گی، انشاء اللہ _,*
*★_ کوئی تحقیق ہی نہیں کرتے مال کہاں سے آیا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کے غلام نے بھوک کی شدت میں ایک لقمہ خلا دیا کہانت کی امدنی کا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس لقمہ کو نکالا حلق سے، جب نہ نکلا تو پانی پی کر کے کر کے نکالا، لوگوں نے لقمہ دیکھ کر کہا اس ذرا سے لقمہ کے لیے اپ نے اتنی کوشش کی، فرمایا اگر میری جان دے کر نکالتا تو میں اس کو نکالتا، جو قطرہ خون کا حرام مال سے تیار ہو جہنم کی آگ اس کی زیادہ حقدار ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _حضرت عمیر ابن سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ:-*
*★_ یہ بات یاد رکھنا, عبادت سے پہلے اخلاق سے پہلے سب سے پہلے معاملات کو حکم پر لانا ہے اس لیے کہ خون کو پاک رکھنا ہے,*
*★_ عجیب قصہ ہے, ایک صحابی تھے حضرت عمیر ابن سعد رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گورنر بنایا ہمس پر، جتنے بھی عہدے ہیں اللہ تعالی عہدے اپنے بندوں کو صرف اس لیے دیتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے مخلوق کی ضروریات پوری ہو، ان کے ذریعے انصاف قائم ہو، اگر یہ ظالم ہوں گے تو اللہ تعالی ان سے چھین کر دوسروں کو دیں گے،*
*★_ ایسے گورنر نہیں ہوتے تھے کہ موقع ملا ہے کمانے کا کما لو، ایسے گورنر ہوتے تھے کہ موقع ملا ہے آخرت بنانے کا آخرت بنا لو، عمیر ابن سعد رضی اللہ عنہ سال بھر گورنر رہے، عمر رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ ایک سال ہو گیا ہے، انہوں نے ابھی تک کوئی زکوٰۃ کی رقم یہاں نہیں بھیجی، مال کو لا کر ہمیں دینا تھا، ہم خرچ کرتے جہاں خرچ کرنا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا، خط کو زمین پر رکھنے سے پہلے میری طرف چل دینا،*
*★_عمیر ابن سعد رضی اللہ عنہ نے خط پڑھا, پڑھتے ہی فوراً ایک تھیلا, اس میں ایک پیالہ, ایک لوٹا وضو کے لیے، تھوڑی سی کھجوریں لی اور ہمس سے دو ہزار کلومیٹر تک کا سفر طے کر کے پیدل مدینہ منورہ پہنچے، وہاں پہنچے تو بال بڑے بڑے ہو گئے، غبار آلود کپڑے جسم، عمر رضی اللہ عنہ پہچان تو گئے, پوچھا یہ کیا شکل بنائی ہے, کیا حلیہ بنایا ہوا ہے, فرمانے لگے عمر میرا حلیہ کیا دیکھ رہے ہو, تمہیں معلوم نہیں میرا خون پاک ہے,*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _حضرت عمیر ابنِ سعد رضی اللہ عنہ کا گورنری سے انکار:-*
*★_ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جو تمہیں لینے کے لیے بھیجا تھا ؟ فرمانے لگے اس مال میں نہ تیرا کوئی حصہ تھا نہ میرا کوئی حصہ ہے, وہاں گیا مالداروں سے مال وصول کیا، فقراء کو دیا اور اگیا واپس، حضرت عمر نے پوچھا تم وہاں (ہمس) سے پیدل چل کر ائے ہو، گورنر ہو کر،*
*★_ یہ تمام عہدے داروں کے سوچنے کی بات ہے، اس زمانے میں عہدہ اخرت کے لیے خدمت کرنے کا نام تھا، دنیا سمٹنے کے لیے نہیں تھا، عہدہ کوئی منصب نہیں تھا، عہدہ مخلوق کی خدمت کا ایک عنوان تھا،*
*★_ فرمانے لگے سواری کا میں نے سوال نہیں کیا, انہوں نے سواری دی نہیں, حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بہت ہی برے مسلمان ہیں ہمس کے، ایک سال ان کی خدمت کی اور تمہیں سواری بھی نہ دی، فرمایا اے عمر اللہ سے ڈرو غیبت نہ کر غیبت نہ کرو، اللہ نے غیبت سے روکا ہے، وہ (ہمس والے ) نماز پڑھتے ہیں وہ مسلمان ہیں،*
*★_ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بتاؤ مال کہاں ہے؟ فرمایا میرے پاس کوئی مال نہیں ہے, میری ساری دنیا یہ ہے میرا تھیلا, حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہیں دوبارہ بناؤ گورنر، تو کہنے لگے عمر میں گورنر نہیں بنوں گا، نہ تیرے لیے نہ تیرے بعد کسی خلیفہ کے لیے، اس گورنری کی وجہ سے ایک یہودی کو میری زبان سے گالی نکل گئی، یہ گورنری کی وجہ سے ہوا، میں آج کے بعد کبھی گورنر نہیں بنوں گا،*
*★_ گورنر ایسے ہوتے تھے, عہدے داروں کے لیے سننے کے قصے ہیں یہ, ایک مسلمان گورنر کو ایک یہودی کے لیے زبان پر گالی اگئی تو فرمایا اج کے بعد گورنر نہیں بنوں گا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک ادمی سے کہا یہ 300 اشرفیاں لے جاؤ، عمیر کے گھر چھپا کر رکھنا، دیکھو کہ اچھے حالات ہیں تو اشرفیاں واپس لے انا، دیکھو کہ تنگی ہے تو یہ اشرفیاں ان کو دے دینا ،* ⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ حضرت عمیر ابن سعد رضی اللہ عنہ کا مال لینے سے انکار:-*
*★_ عمر رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے آدمی نے تین دن عمیر ابن سعد رضی اللہ عنہ کے گھر مہمان بن کر قیام کیا، تین دن تک ایک روٹی ان کو کھلائی جاتی، تین دن تک ابن سعد اور ان کی بیوی نے فاقہ کیا، ایک روٹی روزانہ پکتی تھی گھر میں، وہ مہمان کو کھلا دیتے تھے، تین دن کے بعد حضرت عمیر ابن سعد نے مہمان سے کہا ہم تو بڑے فاقے میں تنگی میں اگئے، اب تم کسی اور گھر میں چلے جاؤ اب ہم سے فاقہ برداشت نہیں ہو رہا ہے،*
*★_ خیال ایا, یہ ہو رہا ہے ان کے گھر میں, فرمایا- یہ لو تین سو اشرفیاں امیر المومنین نے دی ہیں آپ کے لیے، حضرت عمیر نے ایک چیخ ہماری اور کہا یہ مال مجھے نہیں چاہیے واپس لے جاؤ، بیوی نے کہا- یہاں مہاجرین کی اولادیں ہیں، وہ صحابہ جو غزوات میں شہید ہوئے ان کی بیوائیں عورتیں ہیں، ان میں تقسیم کر دینا لے لو، عمیر نے کہا میرے پاس تو کوئی کپڑا بھی نہیں جس میں ان اشرفیوں کو رکھوں، میرے پاس کوئی صندوق بھی نہیں،*
*★_ روایت میں ہے بیوی نے اگے سے اپنا دامن پھاڑ کر دیا، اس میں اشرفیوں کو باندھا، وہاں سے فوراً اشرفیوں کو لے کر نکلے اور ساری اشرفیوں کو مہاجرین میں اور فقرہ صحابہ میں تقسیم کر کے واپس ا گئے، حارث یہ منظر دیکھ کر واپس آئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا ہوا، پورا واقعہ سنایا،*
*★_ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ بلوایا, حضرت عمیر ابن سعد رضی اللہ عنہ کو، یہ آئے، پوچھا تم نے کیا کیا اس مال کا جو میں نے تمہیں بھیجا تھا، فرمایا- عمر اللہ کے لیے دیتے ہو پھر پوچھتے ہو کیا کیا، تمہیں کیا مطلب میں جانوں میرا رب جانے، حضرت عمر نے کہا- میں قسم دے کر کہتا ہوں تمہیں بتانا پڑے گا، فرمایا- میں نے آخرت کے لیے وہ مال اگے بڑھا دیا, وہاں زیادہ ضرورت ہے,*
*★_ صحابہ کرام کے واقعات ہیں کہ بڑی سخت ضرورت کا وقت آ رہا ہے, وہاں کام ائے گا ,*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ اللہ نے مال کو ردی بنا دیا (نوٹ بندی سے),*
*★_ اج ہم بچا بچا کر رکھتے ہیں اگلی ضرورت کے لیے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بڑی سخت ضرورت کے وقت کے لیے مال کو خرچ کرتے تھے،*
*★_ اللہ کی شان دیکھو لوگوں نے مال کو چھپا چھپا کر رکھا بچا بچا کر رکھا، اتنا ہی نہیں اس بات کی پرواہ بھی نہیں کی کہ ذکوٰۃ ادا کرنی ہے، اللہ نے سارے مال کو ایک رات میں ردی بنا دیا کہ تم رکھو چھپا کر،*
*★_ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اس کا الزام حکام پر نہیں اپنے پر ہے, حضرت فرماتے تھے حکام تو مسلط کیے جاتے ہیں حکم توڑنے والوں پر, اللہ نے چند گھنٹوں میں سارا مال ردی کر دیا، کوئی فقیر جو ایک روپیہ لے کر خوش ہو جاتا تھا ہزار کا نوٹ پکڑنے کو تیار نہیں ہوا،*
۔
*★_ حضرت ہمیشہ عرض کرتے تھے, جو مسلمان اپنے حالات کو اعمال سے نہیں جوڑے گا, وہ ادھر ادھر جھانکتا پھرے گا, ایک دوسرے کو الزام دے گا,*
*★_ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمیر کو 30 ساع جو دے دو اور کپڑے بھی دے دو، حضرت عمیر نے فرمایا- مجھے جو نہیں چاہیے غلہ میرے گھر میں آج کا موجود ہے کل کو اللہ دے دے گا، غلہ نہیں چاہیے، ہاں میری بیوی کے پاس کپڑے نہیں ہیں، یہ کپڑا لے جاتا ہوں،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بچوں سے پیار نہیں کرنے والے کو گورنر نہ بنانا _,*
*★_ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ساتھی کو گورنری کے لیے چھانٹا کہ ہاں اعتماد کا ادمی بھی ہے، فرمایا کہ جب جانے لگو تو مجھ سے علاقے والوں کے نام گورنری کا خط لے جانا، عمر رضی اللہ عنہ نے عہد نامہ لکھ کر رکھا، مہر لگائی، دیکھو کتنی باریکیاں دیکھی جاتی تھی، یہاں تو جس کو چاہو منتخب کر دو،*
*★_ یہ نکلنے کے لیے تیار ہوئے, سواری پر سامان رکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، آ کر بیٹھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ گورنری کا خط دینے ہی والے تھے کہ اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بچہ کھیلتا ہوا آیا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اٹھایا پیار کیا سینے سے لگایا،*
*★_ یہ صاحب کہنے لگے- اتنا کام آپ کے پاس ہے, اتنے فکر میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں, اتنے بڑے آدمی پھر بھی بچوں سے پیار کر رہے ہو, عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم بچوں کو پیار نہیں کرتے، کہا نہیں میں تو نہیں کرتا،*
*★_ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عہد نامہ اٹھا کر پھاڑا اور فرمایا- جاؤ اپنے گھر جا کر بیٹھو, تم گورنری کے قابل نہیں ہ،و جو اپنی اولاد کو پیار نہیں دیتا وہ وہاں جا کر رعایا کی اولاد کو کیا پیار دے گا،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __چھوٹا بن کر چلنے کا کام:-*
*★_ یہ (دعوت تبلیغ کا) کام تقوے کے ساتھ کرنے کا کام ہے, بہت ڈرتے ہوئے کرنے کا ہے، چھوٹا بن کر چلنے کا کام ہے، دنیا کے کام بڑے بن کر کیے جاتے ہیں، دعوت کا کام چھوٹا بن کر کرنے کا ہے، تواضع کے ساتھ کرنے کا ہے،*
*★_ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مجھے بجائے عبداللہ کہنے کے, بجائے مسعود کا بیٹا کہنے کے, گوبر کا بیٹا کہہ کر پکارے اور اس کے بدلے میں اللہ میرے گناہ معاف کر دے, تو مجھے یہ نام زیادہ پسند ہے, صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نیک نامی اور شہرت اس کو جانتے ہی نہیں تھے، کرامات سے بچتے تھے،*
*★_ مدینہ منورہ میں اگ نکلی, ایسی آگ جو سارے مدینہ کو جلا کر خاک کر دیتی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمیم دادی رضی اللہ عنہ سے کہ تمیم یہ اگ نکلی ہے پہاڑ سے، جاو اس کو پہاڑ میں داخل کر کے اؤ، فرمایا امیر المومنین میں کیا میری حیثیت کیا، میرے کرنے کا کام نہیں ہے، کسی اور سے کرا لیجیے، فرمایا نہیں تمیم یہ کام تمہیں کرنا ہے, کہنے لگے یہ تو ایک چنگاری ہے اگ نہیں ہے، یہ مشکل کام نہیں ہے لیکن میں نہیں کرنا چاہتا،*
*★_ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا بات ہے کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ کہنے لگے میری کرامات ظاہر ہو جائے گی, لوگ کہیں گے یہ کرامات والے ہیں, ان کے ذریعے آگ پہاڑ میں داخل ہوئی, لوگ مجھ سے ملیں گے مجھے پہچانیں گے,*
*★_ ایسے مخلصین ہوا کرتے تھے, فرمایا آپ کا حکم ہے تو میں حکم پورا کرتا ہوں, آگ کو سمیٹ کر لے گئے اور پہاڑ کی کھو میں داخل کر کے ائے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ امت بن کر دعوت دو:-*
*★_ ہم اس دعوت کے کام میں اخلاص سے اور تقوے سے چل سکتے ہیں, اس کام کو صالح, صاف دل رکھنے والے چاہیے, سب سے پاکیزہ دل رکھنے والے, گہرائی رکھنے والے, سادہ زندگی رکھنے والے چاہیے,*
*★_ اس کام میں اپنے اپ کو قبول کروانے کے لیے یہ بنیادی باتیں ہیں جو میں نے عرض کی ہیں, ایک تو وسعت قلبی ہونا چاہیے کہ ہر فرد کو ہر ایک کو دعوت دیں، یہ اصل چیز ہے، امت بنتی ہے انفرادی دعوت سے، علاقائی، قومی، برادری کی بنیاد پر دعوت دینے سے امت نہیں بنا کرتی، ان تمام نسبتوں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ہٹایا ہے،*
*★_ اسی لیے انفرادی دعوت اور عمومی دعوت خوب دیں اور یاد رکھو اللہ کے راستے میں اجنبی لوگوں کے ساتھ نکلا کرو، اجنبیوں کے ساتھ نکلنا یہ اخلاق کو اچھا بنا دے گا اور قوم میں باعزت بنا دے گا،*
*★_ حدیث پاک کا مفہوم ہے فرمایا اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ کے راستے میں نکلا کرو اپنی قوم کے علاوہ کے ساتھ، اخلاق تمہارے اونچے ہو جائیں گے، قوم میں باعزت ہو جاؤ گے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ قرب قبولیت کی علامت نہیں :-*
*★_ اپنے اپ کو قربانیوں سے قبول کروانا ہے, کسی کا قرب مل جانا قبولیت کی علامت نہیں ہے،*
*★_ دو صحابی حضرت سہیل ابن امر اور حضرت حارث ابن شام رضی اللہ عنہم، دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دائیں بائیں آ کر بیٹھے، کمرہ خالی تھا، کہنے لگے ہمیں تو امیر کا ایسا قرب مل گیا ہے کہ ہمیں تو کوئی یہاں سے ہٹا نہیں سکتا اور ہم یہاں سے جا نہیں سکتے،*
*★_ تھوڑی دیر کے بعد ائے میدانوں سے محنت کر کے، علاقوں سے وقت پورا کر کے انصار اور مہاجرین کی جماعتیں، جو بھی آتا ان سے کہتے سہیل ذرا پیچھے ہٹو، حارث زرا پیچھے ہٹو، ان کو اگے لاؤ، فرماتے ہیں روایت میں ہے دونوں ہٹتے ہٹتے کمرے کے دروازے تک پہنچ گئے، وہاں بھی مہاجرین اور انصار ائے تو انہیں کمرے سے باہر نکلنا پڑا،*
*★_ باہر نکل کر دونوں کہنے لگے ایک دوسرے سے، دیکھو آج ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے، ہم سب سے اگے بیٹھے ہوئے تھے کمرے سے باہر نکل گئے لیکن وہ بھی صحابہ تھے، انہیں بھی معلوم تھا کہ غلطی ہماری اپنی ہے، دونوں نے کہا امیر پر اس کا الزام نہیں ہے، اس کا الزام ہمارے اپنے پر ہے، جب سب چلے گئے یہ دوبارہ داخل ہوئے، کہا امیر المومنین ہمارے ساتھ کیا ہوا ؟ یوں فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے، ان کو بلایا بلایا گیا تھا تقاضوں پر وہ ا گئے، تمہیں بلایا گیا تھا تقاضوں پر، تم نے دعوت قبول نہیں کی، یہ تم سے اگے بڑھ گئے تم پیچھے رہ گئے،*
*★_ حضرت سہیل بن امر اور حضرت حارث ابن حسام رضی اللہ عنہم دونوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امیر المؤمنین الزام ہم پر ہی ہے، اگر ہم میدان محنت میں ہوتے تو آج ان کے ( انصار اور مہاجرین کے) ساتھ ہوتے، دونوں نے کہا اب یہ بتائیے، کیا کریں ہم، ان کے ساتھ کیسے ہو سکتے ہیں، ان سے اگے تو نکل نہیں سکتے، کم سے کم ان کے برابر ہی آ جائیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو بہت اگے نکل گئے، ان کے ساتھ تم یہاں نہیں ہو سکتے لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ تم کسی ملک میں چلے جاؤ اور وہاں دعوت الا للہ کی محنت میں لگے رہو، یہاں تک کہ وہیں تم مر جاؤ، تو ہو سکتا ہے قیامت میں تمہارا حشر ان کے ساتھ ہو جائے، یہیں سے چلے جاؤ ابھی, روایت میں ہے کہ دونوں ملک چھوڑ کر نکل گئے اور اللہ کے راستے میں ایک موقع پر شہید ہوئے،*
*"_ اس کام میں اگے بڑھنے کا ہر ایک کا اپنا میدان ہے، ہر ایک کا معاملہ اس کا اللہ کے ساتھ براہِ راست ہے کوئی کسی کو نہ اگے بڑھا سکتا ہے نہ کوئی کسی کو پیچھے ہٹا سکتا ہے،*
*★_ محنت کا میدان ہے اور ساری امت مطلوب ہے، حضرت فرماتے تھے جن لوگوں کو اللہ تعالی نے اس کام کی سمجھ اور اس کام کی نسبت عطا فرما دی ہے، ان سے اللہ کی طرف سے سوال زیادہ سخت ہے کہ تم نے جان کر بھی نہیں کیا، جو اس کام کو نہیں جانتے ہیں ان سے سوال بعد میں ہوگا، اس کام کو جانتے ہوئے کام کے تقاضوں کو مقدم نہیں رکھنے والوں سے سوال پہلے ہوگا،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ ساری امت ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہے :-*
*★_ مسئلہ اپنی ذات کا نہیں ساری امت کا ہے, ساری دنیا کی بکھری ہوئی امت ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہے, پیر کا زخم پیر کا نہیں ہے پورے بدن کا ہے,*
*★_ ایک ملک میں ایک مسلمان بھی نماز چھوڑنے والا اگر ہے تو ہمیں نیند نہیں انی چاہیے اس زخم کی وجہ سے، حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے، ساری کی ساری امت ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہے، پیر کے زخم سے آنکھ جاگے گی، سارا بدن بے چین ہوگا، سارے بدن میں بخار ائے گا، یہ پیر کا زخم نہیں پورے بدن کا زخم ہے،*
*★_ اس لیے امت کی ذمہ داری با اعتبار عالم کے ہے، اپنے آپ کو قربانیوں سے قبول کروانا ہے، جس سطح پر اگئے ہیں جس سطح پر دعوت کا کام کرنے والے پہنچ گئے ہیں، یہ کوئی سطح نہیں ہے، ہمارا نشان ہماری منزل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو جہاں چھوڑ کر گئے ہیں وہ ہماری منزل ہے، وہاں تک پہنچنا ہے اور امت کو وہاں پہنچانا یہ ہماری ذمہ داری ہے،*
*★_ اس لیے یہ بات پورے عالم کے اعتبار سے عرض کر رہا ہوں، جہاں جاؤ وہاں والوں کو بھی بتاؤ کہ اس کام کے لیے ہر امتی سے تہائی مطالبہ ہے اور اس کو زیادہ مت سمجھنا کیونکہ یہ صحابہ رضی اللہ عنہ کی قربانیوں کی سب سے ادنا سطح ہے، درمیانی سطح آدھا مال آدھی جان اور ادنیٰ سطح تہائی مال تہائی وقت ہے، ہم سبھی عزم کریں کہ ہمیں وقت دینا ہے اور امت سے مطالبہ بھی کرنا ہے،*
*★_ جس چیز کا مطالبہ نہیں کرو گے اس کی ہمت اپنے اندر کبھی پیدا نہیں ہوگی, یہ مت سمجھنا کہ جب خود نہیں کرتے تو دوسروں کو کیوں دعوت دیں، یہ اس زمانے کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ پہلے خود کرو پھر دعوت دو، ایسا نہیں ہے کیونکہ نہ کرنے والا دعوت دینے کا زیادہ محتاج ہے، جو جتنا فقیر ہوتا ہے اس کے سوال میں اتنی زیادہ محتاج گی ہوتی ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ اس نعمت کا شکر کرو :-*
*★_ اس کام سے ادنیٰ نسبت رکھنے والے کو بھی چاہیے کہ وہ ہر آن ہر لمحہ ان مشکلت، ان تکالیف، اس فقر اور اس پیاس اور اس گرمی اور سردی اور اس خوف کو دیکھے جس سے انبیاء علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گزرے ہیں،*
*★_ ہر کام کرنے والے کی نظر اس کے کرنے میں صحابہ کی تکالیف پر نہی ہے تو اس زمانے میں ہدایت کے حاصل کرنے کے لیے ان تکالیف سے گزرنے پر امت انکار بھی کر دے گی اور جو گزریں گے وہ شکایت کریں گے،*
*★_ حالانکہ یہ اللہ تعالی کا دستور ہے کہ سب سے زیادہ غم میں ابتلا میں انبیاء علیہ السلام کو رکھا ہے پھر جو انبیاء علیہ السلام کے کام کے جتنے قریب ہوں گے ان کے اعتبار سے اللہ تعالی ان پر ہے حالات لائیں گے،*
*★_ اس پر اللہ تعالی کا انتہائی شکر ادا کرنا چاہیے ہم میں سے ہر فرد کو کہ اللہ یہ تیرا کتنا بڑا انعام ہے کہ تو نے اس زمانے میں اس امت محمدیہ کے ایک چھوٹے سے مجموعہ کو ان تکالیف کی طرف متوجہ کیا ہے جس سے تو نے انبیاء، صحابہ کو گزارا،*
*★_ کبھی خیال ایا کہ اس نعمت کا شکر کریں ؟ لوگ اولاد کے ملنے پر, کاروبار کے چلنے پر, مقدمات کے حل ہونے پر, قرض کے ادا ہونے پر شکر کرتے ہیں, کبھی خیال آیا ہو کہ اس راستے میں کوئی تکلیف گرمی کی یا سردی کی، بھوک کی یا پیاس کی کوئی تکلیف ائی ہو اور اس پر کسی نے اللہ کا شکر ادا کیا ہو ؟*
*★_ ہمیشہ یاد رکھو جو اس راستے کی تکالیف پر شکر نہیں کرے گا اللہ کا وہ بندے سے شکایت کرے گا، اگر اس راستے کی تکالیف پر احتساب کم ہو گیا تو کام کے تقاضے متاثر ہوں گے، اگر اجر کی امید کم بھی ہو گئی تو اس راستے کی تکالیف سے لوگ انکار کر دیں گے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقہ محنت :-*
*★_ رواج اور زمانہ ہمیں صحابہ کرام کے طریقہ محنت سے، اس کی سیرت سے یہ کہہ کر دور کرے گا کہ اس زمانے میں دین کے پھیلنے کا طریقہ وہ تھا اور اس زمانے میں یہ ہے، خدا کی قسم ! جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک استنجاء کی لائن کی سنت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کی ایک مسواک کی لائن کی سنت قیامت تک بدل نہیں سکتی، اسی طرح اپ کی سنت دعوت بھی قیامت تک بدلے گی نہیں، جس طرح اپ کی سنت عادت ثابت ہے اسی طرح جس کام کے لیے اپ کو بھیجا گیا ہے اس کام کے طریقے کار کا بھی کوئی مقابل نہیں،*
*★_ ہر کام کرنے والے کے ذہن میں یہ بات رہے کہ کام میری چاہت میری رائے میرے تجربات پر نہیں ہے، کام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقہ محنت کا نام ہے، اس لیے ہر کام کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ اپنی کوشش سے اس طریقہ محنت پر خود بھی جمے اور دوسروں کو بھی اس پر امادہ کرے،*
*★_ یہ مت کہو کہ اسی زمانے میں امت یہ نہیں کر سکے گی، کچھ تاجر ہیں کچھ زمیندار ہیں کچھ دفتر والے ہیں، ان کا بھی سوچنا چاہیے، ان کی رعایت کے اعتبار سے کام کرنا چاہیے، خدا کی قسم دعوت کی محنت میں کبھی بھی کسی قوم شعبے کی رعایت یہ سوچ کر نہیں کی گئی کہ یہ اس شعبے سے متعلق ہیں یہ کام نہیں کر سکیں گے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان تمام شعبوں کو چلانے والے تھے, اوہدے تجارت زراعت سرمایہ داری، بڑے بڑے کاروبار کرتے تھے ایکسپورٹ بھی ہوتا تھا امپورٹ بھی ہوتا تھا، ایسا نہیں ہے کہ جو تجارت کے موقع اس زمانے میں لوگوں کو ملے ہوئے ہیں اس زمانے میں نہیں تھے،*
*★_ بڑی بڑی تجارتیں صحابہ کی ہوا کرتی تھی، بڑے بڑے قافلے تجارتی سامانوں سے لد کر جاتے تھے، باہر سے لد کر بھی اتے تھے لیکن صحابہ کرام کی پوری زندگی میں کہیں نہیں ملے گا کہ تاجروں کے لیے کام کا یہ الگ طریقہ ہے، پڑھنے پڑھانے والوں کا یہ طریقہ ہے, نہیں بلکہ سو فیصد صحابہ دنیا کے سو فیصد شعبے چلاتے ہوئے دین کی محنت ایک سطح پر سب مجتمع تھے، اس لیے طریقہ محنت وہی ہے جو طریقہ محنت صحابہ کرام کا تھا،*
*★_ جب تک امت اس طریقہ محنت پر نہیں ائے گی ہدایت کے فیصلے نہیں ہوں گے، امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے- اس امت کے بعد والے سدھر نہیں سکتے جب تک امت وہ نہ کرے جو امت کے پہلو (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے کیا ہے,*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ دعوت کے ذریعے یقین کو بدلنا :-*
*★_سب سے پہلے دعوت کی محنت کے ذریعے اپنے یقین کو بدلنا ہے, یقین کی تبدیلی کا امر اور اس ایمان کی ترقی کا حکم خود مؤمن کے لیے ہے، فرمایا ایمان والوں ایمان لاؤ میں، یہ اللہ کا حکم ہے، نماز پڑھنا اللہ کا حکم ہے، لوگ جانتے ہیں نماز کیسے پڑھی جاتی ہے، اس امر کو کیسے پورا کیا جاتا ہے، جس طرح نماز پڑھنا اللہ کا امر ہے، جس طرح نماز کا امر ایک مرتبہ کر کے ختم نہیں ہو جاتا بلکہ نماز کے بعد اگلی نماز ہے بالکل اسی طرح اللہ پر ایمان لانا بھی اللہ کا ایسا امر ہے کہ موت تک قیامت قائم ہونے تک مؤمن کو اللہ پر ایمان لانے سے فراغت نہیں ہے،*
*★_ سوال اس بات کا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امر کو پورا کیسے کرتے تھے, جب آپ نے فرمایا صحابہ کرام سے اپنے ایمان کو تازہ کرتے رہا کرو, صحابہ نے عرض کیا- کیسے کریں؟ فرمایا- لا الہ الا اللہ کو کثرت سے کہا کرو, اس کثرت کا کیا مطلب ہے ؟ اس کثرت کا مطلب صرف انفرادی ذکر نہیں ہے بلکہ انفرادی ذکر کے ساتھ ساتھ اس کثرت کا مطلب جتنی ساری کائنات مادی شکلوں سے، مادی چیزوں سے، دنیا کے نقشوں سے بھری ہوئی ہے ان تمام چیزوں کا کثرت کے ساتھ انکار کرو اور با کثرت اللہ کی توحید اس کی بڑائی کو بیان کرو،*
*★_ نماز کا امر اللہ کا امر ہے جس کو مسجد میں ا کر ادا کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح اللہ تعالی پر ایمان لانا اللہ کا امر ہے، اسی ایمان کو سیکھنے کے لیے اس میں تازگی باقی رکھنے کے لیے مسلمانوں کو روزانہ مسجدوں میں ایمان کے حلقے پائم کرنے ہوں گے اور مسجدوں کے باہر پھیلی ہوئی تمام مادی شکلوں سے مسلمان کو یہ سمجھا کر کہ ان شکلوں سے پلنے کا تعلق نہیں ہے، اللہ تعالی سے پلنے کا تعلق ہے،*
*★_ اس یقین پر ایمان والے کو مسجد کے باہر کے ماحول سے نکال کر مسجد میں ایمان کے حلقوں میں اللہ کی ذات سے ہونے، اللہ کے غیر سے نہ ہونے کا یقین سکھلانے کے لیے انہیں مسجد کے ماحول میں گشتوں کے ذریعے لانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کرنے کا طریقہ ہے، جو آپ نے فرمایا ہے کہ اپنے ایمان کی تصدیق کرتے رہا کرو ،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _دل میں اتارنے کا نام تبلیغ ہے،*
*★_ ہمیں اپنی مسجدوں کو عمل اور محنت کے اعتبار سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معمول پر لانا ہے کیونکہ بات کا پہنچانا تبلیغ نہیں ہے, چلتے پھرتے کان میں بات ڈال دینا تبلیغ نہیں ہے, فرماتے تھے حضرت جی مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ دلوں میں اتارنا تبلیغ ہے، تم دلوں میں اتارنے کے اسباب اختیار کرو ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے،*
*★_ اس کا مطلب یہ ہے کہ دلوں میں اتارنے کے لیے مخصوص جگہ ہے, اپ جانتے ہیں جوتا پھٹ جائے تو موچی کے پاس جانا پڑے گا, آپ جانتے ہیں بیماریاں آ جائے تو ہاسپٹل جانا پڑے گا، مختلف ڈیپارٹمنٹ کے ایک کاغذ پر سائن کرانے کے لیے معمولی سے کام کے لیے سفر کر کے فلاں ڈیپارٹمنٹ میں جانا پڑے گا، دنیا کے معمولی کام اپنے ٹھکانوں کے بغیر نہیں ہوتے تو اللہ کا تعلق اللہ کے گھر کے بغیر کیسے حاصل ہو جائے گا,*
*★_ ہمیں صحابہ کرام کی محنت میں سب سے بنیادی چیز یہ ملتی ہے کہ صحابہ صحابہ کی خوشامد کرتے تھے, امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تو ثابت کیا ہے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے عمل سے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے صحابہ سے کہ آؤ تھوڑی دیر ہمارے ساتھ بیٹھو مسجد میں، اپنے رب پر ایمان لائیں، یہ سنت طریقہ ہے امت کی تربیت کا،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _اصل تربیت کی جگہ مسجد ہے _,*
*★_ امت کی تربیت اور امت کو اللہ سے جوڑنے کے لیے امت کا وقت مسجد میں گزرے, صرف نماز کے لیے نہیں بلکہ مسجد دین کی تمام ضروریات کو اور دین کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی جگہ ہے,*
*★_ اللہ کے وعدے یہاں سنو, مسائل یہاں سیکھو, علماء کو چاہیے کہ ایک مسجد کے امام سے لے کر سال لگائے ہوئے علماء تک یہ مسجد کو وقت دیں اور مسجد میں آنے والے ہر شخص کی وضو سے لے کر نماز تک اور اس کے عقائد اور ایمان کی تعلیم کی فکر کریں،*
*★_ یہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ مسجد میں انے والے کا وضو بھی دیکھتے تھے نماز بھی دیکھتے تھے, نماز خود سکھلاتے تھے، نماز کی نگرانی خود کرتے تھے، مسجدیں ایسی نہیں تھی کہ ایک شخص ایمانیات سے، فرائض سے، دین کے احکام سے ناواقف ہو اور مسجد میں آ کر نماز پڑھ کر چلا جائے، ایسا نہیں تھا، کسی کو مسئلہ سیکھنا ہے کسی کو کلمہ نہیں آتا، کسی کو نماز سیکھنا ہے، مسجد دین کے تمام تقاضوں اور دین کے تمام احکام کے سیکھنے کی جگہ تھی، اصل تربیت کی جگہ ہی مسجد تھی،*
*★_ مسجد سے بے تعلق ہونا یہ اللہ سے بے تعلق ہونے کی اصل وجہ ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے جو مسجد سے الفت رکھتا ہے اللہ اس سے الفت رکھتے ہیں، ہمارے گشتوں کا اصل مقصد یہ ہے کہ کسی طرح مسلمان کو مسجد کی طرف لے کر آنا ہے، مسجد میں رہنا اللہ کا مہمان بن کر یہ آدمی کے دل کو متاثر کرتا ہے،*
*★_ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرم ائے, قریش نے کہا طفیل نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننا نہ ان سے بات کرنا، فرماتے ہیں میں نے کانوں کو روئی سے بند کر لیا، آپ کی بات سننا نہیں چاہتا تھا لیکن اللہ سنوا کر رہے، میں نے مسجد میں قدم رکھا دل کی کیفیت بدلی، دل نے کہا طفیل پڑھا لکھا آدمی ہے ان کی بات سننا چاہیے، میں نے کانوں سے روئی نکالی اپ کی بات سنی، اسلام قبول کیا اور اپنی قوم کو دعوت دے کر 80 گھرانوں کے ایمان میں داخل ہونے کا ذریعہ بنے،*
*★_ ایک فرد کو جس نے مسجد میں آ کر بات سنی, اللہ نے ان کو 80 خاندانوں کے ایمان میں انے کا ذریعہ بنایا, تربیت مقصد ہے نشر و اشاعت نہیں, تربیت ماحول میں ہوتی ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ دل متاثر کیوں نہیں ہوتے :-*
*★_ مسلمان اس راہ میں پھرنے کا اگر مادی چیزوں کو بدل سمجھ لے گا تو انسان واحد مجاہدہ کرنے والی مخلوق ہے اس کا مجاہدہ ختم ہو جائے گا، یہی وجہ ہے کہ مسلمان کی محنت دنیا کے لیے اور دین کی نشرو اشاعت میں اخبار و رسالوں اور اس سے بڑھ کر نیٹ موبائل میں اسلام ڈال دیا گیا ہے اور یہ تاجر بن کر مال اکٹھا کرنے میں لگا ہوا ہے،*
*★_ اپ نے فرمایا مجھے اس بات کی وحی نہیں کی گئی کہ میں تاجر بن کر مال اکٹھا کرو, قلوب متاثر اس لیے نہیں ہوتے کہ صرف پیغام پہنچانے کو تبلیغ سمجھا ہوا ہے, اس دعوت و تبلیغ کا مدار اور اس محنت کی بنیاد خدا کی قسم صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت اور صحابہ کرام کی مشاہبت ہے, اس سے نیچے کام نہیں ہے, کسی بھی زمانے کے طریقہ کار سے, آلات اور سہولتوں سے تبلیغ کی گئی تو مجاہدے کی صفت ختم ہو جائے گی تو ہدایت کے فیصلے بھی نہیں ہوں گے،*
*★_ ہاں دنیا ہے دنیا دنیا کے لیے دنیا کی چیزیں مناسب ہیں لیکن دین کے لیے تو دعوت یعنی اپ کا اور اپ کے صحابہ کا طریقہ محنت ہی متعین ہے,یہ دعوت کا کام کوئی تنظیم نہیں ہے یہ دعوت ہے اور دعوت طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے, اپ کے طریقہ محنت کا نام دعوت ہے,*
*★_ اگر دعوت کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقہ محنت کے طریقوں سے مرغوب نہیں کرو گے تو دنیا کی رواجی چیزیں اور آلات انٹرنیٹ کمپیوٹر اور موبائل یہ تبلیغ دین کے لیے اصل بن کر رہ جائیں گے اور مسلمان کی اپنی محنت جو اصل جوہر ہے وہ اس کام کا وہ چھوڑ بیٹھیں گے،*
*★_ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں نقل حرکت سے زیادہ نشر و اشاعت انٹرنیٹ کمپیوٹر اور موبائل کی طرف لوگ مائل ہیں حالانکہ اس زمانے میں نشر و اشاعت کے ذرائع ہوتے ہوئے بھی ڈاک کا نظام تھا، ایک منزل سے دوسری منزل ڈاگ جایا کرتی تھی، پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے چند بادشاہوں کے کسی کو خط لکھ کر دعوت نہیں دی، آپ نے جماعتیں بھیجی ہیں، انہوں نے محنت کی ہے، اللہ رب العزت دائی کی محنت ،کوشش اور دائی کے صبر کو قوموں کی ہدایت کا ذریعہ بناتے ہیں یہ اللہ تعالی کا دستور ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ علم علماء کی صحبت سے حاصل کرو :-*
*★_ جب ایک شخص علم کے لیے یا دوسرے تک علم پہنچانے کے لیے جاتا ہے، اس کا مجاہدہ اس کے علم کو دوسرے کے لیے مؤثر بناتا ہے،*
*★_ تربیت مقصود ہے، تربیت ماحول سے ہوتی ہے، علم کے ساتھ تربیت چاہتے ہو تو اللہ نے مدارس بنائے، علم علماء کی صحبت سے حاصل کرو، یہ نہیں کہ علم کتابوں میں اور علم نشر و اشاعت کی چیزوں میں اگیا ہے تو اب علماء کی صحبت کی ضرورت نہیں ہے، علماء کی صحبت کے بغیر معلومات تو حاصل ہو سکتی ہے دین اور تربیت حاصل نہیں ہو سکتی, اسی طرح دینی مدارس اور وہاں کے پابندیاں وہاں کا مخصوص ماحول، وہاں کا مخصوص معمول، وہاں کے متعین معمولات علم کے ساتھ تربیت کے لیے لازم ہیں،*
*★_ بالکل اسی طرح ہدایت کے لیے اللہ کا تعلق پیدا کرنے کے لیے اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے مسجد کا ماحول متعین ہے، پہلے علم کے حلقے مسجدوں میں ہوا کرتے تھے، ضروریات زمانے کی وجہ سے علم مسجد سے نکل گیا، صفا مدرسہ نہیں تھا، سفا قیام گاہ تھا، مسجد درسگاہ تھی، صفا مسجد کے باہر کا حصہ ہے یہاں قیام ہوتا تھا فقہ صحابہ کا، مسجد میں تعلیم ہوتی تھی، مسائل یہاں سکھائے جاتے تھے، فضائل یہاں سنائے جاتے تھے،*
*★_ اس لیے یہ بات امانت ہے, خود اپنی ذات سے عمل میں لانے کی کوشش کریں اور دوسروں تک پہنچائیں کہ مسجد کے ماحول میں لا کر بات کی جائے,*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ہدایت کا وعدہ اعمالِ مسجد میں ہے:-*
*★_مسجد میں لا کر بات کی جائے, میں نہیں کہتا کہ مجبور کیا جائے, کسی کو کھینچا جائے, یہ ہمارا کام نہیں ہے, البتہ خوشامد کرو, صحابہ کرام کی خوشامد دیکھو کہ عمر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی ایک ایک کا ہاتھ پکڑ کر خوشامد کرتے تھوڑی دیر کے لیے مسجد میں آ جاؤ، کیونکہ یہ بات یقینی بات ہے جو مسجد کے ماحول میں آ کر بات سنے گا تو وہ فرشتوں کے پروں میں سنے گا،*
*★_ حضرت جی رحمتہ اللہ فرماتے تھے- یہاں فرشتوں کے پروں سے ہدایت کا نور اس طرح ائے گا جس طرح مرغی کے پروں سے انڈوز میں حیات اتی ہے, اگر مرغی کے پروں سے انڈوں میں حیات آ سکتی ہے، جان ڈالنا اللہ کا کام ہے سبب مرغی کے پر ہیں، خدا کی قسم یہ تو ہو سکتا ہے کہ انڈے گند ے ہو جائیں، ایک انڈے کے اندر بچہ پیدا نہ ہو، لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسجد میں فرشتوں کے پروں میں رہیں اور ہدایت کے فیصلے نہ ہو،*
*★_ اللہ تعالی نے ہدایت کا وعدہ اعمالِ مسجد سے خود کیا ہے, فرمایا یہ وہ ہوں گے مسجد کو آباد کرنے والے ہم ان کے دلوں سے غیر کا خوف نکال دیں گے اور یہ ہوں گے ہدایت یافتہ ,*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _مسجد عمل سے خالی نہ ہو,*
*★_ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے معلوم تھا کہ اپ نئے انے والوں کو مسجد میں رکھتے تھے, چور سے چوری ہو گئی مسجد کے ستون سے باندھ دیا تاکہ اس کے دل میں چوری سے نفرت پیدا ہو جائے، فرمایا ان کو مسجد میں رکھو اعمالِ مسجد ان کے دل کو اسلام کے لیے نرم کر دیں گے یہ حکمت تھی،*
*★_ ہمارے گشت اس طرح ہوں کہ گشت کے دوران مسجد عمل سے خالی نہ ہو، مسجد ساتھیوں سے خالی نہ چھوڑو، یہ خلافِ سنت ہے کہ سب کے سب نکل جائیں ملاقاتوں میں اور مسجد عمل سے خالی ہو، صحابہ کرام کے زمانے میں مسجد میں چند ساتھی ہوا کرتے تھے، آنے والوں کا استقبال کرنا سیرت سے ثابت ہے، آنے والوں کو سمجھانا سیرت سے ثابت ہے، انے والوں کو تعلیم دینا سیرت سے ثابت ہے،*
*★_ مسجد میں تعلیم ہو رہی ہو اور باہر کوشش ہو رہی ہو، یہ صحابہ کے واقعات میں کام کا طریقہ سمجھا رہے ہیں، مسجد میں تعلیم ہو رہی ہے اور امام محدث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بازار سے لوگوں کو تعلیم میں بھیج رہے ہیں، واپس آنے والوں کو دوبارہ بھیج رہے ہیں، یہ نہیں کہ کہہ دیا جس کو جانا ہو چلا جائے گا، دعوت دی متوجہ کیا چھوڑ کر نہیں گئے انتظار کیا، صحابہ واپس ائے واپس بھیجا جاؤ وہاں تعلیم کا ہلکہ لگا ہوا ہے وہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہو رہی ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ہمارے گشتوں کا مقصد :-*
*★_ ابھی تک ہمارا کام ان گشتوں کے ذریعے مقصد تک پہنچنے والا ہوا ہی نہیں ہے، ایک مسلمان کو اللہ سے ملانا اس کو فرائض سے ملانا، اس کو مسجد کے ماحول میں رکھ کر اس کو اندر سے بدلنے کی فکر کرنا کوشش کرنا، ابھی تک ہمارا گشت اس مقصد تک نہیں آیا، ابھی تک ذہن میں ملاقات برائے ملاقات ہے،*
*★_ ایک صاحب کہنے لگے, میری دکان پر 20 سال سے گشت ہوتا ہے, لوگ اتے ہیں بات سنتے ہیں ملاقات کر کے بات سن کر لوگ گھر چلے جاتے ہیں, 20 سال کے بعد ایک ایسی جماعت آئی جس نے کہا ہم اپ سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن اپ سے درخواست ہے ہماری بات مسجد میں چل کر سنو،*
*★_ مسجد میں کیوں ؟ یہی کر لو، جماعت نے کہا اگر ہم اپ کو اپ نے گھر بلاتے تو کیا اپ یہ کہتے کہ کھانا یہیں بھیج دو، اپ خوش ہوتے اور ہماری دعوت قبول کرتے، آپ آنے سے انکار نہیں کرتے، میں نے کہا جی صحیح بات ہے، جماعت نے کہا جب آپ میرے گھر انے سے انکار کرنے میں شرما رہے ہیں تو اللہ کے گھر میں آنے سے کیا انکار ہے ؟*
*★_ یہ ایسی بات کہی جماعت نے کہ میرا سر شرم سے گڑ گیا، میں سر نہیں اٹھا سکا، لے کر آئے مسجد میں مجھے، وضو کرایا، لے کر بیٹھے، کہنے لگا خدا کی قسم اس وقت میری 60 -65 سال کی عمر ہے، یہ میری زندگی کا پہلا موقع ہے کہ میں نے آپ کی برکت سے آج اللہ کے گھر میں قدم رکھا ہے، 20 سال سے گشت ہوتا ہے، 20 سال سے گشت کرنے والوں کی باتیں سنتا ہوں لیکن مجھ سے کسی نے نہیں کہا کہ مسجد میں چلو، میری زندگی کا پہلا دن ہے یہ کہ میں نے اللہ کو سجدہ کیا ہے، اگر اس حال میں مر جاتا تو کیا ہوتا ؟*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ سنت دعوت :-*
*★_ سنت دعوت کیا ہے ؟ یہ سنت صرف عادات عبادات ہی میں نہیں ہے، سنت دعوت بھی ہے، جتنے امت پر حالات ہیں فتنے ہیں، قرضوں کے قحط سالیوں کے مقدمات کے بیماریوں کے یہ سب اللہ کے غصے کے مظاہر ہیں، اللہ کے غصے کے اسباب ہیں اور مسجد کو آباد کرنے والوں سے جو عذاب جو مقدر ہو چکا ہے اللہ اس کو ہٹا دیتے ہیں،*
*★_ حضرت فرماتے تھے- ایسے گشت کیا کرو جیسے سیلاب سے لوگوں کو بچا بچا کر نکال نکال کر خشکی میں لایا جاتا ہے, زلزلہ کہیں آ جائے تو ملبہ سے دبے ہوئے لوگوں کو بچا کر کھینچ کر نکالا جاتا ہے، اس فکر سے گشت کیا کرو گویا باہر کا سارا ماحول وہ نقصان میں امت کی ہلاکت کا ماحول ہے، وہاں سے مسلمان کو کسی طرح بچا کر اللہ کے گھر میں داخل کرنا ہے،*
*★_ اس لیے ہمارے کام کا اصل مقصد یہ ہے, طریقہ یہ ہے, کیونکہ بات پہنچانا کام نہیں ہے, تربیت کام ہے اور تربیت کی جگہ مسجد ہے, صحابہ کرام کے واقعات کو خوب غور سے دیکھو خوب غور سے پڑھو، اگر کوئی یوں کہہ رہا ہے کہ فلاں یوں کہہ رہا ہے تو یوں بھی کہو گے کہ فلاں یہ بھی کہہ رہا ہے فلاں یہ بھی کہہ رہا ہے، سیرت دیکھو گے تو کام پر بصیرت بڑے گی، کام کرنے والوں کو چاہیے کہ جو عرض کیا جا رہا ہے اسے خود صحابہ کی سیرت میں دیکھے کہ صحابہ کرام کا طریقہ محنت کیا تھا،*
*★_ گشت ایمان کے حلقوں پر جمع کرنے کے لیے ہوا کرتا تھا، ایمان کے بعد دوسرا فریضہ نماز ہے، نماز کی ادائیگی پر امت کو لانا، مسجد میں آنے والوں کو لے کر بیٹھو، خوشامد کرو، نماز کے وعدے بتاؤ تھوڑی وعید بتلا دو، نماز نہیں پڑھنی آتی ہے تو سکھلا دو، یہ سنت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز خود سکھلاتے تھے، اپ مشغول ہوتے تو صحابہ نماز سکھلاتے تھے،*
*★_ عمر رضی اللہ عنہ ممبر سے التحیات اس طرح سکھلاتے تھے جیسے بچوں کو حروف کی تلقین کی جاتی ہے، اس طرح ہمیں نماز کی ادائیگی پر امت کو لانا ہے، ہمارا کام صرف ترغیب دینا نہیں ہے، ترغیب عمل کی طرف آنے کے لیے ہے، عمل کی طرف لانے کی کوشش دعوت ہے، ترغیب دعوت کا ایک جزو ہے، تبلیغ صرف ترغیب نہیں ہے،*
*★_ ہم نے صرف ترغیب پر کام کو چھوڑ کر تعلیم اور ادائے فرائض سے ہم غافل ہو گئے, مجھے سچی سچی بتاؤ کہ آپ کتنوں کو اپنے گشت کے ذریعے آمادہ کرتے ہو کہ آپ کے علاقے میں مدرسہ ہے علم سیکھو, آپ کے علاقے میں علماء ہیں کیا آپ ان کی مجلس میں جاتے ہیں ؟ ہم نے اتنے گشت کیے کتنے بچے مدرسے میں آ گئے ؟ کتنے بوڑھے مسجد میں قران سیکھ رہے ہیں ؟ ہماری محنت سے کتنے لوگ علماء کے حلقوں سے وابستہ ہوئے ؟*
*★_ تبلیغ کو ترغیب پر ایسا محدود کر دیا ہے کہ عمل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے، ترغیب کو کام سمجھ لیا ہے، اگر یہ مزاج بن گیا ہے تو یہ کام گزرگاہ بن کر رہ جائے گا، لوگ ترغیب سنتے سنتے اکتا جائیں گے، کسی عمل کی طرف نہیں آئیں گے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ نماز کو یقین پر لانا :-*
*★_ حیرت کی بات ہے دنیا کے معاملے میں باقی کو دیکھتے ہیں آمدنی کو نہیں دیکھتے اور دین کے معاملے میں آمدنی کو دیکھتے ہیں باقی کو نہیں دیکھتے، کیسا الٹا نظام ہے، یہی وجہ ہے علم کے ماحول میں ہیں تو سمجھتے ہیں علم بہت پھیل رہا ہے، نہیں ! جہل کے ماحول میں جاؤ تو پتہ چلے گا کہ امت مسجد کے سائے میں رہتے ہوئے کلمہ لا الہ الا اللہ سے ناواقف ہے، مسجد کی زمین پر دکان ہے نماز نہیں پڑھتا ہے،*
*★_ سوچو تو صحیح, اپنے گھر میں کھانے پر بلائے گا تو 10 چکر لگائے گا, خوش آمد کرے گا اپ کے بغیر تو میں دعوت کروں گا ہی نہیں لیکن تبلیغ میں آتا ہے تو بس ترغیب دے دو عمل کرنا نہ کرنا اس کا کام ہے، نہیں! بلکہ ہمیں کوشش کر کے امت کو اللہ کے فرائض پر لانا ہے، ہمیں سمجھا کر مسجد کے ماحول میں لانا ہے، لوگ سمجھتے ہیں اس سے لوگ اکتا جائیں گے، نہیں! جو اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے اللہ اس کی کوشش کو ضائع نہیں فرماتے،*
*★_ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نماز کو یقین پر لاؤ، نماز کی دعوت سارے مادی اسباب کے مقابلے میں دو، حضرت فرماتے تھے نماز اور دکان ایک ساتھ یقین میں جمع نہیں ہو سکتے، یہ کہنا کہ نماز بھی ہے دکان بھی ہے، یہی کہنا دلوں سے نماز کے یقین کو نکالے ہوئے ہے، یوں کہو نماز ہی ہے دکان نہیں ہے، دکان غیر یقین ہے نماز یقینی ہے،*
*★_ نماز پڑھ کر یہ مت سمجھنا کہ میں نماز پر یقین والا ہو گیا ہوں، دکان بند کر کے نماز پر جائے تو یہ مت سمجھنا کہ میں نماز پر یقین رکھنے والا ہو گیا ہوں، اللہ ربّ العزت اس نماز کے یقین کا امتحان لینے کے لیے ایسے حالات لائیں گے کہ یہ نماز کے لیے مسجد جا رہا ہوگا ابھی مسجد کے قریب دروازے پر پہنچے گا، پیچھے سے کوئی ائے گا کہ آپ کے گھر پر اس ملک کے وزیر اعظم بغیر اتلا کے آ گئے ہیں اپ کو بلا رہے ہیں، خدا کی قسم اگر یہ سوچ لے یہاں کہ جماعت کی نماز فرض نہیں ہے سنت ہے بعد میں تنہا پڑھ لیں گے، خدا کی قسم اس نے اللہ کی بادشاہت کا انکار کر دیا، اللہ کے حکم کے مقابلے میں ایک وزیر کی وزارت کو تسلیم کر لیا،*
*★_ بات یہ نہیں ہے کہ نماز بعد میں بھی ہو سکتی ہے، اگر ایمان ہے دل میں اور یقین ہے اللہ کی ذات پر تو کہہ دے گا آ جائے مسجد میں ملاقات کے لیے، اگر نہیں تو انتظار کریں ہم نماز پڑھ کر ائیں گے، خدا کی قسم اگر امت کا ایک مجموعہ اس پر آ جائے تو میں اللہ کی سو مرتبہ قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ساری بادشاہتیں تمہارے پیروں پر آ کر پڑھیں گی، تم اپنا سر رکھے ہوئے ہو غیروں کے سامنے،*
*★_ مولانا الیاس صاحب رحمت اللہ کا ملفوظ ہے - جتنے دین پر چلنے کا مسلمان کو اختیار حاصل ہے اگر اس نے اس میں حکم پورا نہیں کیا، جس میں اختیار حاصل نہیں اللہ اپنی مدد نہیں کریں گے، تم خود عمل میں پیچھے ہو، اس لیے نماز کو یقین پر لانا ہے، نماز کو یقین پر لالا کوئی تقریر کرنے کی چیز نہیں ہے، نماز کو یقین پر لانے کا مطلب یہ ہے کہ تو جہاں جس حال میں بھی ہے، اس حال میں حکم کو پورا کرے،*
*★_ ایک جگہ میٹنگ چل رہی تھی، کچھ اغیار بھی تھے میٹنگ میں، اذان کی آواز ائی میٹنگ چھوڑ کر کھڑے ہو گئے، کہاں جا رہے ہو ؟ کہاں جا رہے ہو ؟ اس اللہ نے بلایا ہے جو تیرا بھی بادشاہ ہے میرا بھی بادشاہ ہے اور تمام کائنات کا بادشاہ ہے اس نے بلایا ہے،*
*★_ اذان دعوت ہے اعلان نہیں ہے، اذان اللہ کی طرف سے بلاوا ہے، دعوت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ پکار رہا ہے، دعوت پکار رہی ہے، اذان دعوت تامہ ہے، اذان اللہ کا امر ہے، اس کا حکم ہے کہ اؤ، اس لیے اذان کا جواب الفاظ کا دہرا دینا نہیں ہے اذان کا جواب سارے کام چھوڑ کر مسجد میں انا ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _اسباب غیر یقینی ہیں :-*
*★_ اگر ایک مجموعہ ایسا ہو گیا کہ اذان کی آواز سن کر کھڑے ہو جائے اپنے کام کو چھوڑ کر، تمام مخلوق کے بڑے چھوٹے سب کو چھوڑ کر، تمام مخلوق سے کٹ کر مسجد کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تو اللہ رب العزت ساری حکومتوں کو، ساری شکلوں کو اس کے سامنے جھکا کر دکھائیں گے،*
*★_ یاد رکھنا جو اللہ تعالی کے فرائض کے ادا کرنے میں, جو اللہ کے احکام کے مقابلے میں ذرہ برابر بھی اللہ کے غیر کی پرواہ کریں گے اللہ ان کو مغلوب کر کے غیروں کے ماتحت کر کے رکھیں گے، حدیث میں ہے جو ہمارے غیر سے امید کرتا ہے ہم اسے غیر کے حوالے کر دیتے ہیں، اس لیے نماز کو یقین پر لاؤ, نماز کا ساری کائنات کے نقشوں کے مقابلے میں پیش کرو کہ ساری کائنات کے مقابلے میں نماز یقینی ہے کائنات کے سارے نقشے غیر یقینی ہیں،*
*★_ دوسری مشق نماز پر اللہ کے وعدوں کی ہے, حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو, اپنے گھر والوں کو, اپنے متعلقین کو نماز کے یقین پر اٹھایا, ایک صحابی نے سوال کیا کہ میں تجارت کے لیے بحرین جانا چاہتا ہوں، فرمایا پہلے دو رکعت نماز پڑھ لو، تجارت سے نہیں روکا لیکن کہہ دیا کہ تجارت سے کامیابی نہ ہوگی کامیابی نماز سے ہوگی،*
*★_ یاد رکھو جو اعمال کو مقدم کرتے ہیں اسباب پر عمل کے یقین کے ساتھ، اللہ ان کو اسباب تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی حاجتوں میں کامیاب کر دیتے ہیں، جو یوں کہتے ہیں نماز بھی سبب بھی، ان کو اسباب سے کامیابی نظر نہیں ائے گی باوجود عمل کے، سبب میں کامیابی نظر نہیں ائے گی جب تک سبب کو نماز کے برابر کا درجہ دیے ہوئے ہیں،اس لیے اسباب کو ترک کرنے کو نہیں کہتے اسباب کو موخر کرنے کو کہتے ہیں، اسباب کو پیچھے کرو عمل کو اگے کرو،*
*★_ یہاں تک فرماتے ہیں عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہ جب تمہیں کوئی حاجت پیش ائے تو اگلی فرض نماز کا انتظار کیا کرو، یہ نہیں کہ حاجت کو سبب سے پورا کر لیا جائے بلکہ فرمایا کہ اپنی حاجتوں کو فرض نماز کے لیے اٹھا کر رکھو، یہ مستقبل مشق کی چیز ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _اپنی نمازوں کو اللہ کے وعدوں پر لانا ہے _,*
*★_ دوسری بات یہ ہے کہ نماز اللہ کے وعدوں کے یقین پر آئے، وعدوں کا یقین کرنا ہے وعدوں کی نیت نہیں کرنی ہے، اے اللہ نماز پڑھ رہا ہوں یہ کام کر دے، یہ نماز حاجت کے لیے ہوئی اللہ کے لیے نہیں ہے، نماز حاجت کے لیے نہیں ہے، نماز اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ہے اور قریب والے کی بات سنی جاتی ہے،*
*★_ حاجت کی نماز کا مطلب یہ ہے کہ نماز اللہ کے قرب کے لیے پڑھ رہا ہوں, قریب ہو کر اللہ سے بات کی جا سکتی ہے, میں دور ہوں اللہ سے, نماز اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے, نماز سے اللہ کا قرب حاصل کرو پھر اللہ سے کہو, صلوۃ الحاجت کا مطلب یہ ہے,*
*★_ اپنی نماز کو اللہ کے وعدوں پہ لانا ہے, اس کے لیے فضائل کی تعلیم ہے, ہمارے یہاں تعلیم کا مقصد صرف تھوڑی دیر بیٹھ جانا نہیں ہے, صرف شوق پیدا کر لینا نہیں ہے بلکہ اسباب کی دنیا میں جا کر جو سبب سے ہوتا نظر ایا ہے وہاں سے اٹھ کر آؤ, تعلیم کے حلقوں میں بیٹھو اور یہ کہو دل سے کہ خدا کی قسم اسباب سے نہیں پلتے ہیں خدا کے وعدوں پر پلتے ہیں,*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ تعلیم کی شرطیں _,*
*★_ جب تک تعلیم میں بیٹھنے والا اور خود تعلیم کرنے والا دونوں اس یقین کو، اس تصور کو دل میں لیے ہوئے نہیں بیٹھیں گے کہ ہم اسباب سے نہیں پلتے ہم اللہ کے وعدوں پر پلتے ہیں، ان کو اللہ کے وعدے سمجھ میں نہیں ائیں گے،*
*★_ طبیعت تعلیم سے اکتا چکی ہیں, روزانہ ایک کتاب, روزانہ ایک کتاب, پڑھ لی حفظ ہو گئی یاد ہو گئی, عمل کے لیے کرنا چاہتے تھے اب عمل کرنے لگے ہم, حضرت فرماتے تھے اس عمل کا کیا اعتبار ہے جو عمل تو خواہش کے لیے چھوڑ دے، اس عمل کا کیا اعتبار ہے جو حاجت تجھ سے وہ عمل چھڑوا دے، معتبر وہ آعمال ہیں جو اعمال کے یقین کے ساتھ کیے جائیں،*
*★_ اس لیے تعلیم کا طریقہ یہ ہے, تعلیم کے ساتھ یہ شرط ہے کہ تعلیم کرانے والا, تعلیم سننے والے اس تعلیم کے حلقے کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اپ کے صحابہ کا وہ حلقہ تسلیم کرے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے غیب کا تذکرہ کیا کرتے تھے اور منافقین کہتے تھے یہ وعدے پورے ہونے والے نہیں ہیں اور صحابہ کہتے تھے نہیں یہ وعدے پورے ہو کر رہیں گے،*
*★_ اج بھی تعلیم کے حلقوں میں اسی کیفیت کی ضرورت ہے, اگر اس کیفیت پر تعلیم کا حلقہ نہیں ہے تو پرانے سے پرانے بھی اس تعلیم کے حلقے سے اکتا جائیں گے ،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _تعلیم کا مقصد صرف شوق پیدا کرنا نہیں _,*
*★_ اللہ کے وعدوں کو دلوں میں تازہ کرنے کے لیے تعلیم کا حلقہ ہے، صرف نماز کا شوق پیدا کرنے کے لیے تعلیم نہیں ہے، تبلیغ میں تعلیم کا مقصد صرف شوق پر لا کر ختم کر دیا گیا، جو عمل والا بن گیا ہے وہ تعلیم میں نہیں بیٹھے گا، یوں کہیں گے کہ نئے لوگوں کے لیے تعلیم ہے ہم بھی پہلے بیٹھا کرتے تھے جب نماز نہیں پڑھا کرتے تھے، اس سے نمازی بن گئے اب اس کی کیا ضرورت ہے ؟*
*★_ نہیں ! تعلیم صرف نماز کا شوق پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ تعلیم صبح شام دنیا میں پھیلے ہوئے مادی اسباب کے مقابلے میں اللہ کے وعدوں کے یقین کو تازہ کرنے کے لیے تعلیم ہے،*
*★_ جتنی جماعتیں اللہ کے راستے میں نکل رہی ہیں, نکلنے کے زمانے میں صبح شام تعلیم کرے, صبح کی تعلیم میں تین اعمال ہوں گے, قران کا حلقہ, منتخب احادیث کی تعلیم اور چھ شفاعت کا مذاکرہ اس کا اہتمام کرنا, ایک ایک کو ایک ایک ایت رٹوائی جائے، صحیح تلفظ ادا کرنے کی کوشش کی جائے،*
*★_ علماء اور قاری حضرات جماعتوں کے ساتھ اہتمام سے نکلیں, نکلنے والوں کی قران کی تعلیم اور فضائل کی تعلیم کا خود احتمام کریں, مولانا الیاس صاحب رحمت اللہ فرماتے تھے ہر جماعت کے ساتھ مولوی قاری ہوں جو ان کو دین کی تعلیم دے جو ان کو قران سکھائے،*
*★_اللہ کے راستے کی صحابہ کی نقل حرکت میں بھی اس کا اہتمام ہوتا تھا، جاہل لوگ اتے تھے علماء ساتھ نکلتے تھے، نئے لوگ آتے تھے انہیں بھی دعوت دے کر نکالا جاتا تھا، نئے لوگ پرانوں سے سیکھا کرتے تھے، آپ ذرا سیرت پر غور کریں، اس دعوت کے کام کو کسی فرقے یا جماعت کا کام الگ سمجھ کر نہ چلے، یہ بڑی نا سمجھی کی بات ہے، سیرت کی طرف جائیں تو سمجھ میں ائے گا دعوت کا کام، موجودہ صورت حال کو دیکھو گے تو سمجھو گے کہ یہ کوئی گروہ ہے جو اپنا کام کر رہا ہے، ایسی بات نہیں ہے, دین کے تمام شعبوں میں خیر لانے کے لیے امت کو تمام شعبوں سے جوڑنے کے لیے یہ اصل محنت ہے، اسی لیے تعلیم کو اصل طریقوں پر لاؤ،*
*★_ صبح کی تعلیم میں دو دو کی جوڑی بنا کر ایک ایک قران کی آیت ان کے ذمے کرو، ایک دوسرے کو سناتے رہیں ٹھیک کراتے رہیں، اگلے دن اس کو سنا جائے پھر اگلا سبق دیا جائے، اسی طرح خروج کی زمانے میں قران کے حلقے کا معمول ہوگا جیسے قرانی مکاتب میں بچوں کو پڑھانے کا معمول ہوتا ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ ___ کام کو تقسیم نہ کرو :-*
*"_ صبح کی تعلیم میں منتخب احادیث ہی پڑھی جائے، یہ تعلیم کی بنیادی حیثیت رکھتی ہے اس لیے کہ چھ نمبر پر حضرت جی رحمت اللہ نے منتخب کر کے احادیث جمع کی ہے، یہ چھ نمبر تبلیغ کی بنیادی صفات ہے، سارا کام چھ صفات ہے، ان چھ صفاتوں کی روشنی میں حقیقت تک پہنچنا ہے، ان کو حدیث کی روشنی میں بیان کرنا یہ منتخب حدیث کا اصل مقصد ہے،*
*★_ خدا کی قسم اس سے بڑا عذاب اور کوئی نہیں ہے کہ اس کام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے, اس سے بڑا امت پر عذاب کوئی اور نہیں ہے, ساری دنیا میں کام ایک رخ پر ہے, اس کو دو رخ پر تقسیم کرنے سے بڑا جرم اور کوئی نہیں ہے,*
*★_ اختلاف کرنے والوں کو سمجھانا ہمارا فریضہ ہے, ان کا اکرام کرنا ہمارا مقصد ہے, دوریاں پیدا کرنے کا مت سوچو بلکہ ہر قیمت پر ساتھ لے کر چلنے کی سوچو, تشدد بھی ہوگا نبوت کا کام یہ ہے کہ دب کر برداشت کر کے اللہ سے مانگتے رہو, مانگتے رہو, مانگتے رہو, کبھی تو دل نرم ہو جائیں گے, کبھی تو بات سمجھ میں آئے گی,*
*★_ میں تو حیران ہوں غیروں کو سمجھاتے ہیں اپنوں کو نہیں سمجھاتے، غیروں کی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اپنوں کی نہیں کرتے، عجیب بات ہے جب تم غیروں کو سمجھا کر اپنا بنا سکتے ہو تو اپنوں کو سمجھا کر اپنا نہیں بنا سکتے ؟*
*★_ کام کی ترتیب پوری دنیا میں ایک ہے، کام کے کسی جزو سے اگر کوئی اختلاف کرے تجزویات کی وجہ سے امت سے اختلاف نہیں کریں گے، ہم اپنا کام کرتے رہیں گے، جو کہا گیا ہے اور سمجھاتے رہیں گے، اصول لڑنے کے لیے نہیں ہے اصول تو ڈرتے ہوئے عمل کرنے کے لیے ہیں، اصول پر لڑنا سب سے بڑی حماقت ہے، اصول کے لیے لڑنا سب سے بڑی بے اصولی ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ مسجد کی آبادی کی محنت_,*
*★_ منتخب کے بعد چھ صفات کا مذاکرہ ہو, ظہر کی تعلیم میں فضائل آعمال فضائل صدقات اہتمام سے پڑھی جاوے, حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمت اللہ علیہ نے جو حدیث کے زیل میں فائدہ لکھا ہے وہ بڑا قیمتی سرمایہ ہے، ایک محدث اعظم کا احادیث کے مجموعے کا نچوڑ ہے فائدہ، اس فائدے کو انتہائی توجہ سے سنا جائے پڑھا جائے اور تنہائیوں میں بیٹھ کر غور کیا جائے، ان فوائد پر تو ہر شخص کو اپنے دین کی کمی کا احساس ہوگا،*
*★_ تعلیم کوئی رسم نہیں ہے اس کے ذریعے اپنے اندر دین کی کمی کا احساس پیدا کرنا ہے, ہمارا سب کا حال یہ ہے کہ ہم رعایت کرتے ہیں مصلیوں کی، اس لیے یہ تعلیم گرتے گرتے پانچ منٹ دو منٹ پر آ گئی ہے،*
*★_ بے شمار لوگ ہمارے محلے میں ایسے ہیں جو ریٹائرڈ ہو چکے ہیں, کوئی کام نہیں ہے, گھروں میں پڑے ہوئے ہیں، فرصت کسی نہ کسی گناہ میں مبتلا رکھے گی، اگر یہ لوگ مسجد کے کھوٹے بن جائیں مسجد میں پڑ جائیں، تو ان کے مسجد میں پڑ جانے کی وجہ سے محلے کے لوگ مسجد سے استفادہ کریں گے،*
*★_ ہماری مسجدیں خالی ہیں پھر شکایت کرتے ہیں کہ مسجدیں ہاتھ سے جا رہی ہیں, کیوں نہ جائیں مسلمان کے اللہ کے گھروں کو آباد نہ کرنے اور اس کی ناشکری یہ مسجدوں کا ہاتھ سے جانے کا اصل سبب ہے،*
*★_ اس لیے تعلیم کے ساتھ تعلیمی گشت، ایک تعلیمی گشت ہوگا خروج کے زمانے میں، ایک تعلیمی گشت ہوگا خود اپنی بستی میں رہتے ہوئے، دونوں جگہ تعلیمی گشت ہے، مقام پر بھی اور خروج میں بھی، مقام پر تعلیمی گشت کب ہوگا ؟ مقام پر جو تعلیمی گشت ہوگا وہ ڈھائی گھنٹے کی محنت ہے، ڈھائی گھنٹے کی ملاقاتیں یہی تعلیمی گشت ہے،*
*★_ بازاروں میں گھروں میں ہوٹلوں میں کوئی جگہ مت چھوڑو ملاقات سے, یہ خیال غلط ہے کہ مسجد کی آبادی کی وجہ سے گھروں کی ملاقاتیں چھوڑنا چاہتے ہیں بلکہ جس گھر کی ملاقات کا مشورہ ہو گیا اس گھر کی ملاقات کرتے ہوئے مسجد سے لے کر اس گھر کے درمیان کے ہر فرد کو دعوت دے کر مسجد کے آعمال کی طرف لانا، جو ملاقات کے لیے طے ہو گئے وہ ملاقات کے لیے مسجد کے اطراف میں بازاروں میں ہوٹلوں میں، عیاشیوں کے اڈوں میں، شراب خانوں میں، تاش کے حلقوں میں، جہاں جہاں مسلمان جس حال میں ہیں، ایک ایک مسلمان کو مسجد کے ماحول میں لانا، مسلمان کو مسجد میں آنے کے اعتبار سے حقیر سمجھنا یہ بڑی حماقت ہے کیونکہ ایک مسلمان جیسا بھی ہے اس کا درجہ بیت اللہ سے اونچا ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __گھروں میں قران کا حلقہ ہدایت کا ذریعہ ہے:-*
*★_ ایک تعلیم مسجد کی وہ ہے جو کسی ایک نماز کے بعد مسجد میں کرنے کا معمول ہے، اس تعلیم میں سبھی شرکت کریں، اس میں تعلیمی گشت نہیں ہے، تعلیمی گشت جب شروع ہوگا جب ڈھائی گھنٹے کی ملاقات شروع ہوگی، اس طرح ہمیں تعلیم کا اہتمام کرنا ہے،اسی طرح اپنے مقام پر جو پانچ اعمال بتلائے جا رہے ہیں یہ نئی بات نہیں ہے، صحابہ کی سیرت ہے، کام میرے آپ کے تجربات پر نہیں ہے میری آپ کی سوچ پر نہیں ہے، کام سیرت پر ہے،*
*★_ گھروں میں قران کا حلقہ یہ ہدایت کا ضروری ذریعہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ کو ہدایت ملی ہے اس دن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کا ارادہ لے کر نکلے تھے، جب بہن کے گھر داخل ہوئے تو وہاں قران کا حلقہ چل رہا تھا، حضرت خباب رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے بہن بہنوئی کو قران سکھلا رہے تھے, حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہدایت یہاں سے ملی ,*
*★_ گھر سے نکلے تھے آپ کو قتل کرنے کا تقاضہ لے کر، یہاں سے نکل رہے ہیں اسلام قبول کرنے کا تقاضہ لے کر، یہ کہنے کی باتیں نہیں ہیں حقیقت ہے، یہ کہنا کہ تبلیغ میں نئے نئے کام شروع ہو رہے ہیں، میں تو کہتا ہوں صحابہ کے عمل کو نیا کہنے والا خود نیا ہے، کام نیا نہیں ہے اس کو نیا کہنے والا نیا ہے، اس کام کی مخالفت کرنا براہ راست محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ عمل کی مخالفت ہے،*
*★_ حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رحمت اللہ علیہ ان کا خط موجود ہے کام کرنے والوں کے نام، کہ روزانہ گھروں میں قران کی تشریح کا حلقہ چھ نمبر کے مذاکرے کے ساتھ تعلیم کے ساتھ کرنا چاہیے، امیر (حضرت جی رحمت اللہ) کا حکم ہے، اطاعت اس کو نہیں کہتے کہ کہا ہوگا انہوں نے، ہم مشورہ کریں گے، اس سے بڑھ کر صحابہ کی سیرت سامنے ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی سیرت سب سے بڑھ کر ہے،*
*★_ روزانہ گھروں میں قرآن کی تشریح کا حلقہ ہو اور کیوں نہ ہو، یہ فریضہ ہے قرآن کا حکم ہے، اپنے اپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی اگ سے بچاؤ، جہنم میں جانے کا سب سے پہلا سبب نماز کا چھوڑنا ہے کہ اتنا قرآن سیکھنا فرض ہے ہر گھر کے ہر فرد کو ہر مرد عورت کے لیے جس سے نماز درست ہو جائے، نماز درست نہیں ہوگی قرآن کے بغیر،*
*★_ اس لیے روزانہ گھر میں تعلیم کے ساتھ قران کا حلقہ ہو اور اس میں گھر کے ہر فرد کی شرکت ہو, ایسا وقت دیکھے تعلیم کے لیے جو سب کی فرصت کا اور سب کے جمع ہونے کا وقت ہو، حلقہ لگا کر بیٹھیں، ایک ایک سے قرآن کی آیت سنی جائے، ایسی عورتیں جو ایام میں ہیں وہ قران نہیں پڑھ سکتی، وہ بیٹھ کر سنیں لیکن قرآن کا حلقہ ایک دن بھی نہ چھوڑا جائے، ایام سے پاک ہو جائیں پھر پڑھیں سیکھیں، پھر چھ صفات کا مذاکرہ اور اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے مستورات کی تشکیل ہو،*
*★_ حضرت فرماتے تھے- دودھ پیتے بچوں کو لے کر بیٹھو, جو رحمتیں نازل ہوں گی جو فرشتے نازل ہوں گے حلقوں پر اس سے تمہارے بچوں کی تربیت ہوگی, یہاں تو حلقے سے ہی اختلاف ہے، کتنی بڑی محرومی کی بات ہے اعمال صحابہ سے اختلاف، یہ کام مسنون ہے، اس کام کے مخالفت کرنا براہ راست محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ عمل کی مخالفت کرنا ہے، ڈر لگتا ہے کہ اللہ تعالی اس خیر سے خیر القرون کے طریقے سے محروم نہ کر دے، کسی بات کا انکار کرنے سے پہلے ضرور سوچ لینا کہ کہیں یہ کام سیرت میں تو نہیں جس کا ہم انکار کر رہے ہیں،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __عورتوں میں دین کی محنت ضروری ہے :-*
*★_ ہمیں عورتوں کی جماعتوں کو کثرت سے نکالنا چاہیے, کیوں ؟ اپ بتائیے مسجدیں زیادہ ہیں دنیا میں یا گھر زیادہ ہیں, مردوں کو تو مسجد میں ماحول مل جائے گا عورتوں کو ماحول کیسے ملے گا ؟ ان گھروں کے ماحول کو کیسے بدلا جائے گا، ہر گھر میں بے دینی کی آگ لگی ہے، اس کو بدلنے کے لیے ہر گھر کے 24 گھنٹے کے نظام کو دعوت پر عبادت پر سنت پر تعلیم کے حلقوں پر قران کی تشریح کے حلقوں پر، ان گھروں کے 24 گھنٹے کے معمول کو نبوت کے طریقے پر لانے کے لیے ان گھروں میں عورتوں کی جماعتوں کا داخل ہونا بے حد ضروری ہے، شرعی پردہ شرعی محرم ساتھ ہونا یہ شرائط سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں،*
*★_ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر آرام فرما رہے تھے, آپ مسکرا کر اٹھے, پوچھا یا رسول اللہ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ فرمایا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے, میری امت کے ایسے کچھ لوگ سمندر پار جائیں گے، کشتیوں سے سفر کر کے میرے دین کی دعوت کو ان تک پہنچانے کے لیے اور وہ کشتیوں میں ایسے بیٹھے ہوں گے جیسے بادشاہ تختوں پر اطمینان سے بیٹھے ہوتے ہیں، ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے بھی اس جماعت میں شامل کر دیجیے، ام حرام عورت ہیں، یوں نہیں فرمایا کہ تمہارے کرنے کا کام نہیں ہے، یہ صرف مردوں کے کرنے کا کام ہے، فرمایا کہ ام حرام تم اسی جماعت میں ہو،*
*★_ دوبارہ اپ سوئے، آپ دوبارہ مسکراتے ہوئے اٹھے، فرمایا مجھے ایک جماعت دکھلائی گئی اسی طرح، ام حرام نے کہا دوسری جماعت میں بھی مجھے شامل کر دیجیے، فرمایا ام حرام تم دوسری جماعت میں کیسے شامل ہو سکتی ہو، جب پہلی جماعت میں نکل کر اس ملک میں تمہاری وفات ہو جائے گی، تمہاری قبر وہاں بنے گی، ایک عورت جس کو بتلا دیا گیا ہے تیری موت فلاں ملک میں ہوگی، وہ جانے کو تیار ہے، یہ عورتوں کے جذبات تھے،*
*★_ عورتوں کی جماعتوں کی نقل حرکت, ان کا خروج ضروری ہے گھروں میں دین کے داخل ہونے کے لیے, اس لیے عرض کر رہا ہوں, دو ماہ تین دن اپنی مسجد کی مردوں کی جماعت کے ساتھ اور تیسرا مہینہ تین دن اپنی مستورات کے ساتھ نکلے, ہر مسجد والوں سے یہ کہنا ہے کہ مسجد وار جماعت کا ہر ساتھی انصار کی طرح آنے والی مستورات کی جماعت کے لیے اپنے گھروں کو پیش کریں, یہ ہر مسجد کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ اس کی ترغیب دے،*
*★_ تشکیل کرو ساتھیوں کی, کون مستورات کی جماعت کی نصرت کرے گا اپنے گھر میں, کہیں جماعت آ کر ٹھہر جائے مستورات کی، آس پاس کی عورتیں آ کر تعلیم میں شرکت کر لیں یہ ہرگز کافی نہیں ہے، جب تک اس گھر میں کم سے کم 24 گھنٹے جماعت رہ کر اس گھر کے افراد کو ساتھ لے کر انہیں کھانے کی سنتیں سونے کی سنتیں تعلیم کا طریقہ نماز کا طریقہ ایمان عبادات جب تک ساتھ رہ کر عملی طور پر نہ سکھلائے گھر کے ماحول میں تبدیلی نہیں آ سکتی،*
*★_ میں نہیں سمجھتا کہ گھروں کا ماحول صرف ہفتے واری تعلیم سے بدل جائے، ہفتے واری تعلیم گھنٹے دو گھنٹے کی ہے، ایک گھر کے 24 گھنٹے کے نظام کو بدلنے کے لیے یہ بنیادی ذریعہ ہے کہ کوشش کرو کہ ہر گھر میں مستورات کی جماعت داخل ہو جائے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _گھر کی تعلیم کے پانچ آعمال :-*
*★_ جب مہاجر ائے ہجرت کر کے تو انصار نے ہر چیز کو پیش کیا، میرے پاس کھیت ہے کھیت لے لو، میرے پاس مکان ہے مکان لے لو، فرمایا تمہاری کھیتی تمہیں مبارک تمہارا گھر تمہیں مبارک،لیکن آپس میں میل جول اتنا ہوا کہ جو کچھ مہاجر کی عورتیں سیکھ کر ائی تھی وہ انصار کی عورتوں کو ساتھ رکھ کر سکھا دیا،*
*★_اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ مستورات کا کام اس طرح اہمیت رکھتا ہے جس طرح مستورات کے راستے سے بے دینی کا آنا اس زمانے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے، عورتوں کی تعداد بڑی ہے مردوں کے مقابلے میں، ان میں محنت کی زیادہ ضرورت ہے،*
*★_ ہر مسجد کی جماعت اپنی مسجد سے متعلق محلے میں ہفتے واری تعلیم کی خود فکر کرے، شرائط نہیں تشرائط نہیں ہے یہ ٹالنے والی بات ہے، کام کرنے والے زمے دار اس کو نہیں کہتے، شرائط نہیں ہے تو شرائط کو پوری کرو، ہر محلے میں ہفتے واری تعلیم ہر مسجد وار جماعت کی ذمہ داری ہے، ہر مسجد کی دو ذمہ داریاں ہیں, اس مسجد سے متعلق ہفتے واری تعلیم اور اس مسجد سے متعلق گھروں میں مستورات کی جماعت کا استقبال،*
*★_ گھر کی تعلیم میں پانچ آعمال ہمیں کرنا ہے, تعلیم, قران کا حلقہ, چھ صفات کا مذاکرہ, مستورات کی تشکیل اور مشورہ, مشورہ پانچواں عمل ہے, اگلے دن کا مشورہ کہ تعلیم کون کرائے گی، قران کا حلقہ کس کے ذمہ ہوگا، کل چھ نمبر کون بیان کرے گی، یہ روزانہ کے مشورے سے متین کر گھر کی عورتوں کے ذمے کیا جائے، اس طرح گھروں میں ہمیں فضائل کی تعلیم کا عمل اصول اور آداب کے ساتھ پابندی سے کرنا ہے، ( انشاءاللہ)*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _عوام کو علماء سے جوڑنا یہ ہمارا مقصد ہو,*
*★_ مسائل کا علم فرض ہے اس کے بغیر کسی فریضے کا اعتبار نہیں, مسائل کا علم علماء سے حاصل کرو, علماء کی صحبت ان کی زیارت کو اپنے لیے عبادت اور آخرت کی نجات کا اصل جریعہ سمجھو، اس لیے کہ ان کے بغیر نجات نہیں ہے،*
*★_ جو فریضہ نماز کا ہے وہی درجہ فرائض میں علم کا ہے, علم فرض کیا گیا ہے اس امت پر, ہماری کوشش یہ ہے کہ دعوت کے ذریعے امت کو جہالت سے نکال کر اللہ والے علم کی طرف لائیں، ہر جگہ کے عوام کو وہاں کے علماء سے جوڑنا ہر جگہ کے عوام کو مدارس اور مکاتب سے جوڑنا یہ ہمارے گشتوں کا بنیادی مقصد ہے،*
*★_ مدارس کا تعاون اپنے مال کا سب سے پہلا مصرف سمجھو, اس لیے کہ اس زمانے میں امت کو جہالت سے نکال کر علم سکھلانے پر اور امت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے مال خرچ کرنا باطل سے مقابلہ کرنے کا آسان راستہ یہی ہے کہ امت کو جہالت سے نکالا جائے،*
*★_ میں سمجھتا ہوں کہ دینی ادارے جن مشکلات سے گزرتے ہیں، قران مکاتب اپنی ضروریات میں جن حالات سے گزرتے ہیں، یہ مسلمانوں کے علم پر خرچ نہ کرنے کے مزاج کی وجہ سے ہے، سب سے بہترین ہے وہ شخص جو ان کو ضروریات سے فارغ کر دے،*
*★_ مسلمان کا یہ ہے سمجھنا کہ ہم بھی اسباب بناتے ہیں، ہم نے فلاں جگہ انتظام کر دیا، ہم نے مسافر خانے بنوا دیے، میں سوال کرتا ہوں کہ تیرے مال خرچ کرنے سے مسلمان کو دینی فائدہ کیا ہوا ؟ دنیاوی فائدے تو غیر بھی پہنچا دیتے ہیں اور پہنچا رہے ہیں، اللہ ایسے لوگو کو جزائے خیر دے ہدایت کی شکل میں،*
*★_ جہاں جہاں ہماری جماعتیں چلے قرانی مکاتب قائم کرتے ہوئے چلے، امام سے ملاقات کرے ترغیب دے، بچوں کو بوڑھوں کو سب کو گشت کر کے مکتب سے جوڑے، آج کل لوگ سمجھتے ہیں کہ مکاتب کا مطلب بچوں کا مکتب، مکتب بچوں کا نہیں ہوتا مکتب تو ہر مسلمان کا ہوتا ہے، اس میں پانچ سال کے بچے سے لے کر 80 سال کا بوڑھا بھی اس کے حلقے میں بیٹھے گا، یہی صحابہ کا طریقہ ہے، مکتب کا تصور بچے نہیں ہیں مکتب کا تصور ہر مسلمان کو کم سے کم مسجد میں قران اور عقائد کی تعلیم دینا ہر مومن سے متعلق ہے،*
*★_ مسجد وار جماعتیں بھی اپنی اپنی بستی محلے کی مسجد میں مکتب قائم کرنے کی فکر کریں اور اپنے گشتوں میں ملاقاتوں میں مکتب کی تعلیم کی بھی دعوت دے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ ذکر کا اہتمام کرو _,*
*★_ اسی کے ساتھ اللہ کے ذکر کا اہتمام کرو، علم اور ذکر کا خلاصہ ہے کہ اللہ کی اطاعت اس کے دھیان کے ساتھ ہو جائے، ذکر کو لازم پکڑ لو، مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ کا ملفوظ ہے، ذکر کے بغیر علم ظلمت ہی ظلمت ہے،*
*★_ آدمی گھر کا جیو گرافیہ جانتا ہے لیکن اندھیرے میں ٹکر مارتا ہے دیوار سے، حالانکہ اسے معلوم ہے میرا گھر کس طرح بنا ہوا ہے لیکن اندھیرے میں نہیں چل سکتا، بالکل یہی بات ہے اگر ذکر نہیں ہے علم ہے تب بھی گمراہ ہو جائے گا، ذکر روشنی ہے صحیح غلط میں فرق کرنے کے لیے اور راستہ پانے کے لیے، اس لیے ذکر کو ہلکا نہ سمجھو، ذکر کا اہتمام کرو،*
*★_ اللہ کے نام کا ذکر کرنا اس کے دھیان کی مشق کے لیے ہے، چوبیس گھنٹے اللہ کے دھیان کے ساتھ گزارنا یہ ذکر کا اصل مقصد ہے، ذکر کو اللہ کے دھیان کے بغیر کرنا بے ادبی ہے، جس کا انجام دلوں کی غفلت کا باقی رہنا ہے، ذکر تنہائی میں کرو، باوضو کرو، اللہ کے غیر سے کٹ کر ذکر کرو، صرف تسبیحات کا پورا کرنا ذکر نہیں ہے، ذکر کی حقیقت یہ ہے کہ گناہ کے وقت بھی اللہ یاد ائے اور اس گناہ سے ڈر جانا یہ اصل ذکر ہے، اس کیفیت تک پہنچنے کے لیے ذکر کی مشق ہے،*
*★_ مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ فرماتے تھے ذکر ذریعہ ہے 24 گھنٹے اللہ کو یاد رکھنے کی مشق کے لیے, لوگوں نے ذریعے کو اصل سمجھ لیا مقصود کو بھلا دیا_,"*
*"_ لوگ ذکر بھی کر رہے لایعنی میں بھی مبتلا ہیں, ذکر بھی کر رہے اور غیبت بھی ہو رہی ہے, نہیں اصل ذاکر ہی وہ ہے جس کو گناہ کے وقت اللہ یاد آ جائے, انکھ کھل جاتی ہے فوراً اللہ کے عذاب کو دیکھ لیتے ہیں کہ اس گناہ کو کرنے پر یہ عذاب ہے, اندھاپن اس کو نہیں کہتے کہ کسی کو کچھ نظر نہیں آتا اندھاپن اس کو کہتے ہیں کہ آخرت نظر نہ ائے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _تین تسبیحات اور قران پاک کی تلاوت کی پابندی _,*
*★_ صبح شام تین تین تسبیحات کی پابندی کریں، نکلنے کے زمانے میں ہی نہیں بلکہ مقام پر بھی اس کا اہتمام کریں، ایک تسبیح تیسرے کلمے کی ایک استغفار کی اور ایک تسبیح درود شریف کی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ احسانات ہیں ہم پر کہ اگر ہم اپنے جسم کی کھالوں کی جوتیاں بنا کر پیش کریں تو خدا کی قسم احسان ادا نہیں کر سکتے، اللہ ہی قادر ہے ہم قاصر ہیں، اے اللہ تو ہی قادر ہے اس پر کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے دین ہم تک پہنچانے کے فقر و فاقے میں، اس دین کو ہم تک پہنچانے میں زخم خانے میں، اس دین کو ہم تک پہنچانے میں ناگواریوں کے بردا شت کرنے میں، اے اللہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر احسان ہے اس احسان کا بدلہ دینے میں ہم عاشق ہے عاجز ہیں قاصر ہیں اے اللہ تو ہی بدلہ عطا فرما،*
*★_ بیان کرنے والے بیان سننے والے اس کا خاص اہتمام کریں، جب امت دعوت کو بھول جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات بھول جائے گی کیونکہ جتنی اپ کی اذیتیں اس دعوت ال اللہ کی وجہ سے ہیں، اس دعوت کا بھلانے والے اپ کے اللہ کی طرف بلانے کی اذیتوں کو بھلا بیٹھیں گے، کیونکہ جو دعوت کو نہیں سمجھے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اذیتوں کو کیا سمجھے گا ؟*
*★_ قران کریم کی تلاوت سب سے افضل ذکر ہے، ہمارے مجمعے میں بیان تقریر مشورے لمبے لمبے اور قران کی تلاوت ؟ کہ وقت نہیں ملا، نوافل کا وقت نہیں ملا، تلاوت کا نوافل کا اہتمام نہیں ہے، یاد رکھو جو اللہ سے بے تعلق ہو کر چلیں گے وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے متعلق نہیں کر سکیں گے، یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہم کسی پروگرام سے گزر رہے ہیں یا دعوت اللہ سے، دعوت تو اللہ سے جڑنے اور جوڑنے کا نام ہے، قران کریم کی تلاوت کا معمول بنا لیں کہ اس سے افضل ذکر کوئی نہیں ہے،*
*★_ حدیث پاک میں اتا ہے کہ جس کو قران کریم کی تلاوت کی وجہ سے ذکر دعا کا وقت نہ ملے اللہ تعالی اس کو اس سے بہتر عطا کرتے ہیں، یہ اللہ کی ذات سے نکلا ہوا کلام ہے، روزانہ تلاوت بھی کریں اور محققین علماء، معتبر علماء سے پوچھ کر اپنے متعالوں میں تفسیر کا بھی ضرور اہتمام کریں، آسان ترجمہ قران کا ضرور دیکھیں، کوئی بات سمجھ میں نہ ائے تو علماء سے پوچھو،*
*★_ قران کریم کو سمجھ کر پڑھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہر مسلمان براہ راست اللہ کے کلام کو سمجھ کر کلام کا اثر لے، قرآن میں تدبر کرنا غور کرنا قرآن کا حکم ہے، مشرکین مکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قرآن جور سے پڑھنے پر اختلاف کرتے تھے کہ ہماری عورتیں بچے قرآن سن کر اسلام میں داخل ہو جائیں گے، وہ سمجھ کر سنتے تھے تو مسلمان ہو جاتے تھے، ہم سمجھ کر نہیں پڑھتے اس لیے متاثر نہیں ہوتے، جھوٹے اخبار پڑھ کر متاثر ہو جاتے ہیں سچا قرآن پڑھ کر متاثر نہیں ہوتے کیونکہ جھوٹا اخبار سمجھ کر پڑھ رہے ہیں سچا قرآن سمجھ کر نہیں پڑھ رہے،*
*★_ اور خروج کے زمانے میں تلاوت, سبحان اللہ ! فرمایا ایک روایت میں جو اللہ کے راستے میں نکل کر ایک ہزار آیتیں تلاوت کرے اللہ تعالی اس کو انبیاء صدیقین شہداء صالحین کی جماعت میں اس کا نام لکھ دیتے ہیں، یہ اس لیے فرما رہے ہیں کہ تین قسمیں محنت کرنے والی ہیں، انبیاء صدیقین شہدا، اگر ان تین قسموں والے بن جاؤ گے اپنے علاقے پر محنت، اپنی ذات پر محنت، سارے عالم میں محنت، اگر ان تین کے اعتبار سے ہر جگہ محنت کرو گے تو اللہ تمہیں صالحین میں شامل کر دے گا، اس لیے قرآن کی تلاوت کا اہتمام کریں،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ تہجد کا اہتمام :-*
*★_ تہجد کو لازم پکڑ لو، دن بھر کی دعوت میں جو قوت ملے گی وہ رات کے قیام سے ملے گی، کام اللہ تعالی کی مدد سے ہوگا، اگر وہ ہندہ آپ کے چچا کا کلیجہ چبانے والی فتح مکہ کی رات کی انفرادی اجتماعی صحابہ کے قیام اور رات کے تہجد کو دیکھ کر ایمان لا سکتی ہے تو اس زمانے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو ہندہ جیسا جذبہ رکھتا ہو اپنے دل میں سوچو،*
*★_ ساتھیوں کو نیا سا لگتا ہے, اوابین پڑھوا رہے ہیں, تہجد پڑھوا رہے ہیں, مجمع تھکا ہوا ہے ارام کرنے دو، نہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کا دن جس میں اپ کو مینا میں حج کے ارکان کرنا تھے اس دن سے پہلے کی رات مزدلفہ کی جو رات تمام راتوں میں افضل ہے، اس رات میں آپ نے پوری رات آرام فرمایا ہے، عجیب بات ہے عبادت کی رات میں آرام فرمایا ہے لیکن دعوت کی کوئی رات ایسی نہیں جس رات میں آپ کا سر سجدے میں نہ رہا ہو، عبادت کے دن کی رات آرام میں اور دعوت کے دن کی رات سجدے میں، سر نہیں اٹھایا آپ نے جب تک اللہ سے یہ طے نہیں کروا لیا کہ اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو دنیا میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا، اس امت کو کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے میں قبول کروایا ہے، یہ ہر امتی کی ذمہ داری ہے کہ وہ راتوں کو پیشانیوں کو سجدے میں رگڑ کر امت کے لیے اللہ سے ہدایت کے فیصلے کروائے،*
*★_ ذہن سے یہ سب باتیں نکال دو اجتماعی طور پر کہ یہ راستہ ( دعوت کی محنت) الگ ہے، وہ راستہ الگ ہے، مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ یہ دونوں باپ بیٹے مر گئے یہ کہتے کہتے کہ یہ کام صحابہ والا کام ہے، یہ کام صحابہ والا کام ہے، یہ کام صحابہ والا کام ہے، سب سے بڑی محرومی کا سبب وہ بنے گا جو یہ سمجھے گا کہ یہ کام اور ہے وہ کام اور تھا, چونکہ ہم نے صحابہ کی نقل حرکت کے تمام مقاصد کو بھلا دیا، یہ خروج اور نقل حرکت صحابہ کی اصل سنت ہے، ایک ایک امتی کے پاس جا کر خود دعوت دے کر اس کو اس کے ماحول سے نکال کر اس کو علم سے بھی جوڑو، قران سے بھی جوڑو، علماء سے بھی جوڑو، مساجد سے بھی جوڑو، فرائض پر بھی لاؤ، اصل مقصد امت کی ہلاکت نہیں ہدایت ہے،*
*★_ اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو متحرک بنایا تھا, اس لیے نقل حرکت کے ساتھ ان آعمال کے فضائل بتلائے تھے کہ اگر مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی تلاوت کرو گے، حرم مکہ میں بھی بیٹھ کر تلاوت کرو گے تو وہ اجر نہیں ملے گا جو اس راستے میں نکل کر ملے گا، پکی بات ہے یہ پکی بات ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ _ تین کام دعوت عبادت اور دعا:-*
*★_ اس امت کا کام یہ ہے کہ اللہ سے منوا لے، اپنے لیے بھی اور سارے اگیار کے لیے بھی ہدایت کا راستہ اللہ تعالی سے کھلوا لے،*
*★_ اگر دعوت کا کام کرنے والے کام پر عبادت کے بغیر جمع ہو رہے ہیں تو یہ محنت کا دھوکہ ہے, اللہ کے بندوں کو اللہ کے متعلق کرنے کے لیے اللہ تعالی پر تہجد اور دعاؤں کے اہتمام کے ذریعے زیادہ محنت کرنی پڑے گی، اس لیے تین کام ساتھ جوڑے گئے تھے، دعوت عبادت اور دعا، اس لیے دعوت اور عبادت کے ساتھ ساتھ رات کے قیام کا بہت اہتمام کرے،*
*★_ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جماعتوں کو رخصت کرتے ہوئے تاکید فرماتے تھے کہ دو کام بہت زیادہ کرو گے تو اللہ تعالی کی مدد تمہارے ساتھ ہوگی، ایک رات کا قیام دوسرا قران کریم کی تلاوت،*
*★_ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو صحابہ ہوا کرتے تھے وہ ایک عمل پر پورا مجموعہ مجتمع تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے یہاں اعمال اجتماعی ہؤا کرتے تھے، ایک طبقے نے کر لیا ایک طبقے نے نہ کیا اس سے اجتعمائی ماحول نظر نہیں اتا، ایک کونے میں بھی غفلت کا ہونا سب کی غفلت کے لیے کافی ہے،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ اکرام، اخلاص اور اختصلاص :-*
*★_ اکرام کی حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ وہ معاملہ کرو جس کا وہ اہل ہے، ہمیں اللہ کے راستے میں نکل کر خدمت کے ذریعے اکرام کی مشق کرنی ہے، اپنا کام خود کرو دوسروں کے کام اؤ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر جنگل سے لکڑیاں خود چن کر لا سکتے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے؟ اپنے آپ کو خود خدمت کے لیے پیش کرو, آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایسے لگ جاتے تھے کام میں کہ آنے والے کو پوچھنا پڑتا تھا کہ محمد ﷺ کون ہیں ؟*
*★_ اس لیے خدمت کے ذریعے اپنے اندر تواضع پیدا کرنی ہے، فرمایا اللہ کا تعلق بندے سے بندے کا تعلق اللہ سے اس وقت تک باقی رہتا ہے جس وقت تک یہ دوسروں سے خدمت نہیں لیتا، اس لیے خروج کے زمانے میں خاص طور پر کمزوروں کی مدد کرو، اپنا کام خود کرو، اجتماعی کام میں حصہ لو، کسی کام کو اپنی حیثیت سے نیچا مت سمجھو، اعمالِ خدمت اعمالِ نبوت ہیں، براہ راست یہ پروگرام نہیں ہے دعوت ہے، دعوت میں آعمال اعمالِ نبوت ہیں، اعمالِ صحابہ ہیں،*
*★_ اور یہ سارے کام اللہ کی رضا کے لیے ہوں، حدیث میں اتا ہے ادنا ریا بھی شرک ہے، اس لیے اپنی نیتوں کو ٹٹولتے رہو، ہر عمل میں بار بار اپنی نیتوں کو سامنے رکھیں، اللہ سے رو رو کر اخلاص مانگتے رہیں، ایک اخلاص ہے اور ایک اختصلاص ہے، اس کام کو یکسوں ہو کر کریں، ادھر ادھر کی باتوں سے لایانی کاموں سے اپنے اپ کو بہت بچانا ہے، اخلاص یہ ہے اللہ کے لیے کام کرو، اختصلاص یہ ہے کام کے ہو کر کام کرو، جو کام کے مزاج کے خلاف ہے اس کام سے اپنے اپ کو بچاؤ،*
*★_ ادھر ادھر کے لایانی باتوں میں نہ پڑو, اپنے آپ کو کام میں اتنا مشغول رکھو کہ فرصت ہی نہ ملے, کسی کو کلمہ سکھانا ہے, دو چار کو ملاقات کر کے مسجد میں لانا ہے، ذرا بیٹھ کر ان کو دعوت دینا ہے، ہمارا مجمع اگر انفرادی دعوت کا عادی نہ ہوا تو کسی فتنے کا شکار ہوگا، ہمارے پاس کرنے کے بہت کام ہیں، ہمارے پاس نہ کرنے کے کاموں کے لیے فرصت نہیں ہے، آٹھ گھنٹے مسجد کو دینا ہے، کاروبار بھی کرنا ہے، بیوی بچوں کو بھی دیکھنا ہے، ہمارے پاس وقت کہاں ہوتا ہے ؟ آٹھ گھنٹے ہر مسلمان سے مطلوب ہے، آٹھ گھنٹے مسجد کی آبادی کے لیے فارغ کریں، مصلیوں سے انتہائی اکرام کے ساتھ انتہائی نرمی سے اور فضائل بتا کر وقت کا مطالبہ بتا کر تشکیل کیا کرو،*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __تین کام دنیا میں رہ کر کرنے ہیں -دعوت, عبادت اور تعلیم,*
*★_ عشاء کی نماز کے بعد بھی مسجد کی آبادی کا عمل کیا جا سکتا ہے بلکہ کرنا چاہیے سنت ہے، عشاء کی نماز تاخیر سے ہونے پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد جاتے تھے انصار کے محلے میں، کھڑے کھڑے دیر تک آپ انصار کو ہجرت کے واقعات سناتے، اس راستے کی تکالیف اور فضائل بتاتے،*
*★_ جو مسلمان جب جہاں ملے گا جس وقت ملے گا ملاقات کرو، انصار رضی اللہ عنہم کاشتکار تھے، ملاقات کے لیے عشاء کی نماز تاخیر سے ہونے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے محلے میں جاتے تھے، ہمارے یہاں تو عشاء کی نماز اول وقت میں ہو جاتی ہے، اگر اس فارغ وقت کو دعوت عبادت میں نہیں لگاؤ گے تو یہ وقت یقیناً کسی گناہ میں استعمال ہوگا،*
*★_ اسی لیے اپنے وقت کی حفاظت کرنی ہے, لایانی سے بچنا ہے, بہت سی چیزیں بے اصل ہیں, موبائل کا زمانہ ہے پہلے تو غیبت کرنے کے لیے کسی کے پاس بیٹھا جاتا تھا، اب حالات یہ ہے کہ ایک اس ملک میں بیٹھا ہے ایک دوسرے ملک میں بیٹھا ہے اور غیبت چل رہی ہے، لوگ کہتے ہیں ان چیزوں سے سہولت ہو گئی ہے، میں کہتا ہوں کہ ان چیزوں نے گناہوں کو اجتماعی بنا دیا ہے،*
*★_ حدیث میں آتا ہے ایک آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے کہ سنی سنائی بات کو آگے بڑھا دے، اس لیے اپنے آپ کو عادی بناؤں دعوت کے کام کا، دعوت میں، عبادت میں، علماء کی مجالس میں، دین سے سیکھنے میں،*
*★_ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے، اگر یہ تین کام نہ ہوتے ایک اللہ کے راستے میں پھرنا نہ ہوتا تو میں دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا، ایک اللہ کو لمبے لمبے سجدے کرنا نہ ہوتا تو میں دنیا میں رہنا پسند نہ کرتا اور اگر علماء کی مجلس میں بیٹھ کر ان کی باتوں کو سن سن کر استفادہ کرنا نہ ہوتا تو میں دنیا میں رہنا پسند نہ کرتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر تو صحیح بات ڈالی جاتی تھی، فرشتے ان کی زبان پر بولتے تھے، وہ فرما رہے ہیں کہ یہ تین کام دنیا میں نہ ہوتے دنیا میں رہنے کا کوئی مزہ نہیں ہے، دعوت تعلیم اور عبادت، اس لیے اپنے آپ کو اس رخ پر لے کر اجتماعی طور پر چلنا ہے، (انشاءاللہ)*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*☞ __ روانگی کی اہم ہدایات _,*
*★_ 1 امیر کی اطاعت:- ہم نکل رہے ہیں اللہ کے راستے میں، ہمیں اپنے امیر کی اطاعت کے ساتھ چلنا ہے، امیر کی اطاعت ایک اہم مسئلہ ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے میدان میں اس 40 صحابہ کی جماعت کا ذمہ دار بنایا جس کو جبل احد پر متعین کیا تھا، ان کی اطاعت کرنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا تھا، اللہ تعالی نے ان 40 کے نافرمانی کرنے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ایک عام صحابی تک سب کو حالات میں گرفتار کر دیا، سب پر حالات آئے،*
*★_ یہ نہیں کہ مجموعہ کی نافرمانی سے صرف مجموعہ بگڑے گا، یا صرف ایک علاقے والوں نے ایسا کیا ہے سب پر فرق نہیں پڑے گا، ساتھ چلنے والے جزو کی نافرمانی کا اثر کل پر پڑے گا، آپ دیکھیے احد کے میدان میں سب پر حالات ائے، صرف اس پر کہ میدان کے ایک حصے نے ایک جماعت کے چند ساتھیوں نے امیر کی اطاعت نہیں کی، اس پر سارا میدان احد ہاتھ سے نکل گیا،*
*★_ اس لیے امیر کی اطاعت کے ساتھ چلو، امیر جس چیز کا حکم کرے اس کو پورا کرو، جب تک تمہیں تمہارا امیر نماز چھوڑنے پر اور کفر پر آمادہ نہ کرے اس وقت تک اس کی اطاعت کرو، یہاں تک فرما دیا کہ اطاعت میں اتنی وسعت ہے، یہاں تو کرنے کے کاموں میں بھی امیر کی مخالفت ہے، وہاں یہ فرمایا کہ اگر وہ تمہیں کوئی حکم دے حکم پورا کرو، اس کی اطاعت کی انتہا یہاں تک ہے جب تک وہ تمہیں کفر پر آمادہ نہ کرے، نماز چھوڑنے کا حکم نہ کرے،*
*★_ 2- دنیا کی محبت دل سے نکالو :- ہمارا اس راستے میں چلنا خود دعوت ہے، نظریں نیچے ہو، دنیا کی چیزوں کو محبت کی نظر سے نہ دیکھنا ورنہ پہلے سے زیادہ دنیا کی محبت لے کر واپس جاؤ گے، جس چیز کو دیکھو سمجھو مٹی ہونے والی ہے، ہر چیز کو قبر کی مٹی اور ہر چیز کو کائنات کے ختم ہونے کے تصور کے ساتھ دیکھو گے تو رفتہ رفتہ چیزوں کی محبت دل سے نکلے گی،*
*★_ یہ راستہ بہت مؤثر ہے، اس راستے میں جس چیز کو سوچو گے وہ حاصل ہو جائے گی، حدیث میں فرمایا جو اس راستے میں جس ارادے سے نکلے گا وہ چیز مل جائے گی اللہ اور اس کے رسول نہیں ملیں گے، اس راستے میں نکل رہا ہوں تاکہ مقدمہ جیت جاؤں، قرض ادا ہو جائے، فلاں عورت سے شادی ہو جائے، ان ارادوں سے کیوں نکلے، اللہ اور اس کے رسول کے ارادے سے کیوں نہ نکلے ؟ اللہ اور اس کے رسول کے ارادے سے نکلنے والے لوگ وہ ہیں جو سوائے ہدایت کے ملنے کے کسی اور چیز کے ملنے کا ارادہ نہ کرے،*
*★_ امیر کی اطاعت کے ساتھ چلنا ہے, دنیا کی باتیں نہ ہو نہ ہی دنیا کی نیت ہو, صرف ہدایت کی نیت رکھیں, کوئی چیز نہ خریدی جائے سوائے اس کے کہ کوئی چیز ضرورت کی لینے کے لیے امیر سے اجازت لو, امیر مشورہ کرے کہ فلاں چیز کی ضرورت آ گئی ہے آپ سب کی کیا رائے ہے، اس طرح سب کے اجتماعی مشورے سے ضرورت کی چیز لینی چاہیے،*
*★_ اپنی ضرورت کا سامان اس طرح ساتھ لے کر چلو کہ خروج کے زمانے میں ایک بھی ضرورت کی چیز کے لیے بازار نہ جانا پڑے، بازار جانا صرف انفرادی دعوت کے لیے ہو، شیطان بازار لے جائے گا، تو تو علماء کی زیارت کے لیے جا رہا ہے، چلو بازار سے ہو کر چلو، شیطان مشورہ دے گا ہدیہ دینا سنت ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علماء کی تعظیم کرو، تم تو علماء کے لیے بازار جا رہے ہو، شیطان بازار میں لے جا کر ایمان کی اعمال کی آمدنی کو ختم کر دے گا، شیطان اہل حق پر حق کے راستے سے آتا ہے، علماء کو ہدیہ دینا ہے ساتھ لے کر چلو، یہاں سے ساتھ لے کر جاؤ گے تو اور اجر ملے گا,*
*★-3 پیدل زیادہ چلو, :- اللہ کے راستے میں نکل کر کسی سے سوال بھی نہ ہو اصراف بھی نہ ہو ، اجتماعی طور پر جہاں کا رخ بنا ہے وہاں جاؤ، ٹرین میں بس میں سفر کرو، اصول آداب کا خیال رکھو، جہاں تک ہو سکے پیدل چلو، پیدل چلنا اس راستے میں سواری پر بہت مقدم ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جیسے ہی اس راستے میں پیدل چلنے کے فضائل سنے اپنی سواریوں سے کود گئے، سب کے پاس سواری تھی لیکن ایک صحابی بھی سواری پر چلتا نظر نہیں ا رہا تھا کیونکہ اعلان کیا گیا تھا اجتماعی طور پر کہ اللہ کے راستے میں پیدل چلنا جہنم کی اگ کو حرام کر دے گا، جو جہنم کی آگ کا یقین رکھتے تھے سواری سے اتر گئے کہ اس سے بہتر موقع کیا ہوگا ؟*
*★_ اللہ کے راستے میں پیدل چلنا سب سے زیادہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے والا ہے، جہنم جو اللہ کے غضب کا، غصے کا سب سے بڑا مظہر ہے اس راستے کے پیدل چلنے سے وہ جہنم حرام ہو سکتی ہے تو دنیا میں جو جہنم کے مناظر ہیں وہ کیسے ختم نہ ہوں گے ؟*
*★_4 _مقامی لوگوں کو ساتھ لے کر کام کرو :- جہاں کا رخ بنا ہے وہاں جاؤ، مسجد میں سنت کے مطابق داخل ہوں، وقت ہے مکروہ وقت نہیں ہے، عصر کے بعد کا وقت فجر کے بعد کا وقت، تو چاہیے کہ تحت المسجد ضرور پڑھیں، دو رکعت نماز تحت المسجد پڑھ کر امام صاحب، معجن صاحب خادم صاحب جو بھی وہاں ہوں انتہائی اکرام کے ساتھ انہیں اپنے مشورے میں شامل کریں، انہیں ساتھ لیں، ان کا بہت اہتمام کریں اور ساتھ لے کر کام کریں، جماعت یہ نہ سوچے کہ ہمارا کام ہے، امام صاحب کا معجن صاحب کا کام نہیں ہے، امام صاحب کے بغیر نماز نہیں پڑھ سکتے کام کیسے کر سکتے ہو ؟ ان کو ساتھ لیں اعتماد میں لو اپنی جماعت کے انے کا مقصد بتاؤ،*
*★_ اس طرح مقامی لوگوں کو بھی ساتھ لے کر مشورہ کرو, مقام ساتھی اس وقت نہیں ہیں تو اپنا مشورہ کر لو, اگلے مشورے میں مقامی لوگوں کو بھی ساتھ لو, مقامی ساتھیوں سے بستی کے حالات معلوم کرو, بستی کے لوگ کب فارغ ہوتے ہیں, ان کے فراغت کے وقت میں مقامی ساتھی کو رہبر بنا کر اپنے ساتھی کو متکلم بنا کر جماعتیں بناؤ اور جماعتیں بنا کر مسجد میں عمل ہو رہا ہو اور یہ جماعت باہر ملاقاتیں کر کے دعوت دے کر مسجد کے ماحول میں لانے کی کوشش کریں،*
*★_ 5- ہر امتی کی تشکیل کرو :- ہر جگہ سے نقد جماعتیں نکالنی ہے، جنہیں آپ تیار کر لیں ان کی وصولی کریں، عوام کو خواص سب سے ملاقات کریں، خواص سے ملاقات یہ بھی گشت کی ملاقات کی ایک شکل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جہاں جاتے وہاں کے خواص سے بھی ملاقات کرتے، اس ترتیب سے ہمیں بھی علماء کرام اور جو خصوصیت رکھتے ہیں بستی کے بڑے عہدے دار سیاستدان سب سے ملاقات کرنی چاہیے، ان کو بھی اپنے ساتھ کام میں شریک کریں،*
*★_ تشکیل سب کی کریں، کسی کے دنیاوی مشاغل سے متاثر نہ ہوں، ہمیں ہر امتی سے اس کی جان مال اس کا وقت ایک تہائی مطلوب ہے، ہر سال چار ماہ، ماہانہ دس دن، روزانہ آٹھ گھنٹے، یہ ہر امتی سے مطلوب ہے، اگر عملی طور پر خود کرو گے تو وصول کرنا اسان ہو جائے گا، اس کی خوب جم کر دعوت دیں، پھر جو جتنے پر راضی ہو جائے اس کو قبول کر لو، تین دن بھی کوئی دے قبول کر لو، مسجد کے ماحول میں رکھ کر اس کو چار مہینے کے لیے تیار کرو، یہ نہیں کہ چھٹی کر دو، جو مسجد کے ماحول میں ا جائے اسے آگے بڑھاؤ، یہ نہیں کہ مدت پوری کر کے واپس کر دو، صحابہ کرام کا معمول تھا جس کو ماحول میں لاتے تھے اس کو ترقی دیتے تھے،*
*★_6- اصل ترقی کیا ہے ؟ :- املہ ذمہ داروں کے ساتھ لینے سے بنتا ہے، اس لیے ہر ضلع کے ہر علاقے کے ہر صوبے کے بڑوں سے تعلق ہمیشہ رکھو، جب تک سارے عالم سے انے والے تقاضوں کے ماحول میں نہیں رہوگے اس وقت تک کام کرنے والے عالمی سطح پر نہیں ائیں گے، کام میں ترقی نہیں ہوگی، کام کرنے والے اگے نہیں بڑھیں گے، یہ اپنے محلے پر گشت کر کے سمجھیں گے ہمارا کام پورا ہو گیا، ہمارے معمولات پورے ہو رہے ہیں، معمول کا پورا کرنا ترقی کا ذریعہ نہیں، یہ خیال غلط ہے کہ معمول کا پورا کرنا ترقی کا ذریعہ ہے، نہیں! عبادت میں آعمال میں اذکار میں دعوت میں ہر ایک عمل میں معمول سے بڑھ کر کرنا ترقی ہے،*
*★_ اپ دیکھیں, دکان چھوٹی تھی بڑی ہو گئی، ایک تھی چار ہو گئی، پہلے پھیری لگاتا تھا اب کارخانہ بنا لیا، دنیا کے ہر اعتبار سے توقع پر ہے دعوت کے معاملات جس سطح پر تھے اسی سطح پر آج تک ہیں اور دعوت کے معمولات کو پورا کر لینے کو ترقی سمجھ رہے ہیں، نہیں میرے دوستو بزرگوں ! ہر چیز میں اپنے معمولات سے اگے بڑھنا ترقی ہے،*
*★_7- امت طلب پر ہے :- اہل مشاعل سے، دنیا داروں کی دنیا سے، دعوت دینے میں متاثر نہ ہونا چاہیے، ہمارے کام کا مقصد امت کی جانی مالی اور عقلی صلاحیتوں کو حق کی طرف پھیرنا ہے، جو صلاحیتیں دنیا کی چیزوں میں لگ رہی ہیں، ان تمام صلاحیتوں کو دین پر لگانے کے لیے تیار کرنا ہے، ساری دنیا کی نقل حرکت کی طرف ان کی صلاحیتوں کو پھیرنا ہے،*
*★_ ان کے مال شادیوں پر خرچ کرنے کے لیے نہیں ہیں، مال اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے ہے، امت طلب پر ہے، جب امت میں طلب پیدا ہو جائے اور اہل دین ان کی طلب کو پورا نہ کریں اللہ تعالی ان سے سخت حساب لیں گے، میری بات یاد رکھنا اللہ نے جن کو علم دیا ہے، جن کو مال دیا ہے اگر طلب والوں کی طلب کے ان کے ذریعے پوری نہ ہوئی تو اللہ تعالی ان کو نہیں پکڑیں گے جن کو طلب ہے بلکہ ان کو پکڑیں گے جن کی وجہ سے طلب پوری نہیں ہوئی، حضرت فرماتے تھے- جو نہیں جانتے ہیں اللہ ان کو نہیں پکڑیں گے، اللہ ان کو پکڑیں گے جنہوں نے جانتے ہوئے امت کی طلب کو علم کے اعتبار سے پورا نہیں کیا، امت کی طلب کو دین کی دعوت کے اعتبار سے پورا نہیں کیا،*
*★_ اس لیے جم کر تشکیل کی جائے ہر جگہ، جہاں بھی آپ چار ماہ والوں کو دیکھیں آپ ان کو بحروں کے لیے تیار کریں، زیادہ سے زیادہ خرچ پر آمادہ کرے، اللہ کے راستے میں نکلنے والی ہر جماعت جس طرح مقامی کام کے لئے لوگوں کو تیار کر رہی ہیں، ملک کے اندر کے لیے چار ماہ کے لیے تیار کر رہی ہیں، اسی طرح ہر نکلنے والی جماعت چار ماہ لگائے ہوئے ساتھیوں کو سارے عالم میں پھرنے کے لیے نقد تیار کریں، یہ ہر جماعت کا کام ہے کہ ہر امتی کو با اعتبار عالم کے لیے تیار کریں، جس خرچ پر بھی تیار ہو جائے ان کو وہاں کے مقامی ساتھیوں کے حوالے کر دیا جائے اور مقامی ذمہ دار ساتھی ان کو نظام الدین بھیج دے کہ یہ جماعت فلاں بستی سے تیار ہوئی ہے، یہ ان کے اخراجات ہیں ، جہاں کا رخ بھی نظام الدین سے طے ہو جائے گا انشاء اللہ وہاں کے لیے نکلیں گے،*
*★_ اس طرح ہمیں ہر جگہ سے نقد جماعتیں اپنے ملک کے لیے بیرون ملک کے لیے چار ماہ کے لیے نکالنی ہیں، چلے کی دعوت مت دینا چار مہینے کی دعوت دینا تاکہ امت سمجھ لے کہ ہر امتی سے تہائی کا مطالبہ ہے، اگر وہ چلے کے لیے ائے تو قبول کر لینا (واپس نہ کرنا کہ نہیں ہم تو صرف چار ماہ والوں کو ہی قبول کریں گے) لیکن چلے کے درمیان چار ماہ کے لیے تیار کرتے رہنا, ماحول میں آ کر آدمی اگے بڑھتا ہے, امت سے تیاہی کا مطالبہ ہے, تم ڈھائی گھنٹے کی دعوت نہ دینا اٹھ گھنٹے کی دعوت دینا, کوئی ڈھائی گھنٹے دے دے تو قبول کر لینا تاکہ امت میں اس بات کا احساس باقی رہے کہ ہم کم کر رہے ہیں، ہمیں زیادہ کرنا چاہیے، کم کی دعوت دو گے تو زیادہ کا فکر نہ ہوگا، زیادہ کی دعوت دو گے تو کمی کا احساس ہوگا،*
*★7_ پانچ آعمال کی دعوت:- ہر مسجد میں پانچ آعمال اہتمام سے قائم کرنے ہیں، جتنی بھی جماعتیں اللہ کے راستے میں جا رہی ہیں یہ جماعتیں مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر دو جماعتیں بنا لیں، ایک جماعت مسجد میں رہے جس میں وہاں کے مقامی ساتھیوں کے ساتھ دو ساتھی اپنی جماعت کے جوڑ کر اسی طرح باقی تمام ساتھیوں کی مخلوط جماعتیں بنا کر محلے کے گھروں میں دفتروں میں ہوٹلوں میں پارکوں میں ہر جگہ ملاقاتیں کرائے، ایک جماعت مسجد میں عمل کرے باقی ساتھی باہر ملاقاتیں کریں، تشکیل اجتماعی ماحول چاہتی ہے، جب دیکھو کہ مسجد میں لوگ جمع ہیں منتخب احادیث میں سے اللہ کے راستے کے فضائل سنا کر، بہت سے فضائل زبانی یاد نہیں رہتے اس لیے منتخب احادیث میں سے سنا کر ان کو اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے تیار کریں،*
*★-8_ واپس لوٹنے والوں کو ہدایات :-ایک بڑا مجمع یہاں سے واپس جانے والا ہے، اول تو اس پر استغفار کریں کیونکہ صحابہ کی یہ ترتیب نہیں تھی کہ مسجد میں جمع ہو کر کوئی واپس چلا جائے، سو فیصد صحابہ نکل جایا کرتے تھے، وہ منافقین تھے جو ایک دوسرے کو لے کر بغیر کسی عذر کے کھسک جایا کرتے تھے، اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے ہم کھسکنے والے نہیں ہیں، ہم جمنے والے ہیں، مسجد نبوی میں سو فیصد صحابہ نکلنے کے لیے جمع ہوتے تھے،*
*★_ ہم عزم کریں ارادہ کریں, انشاءاللہ کام کو کام بنا کر کریں گے, فرصت تو موت تک نہیں ملے گی، ہمیں اپنے اپ کو دنیاوی تقاضوں سے نکالنا پڑے گا، سب سے آسان راستہ وقت فارغ کرنے کا دین سے اور دین کے کام سے، دعوت کے کام سے دنیاوی کاموں کے لیے وقت نکالا کرو،*
*★_ بس ترتیب پلٹ لو گے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، سب کے لیے آسان ہو جائے گا، ابھی مشکل یہ ہے کہ ہم تشکیل بھی کرتے ہیں تو کہتے ہیں بھائی اپنے دنیاوی وقت میں سے کچھ وقت دین کے لیے فارغ کرو، یہ نکمے پنے کی بات ہے، جس کام کے لیے اللہ نے بھیجا تھا اس کام کے لیے وقت نکلواتے ہیں، اس کام میں سے جس کے لیے بھیجے نہیں گئے تھے، ترتیب الٹی ہے، وصولیاں بھی غلط ترتیب سے ہو رہی ہیں، ترغیب بھی غلط دی جا رہی ہے، دنیا سے وقت نکالو دین کے لیے، یہ نہ کہو بلکہ یوں کہو ہم دین اور دعوت میں سے کچھ وقت نکالیں دنیا کے لیے، یہ اصل صحابہ کی ترتیب ہے،*
*★_ اگر ہم نے ہم میں سے سب اجتماعی طور پر تشکیل کا رخ یہ بنا لیں جو رخ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا تو انشاءاللہ آسانی نظر ائیں گی، اور دنیاوی کاموں میں فرشتے ا کر مدد کریں گے، یہ حدیث سے ثابت ہے کہ جو اللہ کے بندوں کو اللہ کے پیغام پہنچانے میں لگتے ہیں اور مسجدوں کو آعمال سے اباد کرتے ہیں اللہ ان کے دنیا کے کاموں میں فرشتوں کو مددگار بنا دیتے ہیں، اس لیے جو واپس جا رہے ہیں عزم کریں ارادے کریں کہ اپنی مسجدوں کو پانچ اعمال اور اپنے گھروں میں پانچ اعمال پابندی سے کریں گے، ساری دنیا کی بستیاں مدینہ منورہ کے معمول پر آ جائیں گی اگر ساری دنیا کی مسجدیں مسجد نبوی کے معمول پر آ جائے،*
*★_ آپ محنت کریں گے تو اپ کی محنت اپ کی کوشش لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا اصل ذریعہ بنے گی، اگر لوگوں کی غلط فہمیوں کو بیٹھ کر سمجھا کر دور کرنا چاہو گے کبھی نہیں ہوگی، غلط فہمی کو دور کرنے کا سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ تم انہیں اپنی مسجد میں عمل کر کے دکھلا دو، جب تک عملی شکل سامنے نہیں ہوگی یہ اختلاف بڑھتا جائے گا اور بات پر بات نکلتی چلی جائے گی، باتوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے مسئلے کا حل کام سے ہوگا،*
*★_ حدیث میں ایک ایسی شرط لگا دی گئی ہے کہ اگر اس شرط کو پورا نہ کرے تو خدا نہ کرے محنت ضائع بھی ہو سکتی ہے، اس حدیث کو ہر قدم پر ہر موقع پر یاد رکھو، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی سے جو اعلان کرنے پر متعین تھے ان سے اعلان کروایا (حدیث کا مفہوم ہے) جاؤ صحابہ میں جا کر اعلان کر دو کہ جو صحابی دوسروں کے لیے راستوں کو بند کریں گے یا جگہ کو تنگ کریں گے ان کا اللہ کے راستے میں نکلنا اللہ کے یہاں قبول نہیں ہوگا, میرے اپ کے سب کے ڈرنے کی بات ہے, چلنے میں اس کا بہت دھیان رکھنا پڑے گا, کسی کی کھیتی کو کسی کے گھر کو کسی کے راستے کو کسی کی گاڑی کو کوئی نقصان نہ پہنچے، جہاں کہیں بھی چھوٹا بڑا اجتماع ہوا کوے وہاں کے ذمہ دار اس حدیث کو ضرور بیان کر دیا کریں،*
*★_ حکومتوں کے جو ٹریفک کا نظام ہے، اس کو اپنے اجتماع کے زعام میں آ کر کہ اجتماع تو ہمارا ہے، حضرت فرماتے تھے حکام کو مطمئن کرو یہ تمہارے کام میں معاون ہوں گے، اس لیے واپس جانے میں ہم ٹریفک کے نظام کی رعایت کریں، ٹریفک کے نظام کی رعایت کرنا جان بچانے کی غرض سے فرض ہے، یہ حکومت کا قانون نہیں ہے یہ شریعت کا قانون ہے، ٹریفک کے نظام کی مخالفت شریعت کی مخالفت ہے کیونکہ ٹریفک کا نظام حفاظت کے لیے ہے، ہمارا کام کرنے والا، وہ کسی بھی شعبے میں حکومت میں ہے، کسی دفتر کے کسی ڈیپارٹمنٹ میں ہے، کام کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ دعوت کے کام کو ان کے شعبے میں لانے میں ان کے شعبے کے بڑوں کو پوری طرح مطمئن کیا جائے اور انتظام کرنے والوں کے لیے بھی اللہ سے ہدایت کی، اجر کی دعا کرنا یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے،*
*#_ الحمدللہ مکمل ہوا _,*
*💤_ ایڈمن کی ڈائری - حق کا داعی، (مرکز نظام الدین دہلی) _,*
╨─────────────────────❥
💕 *ʀєαd,ғσʟʟσɯ αɳd ғσʀɯαʀd*💕
*❥✍ Haqq Ka Daayi ❥*
http://haqqkadaayi.blogspot.com
*👆🏻 ہماری پچھلی سبھی پوسٹ کے لئے سائٹ پر جائیں ,*
▉
0 Comments